Wednesday , September 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / کی وزارت اُمور مذہبی میں اصلاحات تلنگانہ وقف بورڈ کیلئے رہنمایانہ خطوط

کی وزارت اُمور مذہبی میں اصلاحات تلنگانہ وقف بورڈ کیلئے رہنمایانہ خطوط

حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ
کارجہانگیری ، انتظامی حسن سلیقہ اور دفتری نظم و نسق ایک خدادا د نعمت ہے اسمیں مسلم اور غیرمسلم کی کوئی قید نہیں ، یہ ایک فطری اور طبعی نعمت ہے ۔ جو طویل تجربہ اور محنت و جستجو سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ دانشوروں کے نزدیک عقل انسانی کو پرکھنے کے تین معیار ہیں بلند مقاصد ، اساب و وسائل کی کمی اور حیرت انگیز نتائج ۔ جب کسی انسان کے عزائم بلند اور مقاصد جلیل القدر ہوں لیکن اسباب اس کے پاس مہیا نہ ہوں ، اس کے باوجود وہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھے اور استقامت کے ساتھ حالات کا سامنا کرے اور جو کچھ وسائل فراہم ہوں اس کو حسن سلیقہ سے بروئے کار لائے اور مختصر وقت میں حیرت انگیز نتائج ظاہر ہونے لگیں اور دیرپا اُس کے اثرات مرتب ہوں تو یہی عقل انسانی کا کمال اور انتظامی حسن سلیقہ کی معراج سمجھا جاتا ہے اور اس معیار پر تاریخ انسانیت میں نبی اکرم ﷺ جیسی منظم و باکمال کوئی اور ہستی ظاہر نہیں ہوئی ۔ فرانس کا ایک مشہور غیرمسلم اسکالر Alphonse de Lamartineکامشہور مقولہ ہے :
“If greatness of purpose, smallness of means, and astonishing results are the three criteria of a human genius, who could dare compare any great man in history with Muhammad?”(صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم )
’’آپ فرمادیجئے ! اگر تم اﷲ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو‘‘ میں حکم الٰہی عام ہے ۔ حضور پاک ﷺ کی ظاہری سنتوں کے علاوہ عملی زندگی میں صبر و تحمل ، نامساعد حالات میں عزم و استقلال ، حسن سلیقہ ، حسن انتظام ، حسن تدبیر اور حسن تنظیم میں آپ ﷺ کے طریقۂ کار کو اپنانا لازمی ہے ۔ اس اتباع کا ایک بہترین نمونہ ہمیں حضرت شیخ الاسلام والمسلمین ، مسیحائے دکن عارف باﷲ امام محمد انواراللہ فاروقی فضیلت جنگ بانی جامعہ نظامیہ قدس سرہ العزیز کی ذات گرامی میں پورے آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ آپ نے ابتدائی نامساعد حالات میں جس پامردی بلند حوصلگی اور اولوالعزمی کا مظاہرہ فرمایا ۔ بعد ازاں جب نظامت اُمور مذہبی ، صدرالصدور صوبجات دکن اور وزرات اُمور مذہبی آپ کے تفویض ہوئے تو آپ نے جس خدادا انتظامی صلاحیت ، فاروقی انقلابی غیرت و حمیت اور حسن انتظام و کارکردگی کانمونہ پیش کیا وہ آنے والی نسلوں ، عہدیداروں بالخصوص علماء کے لئے بہترین نمونہ ہے اور یہی وہ امتیازی وصف خاص ہے جو آپ کو ہندوستان بلکہ پورے عالم اسلام کے معاصر علماء ، صوفیاء ، مفکرین اور مصلحین سے ممتاز کرتا ہے ۔
آپ نے دربارشاہی میں عظمت و رسوخ کے باوجود کبھی سرکاری بلند عہدوں کی طرف اپنی رغبت و میلان کو ظاہر نہیں فرمایا بلکہ ۱۳۲۱؁ ف میں اعلحضرت آصف جاہ سابع نے بہ نظرقدردانی ناظم اُمور مذہبی و صدرالصدور صوبجات دکن کے عہدۂ ہائے جلیلہ کے لئے منتخب فرمایا تو آپ نے عذر پیش کیاکہ سرکاری ملازمت کیلئے انتہائی عمر پچپن سال مقرر ہے اور میں پچپن (۵۵) سے متجاوز ہوں ۔ اﷲ تعالیٰ اس رعایا پرور فرمانروائے دکن پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے کہا ’’کہ اس وقت ملک میں ان خدمات کے لئے آپ سے زیادہ کوئی موزوں نہیں ہے ‘‘ ۔ حدیث شریف میں ہے جو کوئی جماعت میں سے کسی شخص کو عامل و گورنر بنائے جب کہ ان میں اس سے زیادہ قابل ہو اور اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے والا موجود ہو تو اس نے اﷲ اور اس کے رسول اور تمام مومنین کے ساتھ خیانت کی ہے ۔ ( سیوطی بروایت سیدنا عبداﷲ بن عباسؓ )
بعد ازاں ۱۳۲۳؁ف میں نواب مظفر جنگ بہادر معین المھام اُمور مذہبی کے انتقال پر وزارت اُمور مذہبی آپ کے تفویض کی گئی ۔ سالارجنگ ثانی مذہبی اُمور کے علاوہ دیگر اُمور سلطنت میں آپ کی رائے پر عمل کرتے اور کونسل میں آپ کی تجاویز اور مشورے بڑی وقعت سے دیکھے جاتے بلکہ آپ کی ذات گرامی دیگر امراء ، وزراء اور ارکانِ سلطنت و عمائدین مملکت کیلئے احساس ذمہ داری ، حسن کارکردگی کے علاوہ سادہ نفسی ، تدین ، احتیاط التزام و اہتمام میں مثالی و قابل تقلید تھی ۔ حضرت مفتی محمد رکن الدین ؒ نے مطلع الانوار میں اس کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کا ایک ایک لفظ دل پر ضرب لگاتا ہے اور ہر طالبعلم ، مدرس ، عہدیدار کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔
’’تنخواہ کے علاوہ جو رقمیں سرکار سے منظور تھیں وہ بھی بہ نظر احتیاط نہیں لیتے تھے … دورہ کے اخرجات خود برداشت فرماتے ۔ سرکاری کمیٹیاں جو مولانا کے گھر پر ہوتی تھیں اس کے جملہ مصارف ( ضیافت وغیرہ میں ) آپ ادا فرماتے تھے ۔ بعض اشخاص نے کہا کہ یہ اخراجات جب سرکار سے ملتے ہیں تو ذات سے خرچ کرنے کی کیا حاجت ہے ؟ جواب میں فرمایا ہمکو سرکار اتنی تنخواہ دیتی ہے ۔ ہم یہ مصارف برداشت کرسکتے ہیں تو ایسی حالت میںخزانۂ شاہی کو زیربار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ملازمین سرکار سے کبھی خانگی کام نہیں لیتے تھے ۔ اوقات دفتر کی پابندی فرماتے اور اجلاس پر تشریف لیجاتے تھے ۔ گو وزارت کے زمانے میں دفتر آپ کے گھر میں تھا مگر اس وقت بھی آپ کا وہی حال تھا جو کمرہ آپ نے اجلاس کے لئے مقرر فرمایا تھا اس میں وقت مقررہ پر اسی حیثیت سے تشریف لے جاتے جیسے کہ کسی دوسری جگہ کے اجلاس پر جایا کرتے تھے ۔ اس پر ایک صاحب نے کہا کہ آپ گھر میں اتنا اہتمام کیوں فرماتے ہیں ؟ سادہ لباس میں اجلاس فرماسکتے ہیں۔ جواب میں فرمایا ’’گھر وہی ہے جہاں میں آزادی سے رہ سکتا ہوں اور کمرہ جس میں اجلاس کرتا ہوں دفتر ہے، میرے سادہ لباس میں اجلاس کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کریگا مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک طرح کی لاپرواہی اور تساہل ہے جس کا جواب احکم الحاکمین کے سامنے دینا ہوگا‘‘ ۔ اوقات دفتر میں کوئی خانگی کام نہیں کرتے تھے حتی کہ اگر کوئی صاحب خانگی ملاقات کے لئے آتے تو ناخوش ہوتے اور کہہ دیتے کہ خانگی ضرورت کے لئے اوقات دفتر کے علاوہ کسی اور وقت آئیں۔ دفتر کا وقت صرف سرکاری کام کے لئے ہے۔ اس شدید احتیاط و پابندی کے باوجود بعض وقت ضرورت پر غیراوقات میں دفتر کا کام انجام دیا کرتے تھے ‘‘ ۔
وزارت اُمور مذہبی ( جس کو موجودہ وقت میں وزارت اقلیتی بہبود سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جس کے تحت وقف بورڈ قائم ہے ) عرصہ دراز سے تھا جس طرح آج دیگر وزارتوں کی ترقی اور نتائج ظاہر ہیں اور وقف بورڈ کی صورتحال سوالیہ نشان ہے اس طرح آصف جاہی دور میں دیگر محکموں کے مقابل میں وزارت اُمور مذہبی کی کارکردگی صفر کے برابر تھی لیکن حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے جب سے اس کا چارج لیا دفتریت کا نظام قائم فرمایا ، عہدیداروں کو جوابدہ بنایا ، اور ایسی جامع اصلاحات فرمائیں کہ مختصر عرصہ میں متاثرکن نتائج برآمد ہوئے ۔ تین سال قبل جنوری ۲۰۱۵؁ء میں مولانا محمد اسرار احمد قادری (صدر مدرس مدرسہ مصباح العلوم عالیہ کمالیہ اورنگ آباد ) کی علمی جستجو سے (۸۰) صفحات پر مشتمل حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے اورنگ آباد ، خلدآباد ، پٹن ، جالنہ اور اونہ پڑارہ کے پندرہ روزہ دورہ کی ایک رپورٹ منظرعام پر آئی ہے جس کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے اس طوفانی دورے میں پانچ اضلاع کے (۳۶) درگاہوں (۲۵) مساجد و عیدگاہ ، سات دینی و صنعتی مدارس ، آٹھ دفاتر ( تعلقہ داری ، دفتر تحصیل ، دفتر قضاء ت ،دفتر انجمن ہدایت الاسلام ) کے علاوہ متفرق عاشورخانے ، سرائے ، چلہ جات ، تکیے ، حمام اور تالابوں کا دورہ کیا اور بنفس نفیس ایک ایک چیز کا نہایت باریک بینی اور وقت نظری سے معائنہ کیا ۔
آپ نے مساجد میں نماز پنجگانہ ، پاکی و صفائی ، طہارت خانے و وضو خانے اور آئمہ وو مؤذنین کے انتظامات فرمائے ، غیرآباد مساجد کو بند کرکے اس کی حرمت کو برقرار رکھنے کے انتظامات کئے ، آئمہ اور قاضیوں کا امتحان لیا ، ان کی اصلاح کی ، مدرسہ نظامیہ کے امتحانات لکھنے کا پابند کیا ورنہ تادیبی کارروائی کرنے کی تنبیہ کی ۔ درگاہ کی زمین پر مندر کی تعمیر کے اعتراض پر منصفانہ کارروائی شروع کی ، مسجد کی زمین پر مورتیوں کو رکھنے کے سبب فتنہ و فساد کو حل کیا، غیرآباد مسجد کی معاش ، آباد مسجد کو منتقل کی ، دیول ، مٹھ ، دھرم سالہ سے متعلقہ غیرمسلمین کے مسائل کا بروقت تصفیہ فرمایا ، تالابوں کے پانی کو عوام تک پہونچانے کے احکامات صادر فرمائیں ۔ دیہات کے مسلمانوں کی اصلاح کیلئے قائم انجمن اور واعظین کی کارکردگی کا جائزہ لیا ،غرض اضلاع میں اوقاف کی حفاظت اور عطیات مشروطی کے انتظام کاتفصیلی جائزہ لیکر بروقت تصفیہ کے فیصلے فرمائے جس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ شہر و مضافات میں اصلاحات کی رفتار کیاہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT