Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / کے این واصف

کے این واصف

سفیر ہند کا خیرمقدم

سفیر ہند احمد جاوید و بیگم شبنم جاوید کے اعزاز میں جمعہ کی شب ایک شاندار خیرمقدمی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا جس کا اہتمام ریاض کی مختلف سماجی تنظیموں نے اجتماعی طور پر کیا تھا ۔ انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض کے آڈیٹوریم میں منعقد اس تقریب میں ایک ہزار سے زائد ہندوستانی مرد و خواتین نے شرکت کی ۔ اس تقریب کے انتظام و انصرام کی نگرانی کیلئے سماجی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک 25 رکنی اسٹیرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ تقریب کا آغاز عثمان ترمذی کی قراء ت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد سو سے زائد سماجی تنظیموں کے نمائندوں وغیرہ نے سفیر ہند احمد جاوید اور بیگم شبنم جاوید کو گلدستے اور روایتی شال پیش کئے۔ نظامت کے فرائض محمد ضیغم خاں، سابق صدرا موبا نے انجام دیئے اور انہوں نے سفیر ہند کا تعارف بھی پیش کیا ۔ ضیغم نے بتایا کہ سفیر ہند احمد جاوید ایک اعلیٰ پولیس آفیسر رہے ہیں۔ انہوں نے مہاراشٹرا کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دیںاور پچھلی جنوری میں بحیثیت کمشنر پولیس بمبئی شہر سے اپنی 36 سالہ محکمہ پولیس کی خدمات سے سبکدوش ہوئے اور فوری طور پر سفیر ہند برائے سعودی عرب نامزد کئے گئے۔ احمد جاوید کا تعلق یو پی سے ہے۔
اسٹیرنگ کمیٹی کے کنوینر انجنیئر سہیل احمد نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئے متعین سفیر ہند احمد جاوید اپنی مکمل سرکاری خدمات کے دوران عوام میں ہمیشہ مقبول رہے ۔ آپ ہمیشہ گہرے عوامی رابطہ میں رہتے ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم این آر آئیز کی خوش بختی کہ ہمیں ایسا سفیر ملا۔
جہاں سفیر ہند کو سینکڑوں کی تعداد گلدستے پیش کئے وہیں بیسیوں مسائل بھی ان کے گوش گزار کئے اور یہ این آر آ ئیز کے مسائل پیش کرنے والے مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے تھے ۔ سفیر ہند کو جو مسائل پیش کئے گئے ان میں این آر آئیز کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم ، سوشیل کلب کو کارگرد کیا جانا ، انڈین ایمبسی آڈیٹوریم کو سابق کی طرح کمیونٹی پروگرامس کیلئے دیا جانا، اس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ سماجی تنظیموں کے کارکنان کمیونٹی خدمات کیلئے ایمبسی کے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کرنے تیار ہے کیونکہ کمیونٹی کی اتنی بڑی تعداد کے مسائل حل کرنے ایمبسی کے پاس مناسب تعداد میں اسٹاف نہیں ہے ۔ نیز یہ بھی کہا گیا کہ سارق اور رہزنوں کی جانب سے خارجی باشندوں پر حملے عام ہوگئے ہیں جس سے دیگر کی طرح ہندوستانی کمیونٹی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے لگی ہے ۔ سفیر ہند سے گزارش کی گئی کہ وہ سعودی اعلیٰ عہدیداروں سے مل کر اس سلسلے میں نمائندگی کریں ۔ یہ بھی کہا گیا کہ سعودی حکومت کی جانب سے نئی معاشی پالیسی  اور دیگر تبدیلیوں کے جو اثرات خارجی کمیونٹی یا انڈین کمیونٹی پر پڑیں گے ۔ ایمبسی غور کرے کہ کس طرح کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکتا ہے ۔ سفیر ہند سے یہ بھی کہا گیا کہ آج کی تقریب کی نوعیت سارے مسائل پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ لہذا سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایمبسی ایک خصوصی اجلاس کا اہتمام کرے تاکہ تفصیلی طور پر مسائل اور اس حل کیلئے گفتگو ہوسکے ۔ سفیر ہند کو یہ تجویز کیا گیا کہ سابق میں ہندوستان سے سینئر صحافیوں کے گروپس یہاں مدعو کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ایک عرصہ سے منقطع ہوگیا ہے ۔ اس سلسلے کو دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ ہندوستانی صحافی یہاں کے حالات، اس ملک کی ترقی ، اس میں ہندوستانیوں کا حصہ ہے، این آر آئیز کے مسائل کا بذاتِ خود جائزہ لے سکیں اور ان پر اپنے تجزیات و تبصرے پیش کرسکیں۔ ان صحافیوں میں اردو اخبارات کے سینئر صحافیوں کو شامل رکھنے کی خصوصی درخواست بھی کی گئی۔ سفیر ہند احمد جاوید کو بتایا گیا کہ پچھلے سفیر (حامد علی راؤ) کے دور میں انہوں نے اچانک یہ فیصلہ لیا تھا کہ وہ کسی کمیونٹی تقریب میں حصہ نہیں لیں گے جس پر انہوں نے سختی سے عمل بھی کیا۔ انڈین ایمبسی کی تاریخ میں ایسا کسی  سفیر نے نہیں کیا ۔ لہذا ایمبسی کی سر پرستی سے محروم ہونے کی وجہ سے کمیونٹی کی سرگرمیاں سرد پڑگئیں ۔ سفیر ہند سے درخواست کی گئی وہ کمیونٹی سے قریب رہیں اور کمیونٹی کے سرگرمیوں کی سرپرستی کریں جیسا کہ پچھلے سفیروں کے دور میں ہوا کرتا تھا ۔ یہ مسائل اور تجاویز پیش کرنے والوں میں آرکیٹکٹ عبدالرحمن سلیم صدر ہندوستانی بزم اردو ریاض، کے شہاب مشیر ’’نورکا‘‘ ، ڈاکٹر مصباح العارفین صدر انڈین سائنٹسٹ اینڈ ریسرچرز اسوسی ایشن ریاض ، امتیاز احمد صدر تمل سنگم ، وسیع حیدر رضوی سابق صدر اموبا، محمد قیصر صدر تنظیم ہم ہندوستانی، عبیدالرحمن چیرمین بہار فاؤنڈیشن ، انیس الرحمن صدر جامعہ ملیہ المنائی اسوسی ا یشن ریاض ، شمیم محمد اونی ریجنل ڈائرکٹر لولو ہائیپر مارکٹس ، سماجی کارکنان سنتوش شٹی اور بالا چندرن شامل تھے۔
سفیر ہند احمد جاوید نے اپنی جوابی تقریر میں سماجی تنظیموں کے نمائندوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز اور این آر آئیز مسائل کا نکتہ بہ نکتہ جواب دیا۔ سفیر ہند نے کہا کہ سفارت خانہ ہند ریاض ہو یا جدہ قونصلیٹ ہندوستانی باشندوں کی مددان کے مسائل کا حل ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے اور ان دونوں اداروں کی کارکردگی میں شفافیت کا پورا خیال رکھنا ہم ہماری ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سماجی تنظیموں اور ہر انفرادی ہندوستانیوں کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ سفیر ہند نے کہا کہ عوامی مسائل سننا اور عوام کے رابطہ میں رہنا میری فطرت میں ہے یہ کام میں نے اپنی خدمات کے پورے دور میں کیا ہے ۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ کمیونٹی اپنے مسائل بذریعہ ای میل بھی روانہ کرسکتی ہے ۔ احمد جاوید نے کہا کہ مملکت میں ہندوستانی کمیونٹی کی تعداد کے اعتبار سے یہاں کمیونٹی اسکولس کم ہیں ۔ تمام کمیونٹی اسکولس میں اتنی بڑی تعداد میںبچوں کو داخلے دیئے جانے کے با وجود ہم کمیونٹی کی مانگ پوری نہیں کر پارہے ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے ہم سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک اعلیٰ تعلیم کے انتظام کا سوال ہے اس مسئلہ پر خود وزیراعظم نریندر مودی نے اعلیٰ قیادت سے گفتگو کی تھی ۔ جب وہ پچھلے ماہ مملکت کے دورہ پر آئے تھے ۔ سفیر ہند نے انڈین کمیونٹی کا مجموعی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ  انڈین کمیونٹی نے مملکت میں اپنی ایک اچھی شبیہ بنائی ہے جس کے معترف سعودی اعلیٰ قیادت اور سعودی اعلیٰ عہدیدار ہیں ۔ سفیر نے کہا کہ کمیونٹی تقاریب کے انعقاد کیلئے کیا انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض کا آڈیٹوریم استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس پر غور کیا جائے گا ۔ یہاں کی مجرمانہ سرگرمیاں جو ہندوستانی تارکین وطن کیلئے مسئلہ بنی ہوئی ہیں کی شکایت کے سلسلے میں بھی سفیر ہند نے کہاکہ وہ یہاں کے اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی کریں گے۔ اس موقع پر نائب سفیر ہند ہیمنت کوٹلوار ، سفارتکار انیل نوٹیال ، ڈاکٹر حفظ الرحمن و غیرہ بھی موجود تھے۔
آخر میں انڈین نیشنل فورم کے صدر عبدالاحد صدیقی کے ہدیہ تشکر پر اس خیرمقدمی تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT