Saturday , September 22 2018
Home / کیرامیری میں مسجد کے امام کا بہیمانہ قتل

کیرامیری میں مسجد کے امام کا بہیمانہ قتل

کیرامیری 22 اکٹوبر (سیاست نیوز) کل رات مستقر کیرامیری میں ایک دلسوز واقعہ پیش آیا جسے سن کر ہر مسلمان ششدر رہ گیا۔ تفصیلات کے بموجب اسماعیل نامی شخص نے اپنے عالم دین بہنوئی جان محمد رضوی 32 سال کا بڑے بے رحمانہ طریقہ سے قتل کردیا۔ جان محمد رضوی متوطن راجورا (مہاراشٹرا) کی شادی 4 سال قبل ابراہیم صاحب کی دختر سے ہوئی تھی۔ دونوں کی ازدواج

کیرامیری 22 اکٹوبر (سیاست نیوز) کل رات مستقر کیرامیری میں ایک دلسوز واقعہ پیش آیا جسے سن کر ہر مسلمان ششدر رہ گیا۔ تفصیلات کے بموجب اسماعیل نامی شخص نے اپنے عالم دین بہنوئی جان محمد رضوی 32 سال کا بڑے بے رحمانہ طریقہ سے قتل کردیا۔ جان محمد رضوی متوطن راجورا (مہاراشٹرا) کی شادی 4 سال قبل ابراہیم صاحب کی دختر سے ہوئی تھی۔ دونوں کی ازدواجی زندگی میں کچھ تنازعات چل رہے تھے جسے مستقر کے بارسوخ افراد نے حل کیا تھا اور وہ دونوں بخوبی زندگی گزار رہے تھے۔ گزشتہ 7 ماہ سے جان محمد رضوی جھری کی جامع مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کل بعد عصر وہ اپنی بیوی کے ساتھ اپنے خسر ابراہیم کے گھر آئے اور مغرب کی نماز پڑھانے کے لئے چلے گئے۔ مغرب کے بعد جان محمد جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے گھر کا دروازہ بند کرکے اسماعیل جوکہ 7 سال سے فوج میں ملازم ہے، جان محمدپر حملہ کرتے ہوئے سر اور گردن پر مار کر ہلاک کردیا اور ملزم اسماعیل نے خود کو کیرامیری پولیس کے حوالہ کردیا۔ خسر نے جان محمد رضوی کو ایمبولنس میں ڈال کر آصف آباد دواخانہ منتقل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ جھری کے مصلیان نے ایمبولنس کو جھری میں ہی روک دیا اور ملزم محمد اسماعیل کو اُن کے حوالہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راستہ روکو منظم کیا۔ اطلاع ملنے پر کیرا میری کے سب انسپکٹر جے امبیڈکر اپنی ٹیم کے ساتھ جائے واردات پر پہنچ گئے اور مصلیان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن جھری کے برہم عوام نے احتجاج ختم کرنے

سے انکار کردیا۔ بعدازاں سرکل انسپکٹر آصف آباد وینکٹیشورلو موضع جھری پہنچ کر ملزم کو سخت سزا دینے کا تیقن دینے پر مصلیان جھری نے احتجاج ختم کیا۔ جھری کے امام کے قتل کی اطلاع کے ساتھ ہی آصف آباد تعلقہ میں سنسنی پھیل گئی اور آصف آباد تعلقہ کے کیرا میری، سرداپور، دھنورا، جئے نور، سرپور (یو) کے سینکڑوں عوام جائے واردات پر جمع ہوگئے۔ پڑوسیوں کی اطلاع کے مطابق جس وقت عالم دین پر حملہ کیا گیا کسی قسم کے جھگڑے کی کوئی آواز سنائی نہیں دی جس پر پڑوسیوں نے اسے منصوبہ بند طریقہ سے قتل کرنے کا الزام لگایا۔ بعدازاں سرکل انسپکٹر آصف آباد وینکٹیشورلو اور کیرامیری سب انسپکٹر جئے امبیڈکر نے ملزم کے افراد خاندان پر قتل کا مقدمہ درج کرکے سب کو حراست میں لے لیا اور قتل کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔ اس دلسوز واقعہ کے بعد جامع مسجد جھری کے ہر شخص کو زار و قطار روتا ہوا دیکھا گیا۔

TOPPOPULARRECENT