Wednesday , December 13 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کیرامیری میں غیرقبائیلی عوام کا زبردست احتجاج

کیرامیری میں غیرقبائیلی عوام کا زبردست احتجاج

اجلاس میں شرکت سے روکنے پر سخت برہمی ، پولیس کے ساتھ بحث و تکرار

کیرامیری۔ 13 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) قبائیلی علاقوں میں زندگی بسر کرنے والے غیرقبائیلی عوام کے مسائل کی یکسوئی کیلئے اوٹنور میں منعقدہ مہا سبھا میں جانے والے عوام کو کیرامیری میں روک دیئے جانے پر حالات کشیدہ ہوگئے۔ تفصیلات کے بموجب قبائیلی علاقوں میں زندگی بسر کرنے والے غیرقبائیلی عوام کو حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے کئی قسم کی اسکیموں اور کئی مفادات سے محروم رہنا پڑتا ہے اور ان کی زرعی زمین کو نہ تو پٹہ دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے زمینوں کو بینک سے قرض لینے کیلئے پہانی (سند) حاصل ہوتی ہے اور ان غیرقبائیلی عوام کی رہائشی زمین کا بھی اس علاقہ میں رجسٹریشن بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان کو گھر بنانے کے لئے بینک سے قرض بھی حاصل نہیں ہوتا اور ان کو کسی قبائیلی شخص کی زمین خریدنے کا حق ہوتا ہے اور نہ ہی یہ لوگ اپنی زرعی زمین کسی غیرقبائیلی شخص کو فروخت کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں رہنے والے غیرقبائیلیوں کے لئے بھی کئی پابندیاں عائد ہیں جس سے یہاں کے غیرقبائیلیوں کو کئی قسم کی دشواریاں درپیش ہیں۔ ان میں سے کچھ بنیادی مسائل کی یکسوئی اور ان علاقوں میں زندگی بسر کرنے والے غیرقبائیلیوں کی رہائشی زمین کا رجسٹریشن اور ان کے زرعی زمین کے لئے پختہ پٹہ کے حصول کیلئے گزشتہ کچھ یوم سے مہم چلائی جارہی ہے۔ اس ضمن میں ضلع عادل آباد کے تمام قبائیلی منڈلوں میں اجلاس بھی منعقد کئے گئے اور آج ضلع عادل آباد کے اوٹنور میں ایک ضلعی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ضلع کے تمام قبائیلی منڈلوں کے غیرقبائیلی عوام کو کثیر تعداد میں شریک ہوکر اس جلسہ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی گئی تھی جس کے لئے آصف آباد، والکڑی، تریانی اور کیرامیری منڈل کے ہزاروں غیرقبائیلی عوام اس جلسہ میں شرکت کیلئے جیپ، لاریوں، آٹوز اور بسوں کے ذریعہ جارہے تھے کہ کیرامیری کے سب انسپکٹر ایم رمیش نے اپنی ٹیم کیساتھ ان سب کو انارپلی چوراہے پر یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ ان کے اعلیٰ عہدیداروں سے ان کو ہدایت ملی ہے کہ اس میں جانے والے تمام افراد کو روک دیا جائے جس پر یہ لوگ کافی برہم ہوگئے اور پولیس سے بحث و تکرار کرتے ہوئے راستہ روکو احتجاج شروع کردیا جس کی وجہ سے کئی کیلومیٹر تک ٹریفک جام ہوگئی اور یہ احتجاج کئی گھنٹوں تک چلتا رہا، اس کے بعد اس اجلاس میں شریک ہونے کا وقت ختم ہوتا دیکھ کر انہوں نے احتجاج ختم کیا۔

TOPPOPULARRECENT