Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / کے سی آرکے خلاف کسانوں کا اظہار برہمی

کے سی آرکے خلاف کسانوں کا اظہار برہمی

قرضوں کی معافی کے مسئلہ پر انتخابی وعدہ سے انحراف کا الزام

قرضوں کی معافی کے مسئلہ پر انتخابی وعدہ سے انحراف کا الزام

حیدرآباد 5 جون ( این ایس ایس ) نئی ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی جانب سے تشکیل حکومت پر تلنگانہ کے عوام خاص کر کسانوں میں زبردست جوش و خروش پیدا ہوا تھا لیکن ان کا یہ جوش و خروش اچانک رفو ہوگیا اب ان میں کے چندر شیکھر راو کے خلاف شدید ناراضگی پیدا ہوگئی ہے ۔ کے سی آر نظم و نسق نے کسانوں کے قرضوں کو مشروط معاف کرنے کا اعلان کیا تو کسان برادری ناراض ہوگئی ہے ۔ تمام کسانوں کیلئے زرعی قرض کو ایک لاکھ تک معاف کرنے ٹی آر ایس سربراہ چندرا شیکھر راو کا انتخابی وعدہ تھا ۔ ٹی آر ایس نے اپنے منشور میں بھی یہی وعدہ کیا تھا انتخابی مہم کے دوران بھی چندر شیکھر راو نے اپنی تقریر میں بار بار یہی وعدہ دہرایا تھا کہ کسانوں کے قرضے معاف کئے جائیں گے لیکن اب کے سی آر نے قرضوں کی معافی کیلئے شرائط رکھے ہیں ۔ ریاستی سرکاری خزانہ پر پڑنے والے مالیاتی اثرات کو روکنے کیلئے چندر شیکھر راو نے اپنا ذہن تبدیل کرلیا ہے ۔ اس سے وہ قرض راحت اسکیم برائے کسان پر عمل آوری سے گریز کرنا چاہتے ہیں ۔ واضح رہے کہ کے سی آر نے چہارشنبہ کے دن بینکرس سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی پسندیدہ قرض راحت اسکیم پر تبادلہ خیال اور مالیاتی اداروں سے تجاویز طلب کی تھیں ۔ اس اجلاس میں بینکرس نے کہا کہ چیف منسٹر کو اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے کے لئے26000 کروڑ روپئے درکار ہوں گے لیکن ریاستی خزانہ اس بوجھ کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا چند شرائط کے ساتھ قرضوں کی معافی کی تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔اسی لئے کے سی آر نے کسانوں کے قرضوں کو مشروط طور پر معاف کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT