Saturday , July 21 2018
Home / مضامین / کیونکر کامیاب ہوگی ’’میک اِن انڈیا‘‘ مہم؟

کیونکر کامیاب ہوگی ’’میک اِن انڈیا‘‘ مہم؟

ہندوستان کے سینکڑوں ہزار بازاروں میں ہندو دیوی، دیوتاؤں کے رنگ برنگے مورتیوں و مجسموں کی بہتات رہتی ہے۔ اکثر دکانداروں کو جانکاری نہیں ہوتی کہ یہ مورتیاں کہاں تیار ہوتی ہیں یا، اگر وہ جانتے بھی ہیں، کہیں گے نہیں۔ ہندوستان ہندو بھگوانوں کی بڑے پیمانے پر چین میں تیار کردہ مورتیوں کی درآمدات میں 2000ء سے مسلسل اضافہ ہی کرتا جارہا ہے اور یہ تعداد کروڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ دیوی، دیوتاؤں کی گھروں میں رکھے جانے والی مورتیوں کی طلب میں بڑھتی آمدنی اور جذبۂ ہندو قوم پرستی میں فروغ کے ساتھ ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ ہندوستان کی 82 فیصد آبادی ہندومت پر عمل پیرا ہے اور اُن کے گھر میں پوجا کیلئے مخصوص گوشہ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ غریب جو تقریباً 500 ملین (50 کروڑ) ہندوستانی ہیں اور جن کی 2.75 ڈالر فی یوم سے بھی کم کمائی ہوتی ہیں، وہ بھی ایسی چند اشیاء کے متحمل ہوسکتے ہیں، جن کی خردہ فروشی والی قیمتیں 3 ڈالر سے شروع ہوتی ہیں۔
اس پس منظر میں کئی سوالات اُبھرتے ہیں کہ کیوں ہندوستانی لوگ خود اپنے اعتقاد والی مورتیاں تیار نہیں کرتے ہیں اور کس طرح چینی تیارکنندگان حمل و نقل کا معاملہ اور 10 فیصد کی شرح کو ملحوظ رکھنے کے باوجود مقامی مینوفیکچررز کے مقابل کم قیمت پر فروخت کرپاتے ہیں؟ چین میں تیار بعض تجارتی مال بشمول قفلیں یا زیورات ہندوستان کے سربراہ کردہ خام مادوں سے بنایا جاتا ہے۔ ہندوستانی دکانات میں اور سڑکوں کے بیوپاریوں کے پاس معقول معیار کی کفایتی چینی اشیاء بشمول ایل ای ڈی لائٹنگ، الیکٹرانکس اور اسمارٹ فونس وافر تعداد میں ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے پاس باصلاحیت اور محنتی انٹریپرینرز ہیں، اور چونکہ چین میں مزدوری کی اُجرتیں بڑھ رہی ہیں، انڈیا بھی ’’دنیا کیلئے بڑا مینوفیکچرر‘‘ بن سکتا ہے۔ لیکن 2016ء میں دنیا کے مختلف ملکوں کو ہندوستانی تجارتی مال کی برآمدات 264 بلین ڈالر مالیت کی ہوئیں، جبکہ چین کی برآمدات کی قدر 2,098 بلین ڈالر رہی۔ چائنا۔ انڈیا باہمی تجارت مجموعی طور پر 4 کے مقابل 1 کے تناسب پر چین کے حق میں جھکی ہے۔ اشیاء کے معاملے میں یہ عدم توازن مزید ابتر (6:1) ہے۔
نریندر مودی زیرقیادت حکومت ہند نے اس طرح کے عدم توازن کو پلٹنے کی امیدوں کے ساتھ سپٹمبر 2014ء میں ’’میک اِن انڈیا‘‘ مہم شروع کی، تاکہ اپنے ملک میں مینوفیکچرنگ کے معاملے لیبر کی کمتر اُجرتوں کا فائدہ اٹھایا جاسکے، جو 92 سینٹس (1 ڈالر سے کم) فی گھنٹہ ہیں، جس کے مقابل چین میں مشرقی ساحل سمندر کے علاقے میں جہاں زیادہ تر چینی مینوفیکچرنگ انجام پاتی ہے، ورکرز کیلئے اُجرتیں زائد از 4 ڈالر فی گھنٹہ ہیں۔ ہندوستان کے ماہرین معاشیات نے چین کے ساتھ باہمی تجارت میں مسلسل بڑھتے خسارہ کو سمجھنے میں دماغ پاشی کی ہے اور چند نمایاں عوامل کی نشاندہی ہوئی۔
پیمانہ : چین میں زیادہ تر مینوفیکچرنگ وسیع تر پیمانے پر کی جاتی ہے، مثال کے طور پر کسی ہندوستانی تیارکنندہ کے پاس تین پلاسٹک انجکشن۔ مولڈنگ مشین ہوسکتے ہیں، جبکہ وہی طرز کے چینی کے پاس زائد از 70 ہوتے ہیں۔ زیادہ بڑے پیمانے کا مطلب ہے کہ عام مصارف اور طے شدہ لاگتوں کو زیادہ پروڈکشن یونٹوں میں پھیلایا جاسکتا ہے، اس سبب سے فی یونٹ لاگت گھٹتی ہے۔
کرپشن : ہندوستان اور چین دونوں کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسپشنس اِنڈکس 2016ء میں 176 ممالک کے منجملہ 79 واں رینک ہے۔ یہ درجہ بھلے ہی یکساں ہے لیکن دونوں طرف کے حالات میں نمایاں فرق ہے۔ چین میں بدعنوانی اونچی سطح پر پائی جاتی ہے، جس کا تعدد کم ہے، اور روزانہ کے معمولات پر کم اثر پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، ہندوستان میں رشوت ستانی گھٹیا اور بہت عام ہے، جو روزمرہ کے کاموں پر اثرانداز ہوتی ہے جیسے الیکٹریسٹی کنکشن کا حصول، جاب کی نوعیت میں تبدیلی لانا یا کوئی بل کی ادائیگی کرنا۔ بہرحال، ہندوستان کا جاری و ساری کرپشن چین کی بدعنوانی سے کہیں زیادہ نفسیاتی اور معاشی طور پر کمزور کردینے والا ہے۔
حمل و نقل : چین کے گوانگژو سے ممبئی کا فاصلہ دہلی اور ممبئی کے درمیان فاصلے سے پانچ گنا بڑا ہے۔ لیکن مال برداری کی بحری راستے سے 7,300 کیلومیٹر کیلئے لاگتوں کا تقابل داخلی طور پر یعنی سڑک کے راستے لگ بھگ 1,400 کیلومیٹر تک ٹرک کے ذریعہ مال برداری سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر 25,000 ہندو دیوی ، دیوتاؤں کی مورتیاں فی کنٹینر کی بحری راستے سے مال برداری کی لاگتیں گوانگژو سے ممبئی کیلئے اوسطاً 1,000 ڈالر فی کنٹینر ہوتی ہیں، تو ٹرانسپورٹ کی لاگت فی مورتی تقریباً 4 امریکی سینٹس (0.04 ڈالر) ہے۔ اگر دہلی اور ممبئی کے درمیان دو 9 ٹن کی گنجائش والے ٹرکوں کی ضرورت ہو، تب بھی اُس فاصلے کے اندرون پانچویں حصہ کیلئے بھی حمل و نقل کی لاگت فی یونٹ محض 4 سینٹس سے قدرے کم ہی ہے۔
برقی : ظاہری اعتبار سے کہیں تو چین اور انڈیا میں انڈسٹری کیلئے برقی کی لاگتیں بہ شرح 8 سینٹس فی کیلوواٹ فی گھنٹہ پر قابل تقابل ہیں۔ لیکن چینی بزنس اور کاروباری مقامات برقی کی بلارکاوٹ سربراہی سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ ہندوستان برقی گُل ہوجانے اور برقی قلتوں کے قدیم مسائل کا شکار ہے کیونکہ سربراہی کو طلب پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ بعض فیکٹریوں کو ہر روز چند گھنٹوں کیلئے برقی کٹوتی سے گزرنا پڑتا ہے۔ مزید ابتر پہلو یہ ہے کہ برقی سربراہی میں خلل کا اکثر و بیشتر پیشگی اعلان نہیں کیا جاتا ہے، جو پیداوار کے منصوبوں اور مقررہ نشانوں کی تباہی کا سبب ہوتا ہے۔
اَفسرشاہی : ہندوستان میں کوئی نیا بزنس شروع کرنے میں حقیقی رکاوٹ اس کی ہمہ نسلی، جمہوری اور مروت والی روایات ہیں، جو قواعد و ضوابط میں ظاہر ہوتے ہیں، جن سے بزنس آپریشنس میں لگاتار رخنہ پڑتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر، حصولِ اراضی چین کے مقابل ہندوستان میں زیادہ مشکل ہے۔ دونوں ملکوں میں زائد از 1 بلین آبادیاں ہیں، لیکن ہندوستان کے پاس اراضی چین کی جملہ زمینی وسعت کا ایک تہائی حصہ ہے۔ سرکاری کام کاج میں تاخیر اور بیوروکریسی (افسرشاہی) کے ساتھ ساتھ لاگتوں سے ہندوستان میں کاروبار کو وسعت دینے میں رکاوٹیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، چین میں حکومتی اختیار معقول ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہزارہا افراد کو تیزی سے منتقل کردیا جاتا ہے۔
رعایتیں : چین میں ہندو بھگوانوں کی مورتیاں تیار کرنے والی لگ بھگ 50 کمپنیوں میں سے کئی نہ صرف ہندوستان بلکہ فرینکفرٹ اور لاس ویگاس میں بھی ٹریڈ فیئرز میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ ہندو دیوی، دیوتاؤں کی مورتیوں کے علاوہ عیسائی اور بودھ مجسمے اور گھریلو سجاوٹ کی دیگر اشیاء بھی تیار کرتے ہیں۔ مارکیٹنگ کے مصارف ٹیکس منہائی کے اہل ہیں، بعض صورتوں میں سبسیڈی (رعایت) دی جاتی ہے ، اور انٹرنیشنل مارکیٹنگ سے ہم آہنگی کے کلچر سے چین میں چھوٹے انٹرپرائزس بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔ کئی دیگر اقوام کی مانند چین اپنے اکسپورٹرز کی مدد کرتا ہے۔ لگ بھگ 45 فیصدی چینی کمپنی پیداوار سرکاری ملکیتی ہے۔ خصوصی مراعات کی حامل کمپنیاں سستی اراضی، قرض لینے پر کمتر شرحیں، اور بعض معاملوں میں رعایتی برقی نیز مستقبل کی پیداوار کی سرکاری خریداریوں کے تیقنات حاصل کرسکتے ہیں۔
بلاشبہ، ہندوستان بھی برآمد پر مبنی ترغیبات فراہم کرتا ہے … بشمول شرحوں پر چھوٹ، آزاد تجارتی منطقوں میں اراضی اور ٹیکس ترغیبات، اسٹیٹ ٹیکس کی شرحوں میں کٹوتی، انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر میں شرکت کیلئے مالی مدد، مارکیٹ ڈیولپمنٹ گرانٹس اور کم لاگتی قرضہ جات۔ تاہم، ان تمام باتوں کے باوجود رعایتیں اور ترغیبات چین کی برآمد کے معاملے میں کامیابی کی وضاحت میں معمولی حصہ کو ہی پیش کرتے ہیں۔ مودی کی “Make in India” مہم کے باوجود ہندوستان کا چین اور دنیا کے ساتھ تجارتی عدم توازن ابتر ہی ہوا ہے۔ غیرضروری افسرشاہی مداخلت کو دور کرنا انڈیا کو کسی مرحلہ پر دنیا کیلئے فیکٹری میں بدلنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
(بہ شکریہ : Scroll.in )

TOPPOPULARRECENT