Wednesday , October 17 2018
Home / دنیا / کینیڈا کے کیوبک صوبہ میں حجاب پر امتناع کتنا لازمی اور کتنا غیرلازمی

کینیڈا کے کیوبک صوبہ میں حجاب پر امتناع کتنا لازمی اور کتنا غیرلازمی

مکمل چہرہ ڈھانپنے والی خواتین کی تعداد بیحد کم

مانٹریال (کینیڈا) ۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) گذشتہ ماہ یہاں ایک ٹرین پر حجاب پر عائد امتناع کے خلاف کچھ لوگوں نے نقاب اور اسکارف پہن کر احتجاج کیا تھا۔ قصہ دراصل یہ تھاکہ کیوبک میں مسلم مخالف قانون پاس کرتے ہوئے حجاب یا نقاب پہننے پر امتناع عائد کردیا گیا تھا جس کے مطابق کیوبک میں کوئی بھی حجاب پہننے والی خاتون سیول سرونٹ یا بلدیہ کی کچرا اٹھانے والی ملازم کے طور پر خدمات انجام نہیں دے سکتی تاوقتیکہ وہ اپنے چہرے سے نقاب نہ ہٹا لے۔ اسی طرح حجاب کا استعمال کرنے والی کوئی بھی خاتون ٹیچر نہیں بن سکتی۔ اپنے ٹیکسوں کی ادائیگی شخصی طور پر نہیں کرسکتی اور حجاب کی حالت میں کسی لائبریری سے کوئی کتاب بھی حاصل نہیں کرسکتی۔ یہی نہیں بلکہ اگر کوئی حجاب والی خاتون بس میں سفر کرنا چاہے تو لازمی ہوگا کہ وہ بس ڈرائیور کو اپنا چہرہ دکھائے بصورت دیگر اوبر کار منگواکر اپنا سفر مکمل کرے۔ کینیڈا کے بارے میں ہمیشہ یہی کہا جاتا رہا ہیکہ یہ بھی متعدد مذاہب اور تہذیبوںکا گہوارہ ہے اور رواداری یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے بارے میں بھی عالم اسلام کی رائے مثبت ہے۔ اس کے باوجود صوبہ کیوبک جہاں وزیراعظم نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا، میں گذشتہ ماہ چہرہ ڈھانپنے والے حجاب یا نقاب پر امتناع عائد کردیا، جس سے اس علاقہ میں غیرعیسائی مذاہب کے پیروکاروں کے سامنے ایک بڑا سوال پیدا ہوگیا۔ یاد رہیکہ کیوبک کینیڈا کا واحد فرانسیسی زبان بولنے والا صوبہ ہے۔ نئے قانون میں وضاحت کی گئی ہیکہ عوامی خدمات انجام دینے والوںکیلئے اپنے چہروں کو ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہوگی جس کی وجہ سیکوریٹی اور شناحت بتائی گئی ہے۔ سر پر پہنے جانے والے اسکارف کے استعمال پر کوئی امتناع نہیں اور نہ ہی قانون میں نقاب یا برقعہ لفظ کا استعمال کیا گیا ہے حالانکہ چہرہ ڈھانپنے والے نقاب یا حجاب کا استعمال بہت کم خواتین کرتی ہیں۔ اس کے باوجود اس پر امتناع سے ایسی خواتین خود کو غیرمحفوظ تصور کریں گی اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ ’’کوئی نہ کوئی‘‘ ان کی نگرانی کررہا ہے یا ان پر نظر رکھ رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT