Tuesday , December 11 2018

کیش لیس پیمنٹ کے رجحان میں بتدریج کمی

نئی دہلی ۔ 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) گذشتہ سال نوٹ بندی کے بعد حکومت نے کیش لیس پیمنٹ کی حوصلہ افزائی کی اور عوام کو کرنسی کی قلت کی وجہ سے کارڈ اور آن لائن پیمنٹس کے طریقے استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم گذرتے وقت کے ساتھ ملک بھر میں مجموعی طور پر نقدی پر مبنی لین دین کا روایتی طریقہ کار بحال ہونے لگا ہے جو اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے۔ نوٹ بندی سے قبل عوام کے پاس 17.01 لاکھ کروڑ روپئے نقدی کی شکل میں موجود تھے۔ ستمبر 2017ء میں یہ قدر 15.33 لاکھ کروڑ روپئے ہوگئی جو پرانی سطح کے قریب تر ہے۔ چنانچہ عوام نے دوبارہ نقد لین دین کو ترجیح دیتے ہوئے کیش لیس پیمنٹ سسٹم سے دوری اختیار کرلی ہے۔ نومبر 2016ء میں جب نوٹ بندی کا اعلان کیا گیا، الیکٹرانک لین دین کی قدر 94 لاکھ کروڑ روپئے تھی، مارچ 2017ء میں یہ 145.6 لاکھ کروڑ ہوگئی۔ اپریل 2017ء میں یہ قدر 109.6 لاکھ کروڑ ہوئی۔ پھر جولائی میں مزید گھٹ کر 107.3 لاکھ کروڑ اور 29 اکٹوبر کو ریکارڈ اعداد و شمار کے مطابق 99.2 لاکھ کروڑ روپئے ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT