Thursday , December 14 2017
Home / مضامین / کیوں خوفزدہ ہے بی جے پی راہول گاندھی سے

کیوں خوفزدہ ہے بی جے پی راہول گاندھی سے

 

غضنفر علی خان
سارے ہندوستان کے بڑے حصہ پر حکومت کرنے والی بی جے پی آج ایک راہول گاندھی سے سہمی ہوئی ، ڈری ہوئی اور خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اترپردیش کے پارلیمانی حلقہ امیٹھی سے تین مرتبہ جیتنے والے راہول گاندھی کے خلاف بی جے پی نے ساری طاقت جھونک دی ہے۔ ایک پارلیمانی حلقہ کے لئے پارٹی کے صدر امیت شاہ ، اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ اور درجنوں پارٹی کے لیڈروں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے ۔ ان میں مرکزی وزیر سمرتی ایرانی بھی شامل ہیں، وہ بھی گلہ پھاڑ کر راہول گاندھی کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ خیر ان کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں ہوگا ۔ البتہ تعجب اس بات کا ہے کہ پارٹی کے صدر امیت شاہ کیوں ایسی سر پھوڑ کوشش کر رہے ہیں اور طنزیہ انداز میں راہول گاندھی کو ’’راہول پاپا‘‘ کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ دوسرا رخ اس تصویر کا یہ ہے کہ اکیلے راہول گاندھی کسی ایک حلقہ کے لئے نہیں بلکہ وزیراعظم مودی کی ’’جنم بھومی‘‘ گجرات میں بی جے پی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ صرف کانگریس کے وہ ورکرس جو پارٹی سے وابستہ ہیں، وہی ان کے جلوس اور ریالیوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کی حکمت عملی میں یہ بنیادی فرق ہے کہ بی جے پی صرف امیٹھی میں زور آزمائی کر رہی ہے جبکہ راہول گاندھی یکا و تنہا ساری ریاست گجرات میں عملاً انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ وہ اس بہادر سپاہی کے مانند ہیں (اس وقت) جو دشمن کے قلعہ کی حصاروں کو توڑ کر دشمن کے خلاف للکار رہے ہیں۔ بی جے پی جیسی بڑی پارٹی صرف امیٹھی میں زور آزمائی کر رہی ہے جبکہ راہول گاندھی دھڑے سے پوری ریاست گجرات کا دورہ کر رہے ہیں۔ کیوں راہول گاندھی کو ہرانے کی ایسی منظم کوشش بی جے پی کر رہی ہے۔ آخر وہ کونسا اندیشہ ہے جو اندر ہی اندر بی جے پی کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ راہول گاندھی سے بار بار سوال کیا جارہا ہے کہ ان تمام برسوں میں جبکہ وہ حلقہ کی نمائندگی کر رہے تھے کیا ترقیاتی کام ہوئے۔

اپنے دامن میں جھانکے بغیر اپنے گریباں میں منہ ڈالے بغیر کانگریس اور راہول گاندھی کے خلاف زہر افشانی کسی وحشت زدگی کی علامت ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ بی جے پی، ساری پارٹی اور بالخصوص امیت شاہ اور وزیراعظم کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ مرکزی حکومت نے اپنی کوتاہ نظری اور حکمرانی کے موثر پس منظر کے بغیر وزیراعظم کی من مانی کی وجہ سے ملک کی مضبوط معیشت کو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ سے اتنا کمزور کردیا ہے کہ دوبارہ عوام اسکو اقتدار نہیں سونپیں گے، شاید یہ اندازہ بھی ہوگیا ہے کہ وہی ہندوستانی عوام جنہوں نے مودی جی اور ان کی پارٹی کو سر آنکھوں پر بٹھایا تھا بی جے پی لیڈروں کی چرب زبانی سے کچھ وقت کیلئے متاثر ہوگئے تھے ، اب سمجھ گئے ہیں یا سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے غلط فیصلہ کیا تھا ۔ معیشت کی تباہ حالی ، نظم و قانون کی کئی ریاستوں اور خاص طور پر اترپردیش میں ابتر حالت نے اور آئے دن اپنی ہندوتوا پالیسی اور ایجنڈہ کو لاگو کرنے والی اس حکومت نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کبھی گاؤ رکھشکوں کی حوصلہ افزائی کی، ناحق مسلم نوجوانوں کا قتل کیا ، کبھی کسی بھی قسم کے گوشت کی رہائشی علاقوں میں فروخت پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی ۔ جیسا کہ ہریانہ کی بی جے پی حکومت نے کہا ہے کہ عوام میں یہ احساس اجاگر کردیا ہے کہ مودی حکومت کے ترجیحات یکسر غلط ہیں، اسے عوام کو درپیش مسائل سے بہت کم واقفیت ہے اور بعض ایسے مسائل کھڑے کر رہی ہے جس کو ملک کے عوام پسند نہیں کرتے ہیں۔ ملک میں گوشت خور نہ رہے اور صرف سبزی خور بن جائے ۔ رام مندر کی تعمیر ہو یا نہ ہو، ان تمام اوران جیسے مسائل کو اولیت دے کر مودی حکومت نے اصل مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ اس کے باوجود امیت شاہ نے اپنی ایک تقریر میں جو امیٹھی (اترپردیش) میں انہوں نے کی کہ ’’ بی جے پی نے ملک کے عوام کو ایک بولنے والا‘‘ وزیراعظم دیا ہے ۔ امیت جی کبھی تو ہوش کی بات کیا کرو۔ ہندوستان کو ہر ر وز بیان بازی کرنے والے نئے نئے خواب دکھانے والا اور مسلسل بولنے والا وزیراعظم نہیں چاہئے ۔ ملک کو تو اس وقت بلکہ بروقت ہر لمحہ ایسا رہنما ، لیڈر اور وزیراعظم چاہئے جو ’’بولے کم اور کارکردگی زیادہ دکھائے‘‘۔ ایسے وزیراعظم کی ملک کو ضرورت نہیں جو عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھائے ، اب جبکہ بی جے پی اور وزیراعظم کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ بہ حیثیت ’’سپنوں کے سوداگر‘‘ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک کہ انہیں سپنوں (خوابوں) کے خریدار نہیں ملتے۔ وہ چاہے ہفتہ میں ایک دن ’’من کی بات ‘‘ کا پروگرام کریں یا 56 انچ کا سینہ ٹھونک ٹھونک کر نیا ہندوستان بنانے کی بات کریں، صرف لفاظی یا Rhetorics سے ہندوستان جیسے عظیم اور وسیع و عریض ملک پر کامیاب حکمرانی نہیں کی جا سکتی ہے ۔ بولنے والا وزیراعظم نہیں ملک کوایک کارکرد ، فعال اور صحیح فکر رکھنے والا وزیراعظم چاہئے ۔ صرف ا پنی پروپگنڈہ مشنری پر بھر وسہ کر کے اربوں روپئے الیکٹرانک میڈیا کو دے کر اپنی تشہیر کے ذریعہ ملک کے عوام کو زیادہ عرصہ تک ٹھگا نہیں جاسکتا۔

عوام بہت جلد کسی جھوٹ پر یقین کرلیتے ہیں لیکن جب اپنی روز مرہ کی زندگی میں حکومت کذب بیانی کا نشہ اترنے لگتا ہے ۔ جب عوام کو یہ پتہ چل جاتا ہے ۔ ہر زرد رنگ کی دھات سونا نہیں ہوتی ، ہر چمکنے والی شئے بھی سونا نہیں ہوتی اور انہیں یہ احساس ہوجاتا ہے کہ بولنا نہیں بلکہ کام کرنا ، نتائج برآمد کرنا بڑی بات ہوتی، تب انہیں سمجھ میں آجاتا ہے کہ پیتل بھی زرد رنگ کا سونا ہے اور سونا بھی زرد (پیلا) ہی ہوتا ہے تب وہ کسی بھی ایسی پارٹی کو جسے انہوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا ہے، کسی ناخوشگوار بوجھ کی طرح اتار پھینکتے ہیں۔ ایسا ہر وقت ہوا ہے ۔ حکومتوں کا ٹوٹنا ، بکھرنا ، اقتدار کا ہاتھ سے چلے جانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ آ ئین قدرت ہے۔ Law of Nature اس سے کسی بھی سیاسی جماعت کو استثنیٰ نہیںہے ۔ قدرت کی مار بہت سخت ہوتی ہیں۔ اپنی یہ غلطی کا سیاسی پارٹیوں کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ جس شدت سے جس عجلت سے بی جے پی اپنی گرفت کھورہی ہے، اس سے تو یہ اندازہ علم سیاست کے کسی بھی طالب علم بلکہ عام شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ بی جے پی ’’وحشت زدگی ‘‘ کی شکار ہوگئی ہے اور وحشت کے عالم میں اس سے پے در پے غلطیاں ہورہی ہیں۔ کانگریس اور اپوزیشن میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے یہ خواب غفلت سے جاگنے کا ایک الارم ہے ۔ اگر ان سیاسی حقائق کو اب بھی سیاسی پارٹیاں اور سیکولر طاقتیں نہ سمجھیں تو پھر ملک کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

TOPPOPULARRECENT