کینیائی ٹیم کی آمد‘ پاکستان میں ایک نئے باب کے آغاز کی امید

لاہور۔11ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ساڑھے پانچ سال سے ویران پڑے میدانوں میں کھیل بحال کرنے کیلئے کینیائی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی۔ لاہور کی نیشنل اکیڈمی میں کینیا کرکٹ ٹیم کو سخت سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے ۔ مہمان ٹیم قذافی اسٹیڈیم آئی تو اسٹیڈیم کے دروازے بند کردیئے گئے۔14گیٹ بند کرکے پہرہ لگا دیا گیا تھا۔ ان دروازوں پر اسکینر نصب کئے گئ

لاہور۔11ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ساڑھے پانچ سال سے ویران پڑے میدانوں میں کھیل بحال کرنے کیلئے کینیائی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی۔ لاہور کی نیشنل اکیڈمی میں کینیا کرکٹ ٹیم کو سخت سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے ۔ مہمان ٹیم قذافی اسٹیڈیم آئی تو اسٹیڈیم کے دروازے بند کردیئے گئے۔14گیٹ بند کرکے پہرہ لگا دیا گیا تھا۔ ان دروازوں پر اسکینر نصب کئے گئے ہیں۔ کینیا کی کرکٹ ٹیم لاہور پہنچ گئی ہے۔وہ پاکستانی اے ٹیم کے خلاف پانچ ونڈے کھیلے گی۔ پی سی بی نے رواں سال بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں کا اعتماد جیتنے کے لئے سفارتی راستوں کا استعمال شروع کیا اور اسی نتیجہ میں کینیا کی ٹیم کی پاکستان آمد ہوئی ہے۔ ٹیم کے کپتان شیم نگوچے اور کوچ اسٹیو ٹیکولو نے کہا کہ انہیں پاکستان آنے پر کوئی ڈر یا خوف نہیں ہے۔ وہ کرکٹ کھیلنے آئے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی میزبانی سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ پی سی بی نے ہمیں بیرونی صدر کے مساوی سیکیورٹی فراہم کی ہے۔ ٹیکولو نے کہا کہ ہماری ٹیم کو یہاں سیکھنے اور اچھی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا ۔

ہمارے کھلاڑی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہم چند نوجوان کھلاڑیوں کو ساتھ لائے ہیں۔ پاکستان دنیا کے صف اول کی کرکٹ ٹیم ہے یہاں بین الاقوامی کرکٹ کا نہ ہونا افسوسناک ہے۔ کینیا کی کرکٹ ٹیم کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں ایرپورٹ سے قذافی سٹیڈیم سے متصل نیشنل کرکٹ اکیڈمی لایا گیا جہاں وہ قیام کرے گی۔ کینیا کی ٹیم 16ارکان پر مشتمل ہے جبکہ ٹیم انتظامیہ میں چھ ارکان سمیت 22افراد پاکستان پہنچے ہیں۔ کینیا کی ٹیم کی آمد کے موقع پر لاہور میں سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور شہر بھر میں پولیس کے ہمراہ رینجرز کی بھاری جمعیت تعینات ہے جبکہ سیکیورٹی خدشات کے سبب قذافی اسٹیڈیم جانے والا راستہ عوام کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ قذافی اسٹیڈیم کے اطراف دفاتر، دکانوں اور ریسٹورنٹس کو دو ہفتے کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کینیا کرکٹ ٹیم کے کپتان اور کوچ سے ملاقات کی اور انہیں خوش آمدید کہا۔

TOPPOPULARRECENT