Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / کیلیفورنیا میں پاکستانی نژاد جوڑے کی فائرنگ ، 14 ہلاک

کیلیفورنیا میں پاکستانی نژاد جوڑے کی فائرنگ ، 14 ہلاک

کرسمس پارٹی کے دوران ایک مسلح جوڑے کا خونریز حملہ، انکاونٹر میں رضوان اور تشفین ملک ہلاک

سیان فرانسسکو ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کیلیفورنیا میں معذورین کے ساتھ عوام کیلئے ترتیب دیئے گئے ایک سنٹر پر ہالی ڈے کرسمس پارٹی کے دوران خطرناک اسلحہ سے لیس ایک جوڑے نے اندھادھند فائرنگ کی، جس میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔ بھاری اسلحہ سے لیس پاکستانی نژاد نوجوان جوڑے نے کرسمس پارٹی پر بے تحاشہ فائرنگ کی۔ امریکہ میں 2012ء کے بعد سے یہ سب سے ہلاکت خیز فائرنگ تھی۔ بندوق برداروں نے حملہ کرنے والوں جیسا لباس پہنا تھا۔ اس جوڑنے ان لینڈ ریجنل سنٹر سیان بیرنار ڈئیو میں پارٹی کو نشانہ بنایا اور حملے کے فوری بعد قتل عام کے مقام سے ایک کالی ایس بودی گاڑی میں فرار ہوئے۔ پولیس نے ان کا طویل تعاقب کیا۔ چند گھنٹوں بعد بالآخر انہیں ایک انکاونٹر میں ہلاک کردیا گیا۔ سیان بیرنارڈینو پولیس نے جیروڈ بورگن نے پولیس انکاونٹر میں ہلاک ان دو مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت سید رضوان فاروق 28 سالہ اور تشفین ملک 27 سال کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ یہ دونوں پاکستانی نژاد شہری تھے۔ یہ فائرنگ اس وقت کی گئی جب کاونٹلی ہیلت ڈپارٹمنٹ کے ملازمین ایک پارٹی میں شریک تھے، جہاں زائد از 500 افراد موجود تھے۔ پولیس نے بتایا کہ سید رضوان فاروق اور تشفین ملک شادی شدہ تھے اور ان کی 6 ماہ کی ایک دختر ہے۔

فاروق کے برادر نسبتی فرحان خان کے مطابق فاروق اور ملک نے حال ہی میں شادی کی تھی۔ فاروق امریکہ میں پیدا ہوا تھا اور ایک امریکی شہری تھا۔ وہ کاونٹی ہیلت ڈپارٹمنٹ میں ایک ماہر ماحولیات کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہا تھا، جس نے کچھ دنوں کیلئے ان لینڈ ریجنل سنٹر پر بھی کام کیا تھا۔ فاروق بھی اس پارٹی میں شریک تھا لیکن وہ اچانک ’’غصہ‘‘ کے عالم میں پارٹی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ ایک تنازعہ کے باعث فاروق برہم تھا۔ وہ اور اس کی اہلیہ دھماکو ڈیوائس کے ساتھ واپس ہوئے اور ان کے ہاتھوں میں خطرناک رائفلس اور ہتھیار تھے۔ یہ دونوں کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔ پولیس کے عہدیدار کا کہنا ہیکہ فی الحال ہم کو اس حملے کا مقصد معلوم نہیں ہوا ہے اور ہم اس کو دہشت گرد حملہ ہونے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے۔ اس بات کا پتہ چلایا جارہا ہیکہ آخر ان کے پاس اتنے خطرناک ہتھیار کہاں سے آئے یا انہوں نے پہلے سے ہی اس کا منصوبہ بنایا تھا جس کو انہوں نے آج خوفناک طریقہ سے انجام دیا ہے۔ پولیس آفیسر نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ دونوں پارٹی سے نکل کر گھر پہنچے اور اس طرح کے کپڑے پہن کر واپس ہوئے ہوں۔ اس حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔ ان کی گاڑی سے بم جیسی دکائی دینے والا ڈیوائس بھی پایا گیا۔ اس واقعہ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر بارک اوباما نے کہا کہ ہم کو یہ ہرگز نہیں سوچنا چاہئے کہ یہ ایک معمولی واقعہ تھا جو اکثر ہوتا ہے ایسے واقعات دیگر ملکوں میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ یہ حملہ امریکہ میں ہونے والی فائرنگ کے واقعات میں سب سے زیادہ خطرناک تھا۔ صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ میں گن کنٹرول اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں اب بڑے پیمانہ پر فائرنگ کا چلن عام ہورہا ہے اس کو روکنا ضروری ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق کوئی بھی شخص بندوق خرید سکتا ہے اس کا پس منظر جانچ کرے بغیر بندوق فروخت کی جاتی ہے۔ امریکہ میں اس سال فائرنگ کے 300 سے زائد واقعات ہوئے ہیں۔ سال 2012ء میں کنکٹی کٹ میں ایک اسکول میں فائرنگ ہوئی تھی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT