Thursday , October 18 2018
Home / شہر کی خبریں / کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

اسمبلی میں ایک سے زائد مرتبہ سری ہری کے وعدے، سرکاری اسکولوں میں پری پرائمری سیکشن موجود نہیں
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس نے 2014ء اسمبلی انتخابات سے قبل عوام سے جو وعدے کیے تھے ان میں کئی وعدے ایسے ہیں جو حکومت کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں تعطل کا شکار ہوگئے۔ کے سی آر حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں ان وعدوں کی تکمیل کے لیے زبانی باتیں ضرور کیں لیکن عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ اسی طرح کے وعدوں نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کا وعدہ شامل ہے۔ ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا انتظام کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ وعدہ جوں کا توں برقرار رہا اور شاید آئندہ کے انتخابی منشور میں اسے دوبارہ جگہ دی جائے گی۔ تلنگانہ کے 29 ہزار سرکاری اسکولوں میں کسی ایک اسکول میں پری پرائمری سیکشن موجود نہیں ہے۔ حکومت نے 270 سے زائد سوشل ویلفیر اقامتی اسکول قائم کیے جس میں 1.5 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق ایس سی، ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات شامل ہیں۔ 2015ء میں حکومت نے کے جی تا پی جی اسکیم کے آغاز کی کوشش کی اور اس کے لیے منصوبے کو قطعیت دی گئی لیکن اس پراجیکٹ کو 2016ء کے لیے موخر کردیا گیا۔ بعد میں ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے ایک سے زائد مرتبہ اسکیم کے جلد آغاز کا تیقن دیا لیکن یہ اسکیم تاریکی میں رہ گئی اور اس نے آج تک دن کی روشنی نہیں دیکھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیچرس کی تنظیموں کی جانب سے بارہا نمائندگی کی گئی اور حکومت کو تجویز پیش کی گئی کہ پرائمری اسکولوں میں انگلش میڈیم کے سیکشن قائم کیے جائیں۔ اولیائے طلبہ کی جانب سے اس مطالبہ میں شدت پیدا ہوئی لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ سرکاری اسکولوں پری پرائمری سیکشن کی عدم موجودگی کے سبب عوام بچوں کو خانگی اسکولوں میں داخلہ دلانے پر مجبور ہیں۔ کڈیم سری ہری نے مارچ میں اسمبلی میں تیقن دیا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں ایل کے جی اور یو کے جی کلاسس کا 2019ء سے آغاز ہوگا۔ سری ہری نے مارچ 2015ء میں اسمبلی میں تیقن دیا تھا کہ 2016ء سے کے جی تا پی جی اسکیم پر عمل آوری کی جائے گی۔ 2016ء میں حکومت نے تعلیمی پالیسی طے کرنے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ مارچ 2018ء میں سری ہری نے کونسل میں بتایا کہ حکومت آنگن واڑی سنٹرس میں پری پرائمری سیکشن متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ ریاست میں حکومت کے 29 ہزار اسکولس ہیں جن میں پرائمری اسکولس کی تعداد 19 ہزار ہے۔ آنگن واڑی سنٹرس 11,800 ہیں اور پری پرائمری تعلیم کے آغاز کے لیے مزید 10 ہزار اسکولوں کی ضرورت پڑے گی۔ اپوزیشن جماعتیں اس اہم وعدے کی عدم تکمیل کو انتخابات میں موضوع بناسکتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی منشور کے نامکمل وعدوں کے ساتھ کانگریس زیر قیادت متحدہ محاذ عوام سے رجوع ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT