Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / کے سی آر اور مجلس کی بی جے پی کو درپردہ تائید سے اقلیتیں ناراض

کے سی آر اور مجلس کی بی جے پی کو درپردہ تائید سے اقلیتیں ناراض

’ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ‘
تلنگانہ کی جماعتوں کی کرناٹک کی سیاست میں دلچسپی معنیٰ خیز

حیدرآباد۔/21 اپریل، ( سیاست نیوز) ’’ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘‘ کرناٹک کے انتخابات میں ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت مجلس کا کچھ یہی حال ہے۔ ان دنوں کرناٹک کے رائے دہندوں اور خاص طور پر مسلم رائے دہندوں میں یہ مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ ٹی آر ایس اور مجلس کو کرناٹک کی سیاست سے کیا دلچسپی اور دونوں پارٹیوں نے بی جے پی کی تائید کیلئے جو انداز اختیار کیا ہے اسے عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ تیسرے محاذ کے نام پر کانگریس کی مخالفت اور بی جے پی کی تائید کیلئے سرگرم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی حلیف جماعت مجلس کو بھی اس کھیل میں شامل کرلیا ہے اور وہ راست طور پر بی جے پی کی تائید کے بجائے جنتا دل ( سیکولر ) کے ذریعہ کانگریس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ کانگریس کے سینئر وزیر اور کرناٹک میں مسلمانوںکے بے باک نمائندہ کی حیثیت سے شہرت رکھنے والے روشن بیگ نے کہا کہ جنتا دل سیکولر کی تائید دراصل بی جے پی کی تائید ہے اگر یہ دونوں پارٹیاں جنتا دل سیکولرکو ووٹ دلانے کیلئے مہم چلائیں گی تو اس کو حاصل ہونے والا ایک ، ایک ووٹ بی جے پی کے کھاتہ میں جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی چالبازیوں سے کرناٹک کی عوام اچھی طرح واقف ہے اور وہ گمراہ ہونے والے نہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے ریمارک کیا کہ کرناٹک کے انتخابات کو مذہبی رنگ دینے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے انتخابات کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں جنگ سے تعبیر کرنے پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے ظفر سریش والا نے کہا کہ بی جے پی رکن اسمبلی احمقوں کی جنت میں ہیں، یہ 80ء یا 90ء کا دہا نہیں بلکہ 2018 ہے جہاں عوام ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی الیکشن مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ بجلی، پانی، سڑک اور روزگار جیسے مسائل پر ہوگا۔ سریش والا نے بی جے پی پارٹی کو بھی ٹوئیٹ کیا اور اس کے رکن اسمبلی کے ریمارک پر توجہ دلائی۔

نئی دہلی کے ایک سیاسی مبصر نے ریمارک کیا کہ مجلس تلنگانہ میں کے سی آر کی تائید کررہی ہے جبکہ کے سی آر نے بی جے پی کے حق میں سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔ اسی طرح کرناٹک میں ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مجلس نے جنتا دل ( سیکولر ) کی تائید کا اعلان کیا اور جنتا دل ( سیکولر ) معلق اسمبلی کی صورت میں بی جے پی کی تائید کا فیصلہ کرچکی ہے۔ اس طرح دونوں صورتوں میں تائید بی جے پی کی ہورہی ہے۔ سیکولرازم کا دم بھرنے والی ان جماعتوں کو تائید کا بالواسطہ انداز اختیار کرنے کے بجائے راست طور پر میدان میں آنا چاہیئے لیکن ان میں اس کی ہمت نہیں کیونکہ وہ خود بھی مذہب کے نام پر سیاست کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ عرصہ میں کرناٹک کے انتخابی منظر کے بارے میں سیاسی مبصرین نے جو تبصرے کئے ہیں ان میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کے سی آر اور اسد اویسی کی جانب سے جنتا دل ( سیکولر ) کی تائید کا مقصد بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ایسے وقت جبکہ کرناٹک میں سیکولرازم بمقابلہ فرقہ پرستی راست ٹکر ہے ایسے میں ووٹ تقسیم کرنے کیلئے جنتا دل ( سیکولر ) کی تائید اور کانگریس کی مخالفت سے درپردہ مقاصد آشکار ہوچکے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے یہ اعلان کیا ہے کہ ٹی آر ایس اور مجلس کی تائید سے ان کی پارٹی کو اقتدار حاصل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے 40 رکنی جماعت کے 112 ارکان تک پہنچنے کے طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی تاہم اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں معلق اسمبلی کا قیام جنتادل ( ایس ) کا مقصد ہے تاکہ مخلوط حکومت کے ذریعہ دیوے گوڑا کے فرزند کمار سوامی کو چیف منسٹرکی کرسی پر فائز کیا جائے۔2006 میں یہ تجربہ کیا جاچکا ہے اور اقتدار میں حصہ داری کیلئے اس تجربہ کو دہرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کے سی آر اور ان کی حلیف پارٹی کے صدر بنگلور میں دیوے گوڑا کی جانب سے منعقد کی جانے والی ریالی میں شرکت کریں گے۔ سیکولر ووٹ کی تقسیم کی اس چالبازی کو ناکام بنانے کیلئے کرناٹک کی اقلیتیں متحد ہوچکی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ہمت ہو تو کسی کا سہارا لئے بغیر راست طور پر بی جے پی کی تائید کردیں۔ کے سی آر اور ان کے حلیف کب تک عوام کی آنکھ میں دھول جھونکتے رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT