Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / کیمیائی مادوں سے پکائے گئے پھل صحت کیلئے خطرناک

کیمیائی مادوں سے پکائے گئے پھل صحت کیلئے خطرناک

حیدرآباد ۔ 11 مئی (سیاست نیوز) ڈاکٹروں ماہرین تغذیہ اور بڑے بوڑھوں کا ماننا ہیکہ تربوز ہو یا خربوز آم ہو یا دیگر میوے اگر انہیں جلد سے جلد پکانے کیلئے کیمیائی مادوں کا استعمال کیا جائے تو اسے کھانے یا استعمال کرنے والوں کی صحت پر مضراثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹروں اور ماہرین تغذیہ کے خیال میں دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد اور اطراف و ا

حیدرآباد ۔ 11 مئی (سیاست نیوز) ڈاکٹروں ماہرین تغذیہ اور بڑے بوڑھوں کا ماننا ہیکہ تربوز ہو یا خربوز آم ہو یا دیگر میوے اگر انہیں جلد سے جلد پکانے کیلئے کیمیائی مادوں کا استعمال کیا جائے تو اسے کھانے یا استعمال کرنے والوں کی صحت پر مضراثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹروں اور ماہرین تغذیہ کے خیال میں دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں ایسے تربوز فروخت کئے جارہے ہیں جس میں مضرت رساں کیمیائی مادوں کے پائے جانے کا احتمال رہتا ہے۔ یہ ایسے کیمیائی مادے ہیں جو پھلوں کو پکانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں حالانکہ ان کیمیائی مادوں کا استعمال غیرقانونی ہے۔ پھلوں کو جلد سے جلد پکانے کیلئے استعمال کئے جانے والے مہلک کیمیائی مادوں میں کرومیٹ، زردمتھیال اور سوڈان ریڈ شامل ہیں۔ شہر کے ایک ماہر تغذیہ کا کہنا ہیکہ آج کل بازار میں فروخت کئے جارہے زیادہ تر تربوز کو مصنوی طریقوں سے پکایا جارہا ہے۔ بیوپاری صارفین کو انتہائی سرخ تربوز کے ٹکڑے پیش کرتے ہیں اور صارفین تربوز کے سرخ ٹکڑوں کو دیکھ کر متاثر ہوجاتے ہیں لیکن انہیں پتہ نہیں چلتا کہ اس طرح کے سرخی مائل تربوز ان کی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس ماہر تغذیہ کا یہ بھی کہنا ہیکہ چند بیوپاریوں نے صارفین کو دکھانے کیلئے کہ تربوز بہت لال ہے تربوز میں سرخ ڈائی کے انجکشن لگا رہے ہیں بعض سرینجس کے ذریعہ تربوز میں سرخ رنگ داخل کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ڈرگس کنٹرول اور ایڈمنسٹریشن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہیکہ سڑکوں کے کنارے بیوپاری جو تربوز فروخت کررہے ہیں ان میں مہلک کیمیائی مادے ہوسکتے ہیں جنہیں تربوز پکانے کیلئے استعمال کیا گیا ہو۔ اس عہدیدار کا یہ بھی کہنا ہیکہ بیوپاری تو اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے کیمیائی مادے استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے صارفین کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ تربوز پر ایک یا دو دن میں دھبے نمودار ہوں تو سمجھتے کہ اس میں کیمیائی مادے اور رنگ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جن تربوزوں کو کیمیائی مادہ ملا کر پکایا جاتا ہے وہ گول شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس طرح ہم تربوز کی شکل و ہیئت کے ذریعہ پہچان سکتے ہیں کہ آیا اسے کیمیائی طریقہ سے تو نہیں پکایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہیکہ کاربائیڈ پھل کو پکانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ایسے کیمیائی مادے ہیں جو ایتھائیلن گیس پیدا کرتے ہیں اور یہ گیس بہت زیادہ گرمی کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح پھل بہت جلد پک جاتا ہے۔ ایک اور ماہر تغذیہ ڈاکٹر پی ایس ساگر کے خیال میں موسم گرما کے دوران نہ صرف تربوز بلکہ ترکاریوں میں بھی رنگوں کی آمیزش کی جاتی ہے۔ پھلوں اور ترکاریوں کو پکانے کیلئے لیڈکرومیٹ زردمیتھنال وغیرہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہیکہ میوؤں کو پکانے کیلئے جو کاربائیڈ استعمال ہوتا ہے اس سے انسانی جگر گردوں کو بہت زیادہ حد تک نقصان پہنچتا ہے جبکہ زرد میتھال کینسر، امراض شکم اور مردانہ اعضاء میں کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ لیڈکرومیٹ سے انسان خون کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ سوڈان ریڈ سے ہاضمہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہیکہ اس رجحان کو صرف اور صرف صارفین میں شعور پیدا کرتے ہوئے ہی روکا جاسکتا ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹانڈرڈ اتھاریٹی آف انڈیا کے ایک عہدیدار کے مطابق کیلشیم کاربائیڈ اور آکسی ٹاسین کے ذریعہ عام طور پر کچے پھلوں کو پکایا جاتا ہے اور پھلوں کا سائز بڑا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیلشیم کاربائیڈ جسے مسالحہ بھی کہا جاتا ہے ایک کیمیائی ایجنٹ ہے اور اس کے استعمال پر قانون انسداد غذائی ملاوٹ 1955ء کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے اس طرح اس کے قاعدہ 444A کے مطابق پھلوں کو پکانے میں کاربائیڈ گیس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT