Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کینسر کے علاج کے لیے پھنس یا کٹھل کا تیل فائدہ مند

کینسر کے علاج کے لیے پھنس یا کٹھل کا تیل فائدہ مند

آندھرا یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر ناگلا سریشا کی تحقیق پر پی ایچ ڈی کی ڈگری
حیدرآباد۔6جون(سیاست نیوز) کینسر کے علاج کے لئے پریشان دنیا کیلئے Jackfruitجسے اردومیں پھنس یا کٹھل کہا جاتا ہے اس کا تیل کافی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ آندھرا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی بائیو کیمسٹری کی ریسرچ اسکالر مسز ناگلا سریشا نے یہ تحقیق کرتے ہوئے آندھرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور انہوں نے اپنے تحقیقی مقالہ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پھنس کے تیل میں یہ خوبی ہے کہ وہ انسان کے جسم میں پیدا ہونے اور فروغ پانے والے کینسر کے جراثیم کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ نکالے جانے والے تیل میں ایسا مادہ پایا جاتا ہے جو کہ انسان کے جسم میں بڑھنے والی چکنائی کو کم کرتے ہوئے کینسر کے اسباب کو دور کرنے میں بے انتہاء معاون ہے۔مسز ناگلا سریشا نے بتا یا کہ تجربہ اور تحقیق کی غرض سے انہوں نے کٹھل یا پھنس نامی پھل کے تخم سے تیل نکالتے ہوئے اس میں پائے جانے والے ذرات کا معائنہ کرنے کے بعد یہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس تیل میں موجود قوت کینسر کے جراثیم سے مقابلہ کی صلاحیت رکھتے ہیں اسی لئے انہوں نے اس پر مزید تحقیق کی جس میں انہوں نے پایا کہ اگر پھنس سے نکلنے والے بیج کے تیل کے ذریعہ علاج شروع کیا جائے توکینسر کے علاج میں موجود دشواریوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔محقق کے مطابق اس پھل میں موجود حیاتیاتی مادوں کی تحقیق کے سلسلہ میں انہوں نے پروفیسر ٹی راگھو راؤ کی رہنمائی حاصل کی اور ان کی اس سرپرستی میں کی گئی اس تحقیق کو سرکاری مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق کو سرکاری مدد حاصل ہونے کی صورت میں کینسر کے علاج کیلئے تیار کی جانے والی ادویات میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔مسز سریشا نے کہا کہ انہیں ریاستی و مرکزی حکومت سے قوی امید ہے کہ اس تحقیق کی سراہنا کرتے ہوئے اسے سرکاری سرپرستی میں فروغ دینے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT