Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / کیندریہ ودیالیاؤں میں ہندو دعاکے لزوم کیخلاف درخواست

کیندریہ ودیالیاؤں میں ہندو دعاکے لزوم کیخلاف درخواست

اقلیتی عقائدمتاثر، درخواست گذار کا دعویٰ، مرکز اور اسکول انتظامیہ سے سپریم کورٹ کی جواب طلبی

نئی دہلی ۔ 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے جس (درخواست) میں دعویٰ کیا گیا ہیکہ کیندریہ ودیالیہ کی تمام اسکولوں میں صبح کی اسمبلی کے دوران اس کے تمام طلبہ کو ان کے مذہبی عقائد کا لحاظ کئے بغیر ہندو مذہب پر مبنی ایک دعا لازمی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ جسٹس آر ایف ناریمن اور جسٹس نوین سنہا نے اس درخواست کی وصولی کے بعد حکومت کو نوٹس دی ہے جس میں کہا گیا ہیکہ ملک کے تمام کیندریہ ودیالیاؤں میں صبح کی اسمبلی میں اس ہندو مذہبی دعا کو مسلط کیا جارہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے ساکن ونایک شاہ نے کہا ہیکہ اس دعا کے طریقہ کار سے طلبہ سائنسی رجحان و مزاج کے فروغ مںی رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں کیونکہ اس میں خدا کا نظریہ اور مذہبی عقائد کو بے پناہ ترجیح دی گئی ہے اور طلبہ میں اس کو اندازفکر اور فکری عمل کے طور پر پیسوست کردیا ہے۔ درخواست گذار نے کہا کہ ’’اس (ہندو مذہبی دعا) سیکھنے کے نتیجہ میں طلبہ میں روزمرہ کی زندگی میں درپیش رکاوٹوں کا سامنا کرنے کیلئے ایک عملی اندازفکر کو فروغ دینے کے بجائے خدائی مدد اور پناہ حاصل کرنے کے رجحان کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے اور اس سے کھوج، تجسس و جستجو کے علاوہ اصلاح کا جذبہ کہیں اور گم ہوجاتا ہے‘‘۔ درخواست گذار ونایک شاہ نے مزید کہا چونکہ یہ دعا مسلط کی جارہی ہے چنانچہ اقلیتی برادریوں اور (ناستک) اور دیگر عبصیت پسند خاندانوں کے طلبہ اور ان کے والدین اس کو ایسا تسلط محسوس کرتے ہیں جو دستوری طور پر ناقابل اجازت ہے۔ ونایک شاہ نے عدالت سے یہ بھی عام اور مشترکہ دعا دستور کی دفعہ 28 کے تحت ’’مذہبی ہدایت‘‘ کی تعریف میں آتی ہے۔ چنانچہ اس پر بھی امتناع عائد کیا جانا چاہئے۔ دستوری دفعہ 28(1) نے کہا ہیکہ ایسے کسی بھی تعلیمی ادارہ میں مذہبی ہدایت نہیں دی جاسکتی جو مکمل طور پر سرکاری مالیہ سے چلائے جاتے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہیکہ ’’دعا کے متن سے ظاہر ہوتا ہیکہ یہ ہندو مذہب پر مبنی ہے اور مذکورہ بالا دیگر مذاہب اور غیرمذہبی عقائد کے اعتبار سے اپنی شکل اور مواد سے کافی مختلف ہے چنانچہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہیکہ آیا ملک بھر میں طلبہ اور اساتذہ پر حکومت نے مذکورہ بالا ’’مشترکہ دعا‘‘ کو مسلط کیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہیکہ ’’مدعی علیھان (مرکز اور کیندریہ ودیالیاؤں) کو صبح کی اسمبلی میں اس دعا کو فی الفور ختم کرنے کی ہدایت کی جائے اور طلبہ میں سائنسی علوم کو فروغ دیا جائے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT