Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / کیرلا میں تشدد بھڑکانے کیلئے آر ایس ایس کی سازش

کیرلا میں تشدد بھڑکانے کیلئے آر ایس ایس کی سازش

بم اور ہتھیاروں کی تیاری اور غیر مقامی کارندوں کا استعمال، اسمبلی میں چیف منسٹر کا بیان

تھروننتھاپورم۔19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ضلع کنور میں سیاسی تشدد پر بی جے پی۔ آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیف منسٹر کیرالا پی وجین نے آج کہا ہے کہ زعفرانی جماعت اور اس کی مجازی تنظیمیں عمداً نقص امن پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں تاہم انہوں نے یہ وضاحت کی کہ کنور میں کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کے لئے حکومت کھلا ذہن رکھتی ہے جیسا کہ کانگریس اور یو ڈی ایف اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے۔

چیف منسٹر نے کنور کی صورتحال پر تحریک التوا کی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے یہ بیان دیا۔ جبکہ کیرالا میں لیفٹ اینڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) برسر اقتدار آنے کے بعد ضلع کنور میں متواتر سیاسی جھڑپوں کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ بی جے پی کے واحد رکن اسمبلی اور راجگوپال نے کہا کہ حکومت کے جذبات قابل ستائش ہے لیکن اسے حقیقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کی یہ خواہش ہے کہ علاقہ میں پائیدار امن قائم ہو کیوں کہ ضلع کنور میں مسلسل تصادم اور تشدد کے واقعات سے بیرون ریاست کیرالا کا امیج متاثر ہورہا ہے۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ تشدد کی روک تھام کے لئے حکومت ممکنہ اقدامات کرے گی۔ مسٹر پی وجین جو کہ وزارت داخلہ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں کہا ہے کہ ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کنٹرول میں ہے اور علاقہ میں بحالی امن کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدبختانہ امر ہے کہ آر ایس ایس کے رویہ سے کنور میں پیچیدہ صورتحال پیدا ہوثگئی ہے جبکہ بی جے پی اور دیگر زعفرانی جماعتیں عمداً بدامنی پھیلانے کی کوشش میں ہیں۔

 

چیف منسٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقہ میں کشیدگی بھڑکانے کے لئے آر ایس ایس بم اور ہتھیار تیار کررہی ہے اور تشدد پھیلانے کے لئے باہر کے لوگوں کو لایا جارہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ سی پی ایم برسر اقتدار آنے کے بعد سے ضلع کنور میں 7 سیاسی قتل پیش آئے ہیں اور بتایا کہ صرف 5 قتل ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر کا آبائی مقام بھی کنور ہے اس الزام کو مسترد کردیا کہ یہ ضلع تشدد کی آماجگاہ بن گیا ہے اور کہا کہ یہ محض پروپگنڈہ ہے۔ دریں اثناء کانگریس کے رکن اسمبلی کے سی جوزوف جو کہ ضلع کنور سے تعلق رکھتے ہیں کہا ہے کہ سیاسی تشدد کیلئے حکمران سی پی ایم اور بی جے پی ذمہ دار ہے اور یہ ریمارک کیا کہ دونوں جماعتیں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں اور آنکھ کا بدلہ آنکھ رویہ ترک کردینے کی درخواست کی کہ اپوزیشن لیڈر امیش چنتالہ نے کہا کہ سی پی ایم۔ بی جے پی قائدین کے اشتعال انگیز بیانات سے تشدد بھڑک رہا ہے اگرچہ کہ انہوں نے چیف منسٹر کی پہل کا مقدم کیا لیکن تشدد پر قابو پانے میں پولیس کی ناکامی کے خلاف بطور احتجاج ایوان سے یو ڈی ایف ارکان کے ساتھ واک آئوٹ کردیا۔ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے وفد نے کل چیف منسٹر وجین سے ملاقات کرکے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی گزارش کی تھی تاکہ کنور میں سیاسی تشدد ختم کرنے کے لئے حکمت عملی پر غور کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT