Saturday , July 21 2018
Home / Top Stories / کے سی آر نے تیسرے محاذ کی تشکیل کا ارادہ ترک کردیا؟

کے سی آر نے تیسرے محاذ کی تشکیل کا ارادہ ترک کردیا؟

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اہم تبدیلی،تلنگانہ میں کانگریس شکست پر توجہ، چندرا بابو نائیڈو مخالف بی جے پی جماعتوں کے ساتھ

حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کیا قومی سطح پر تیسرے محاذ کی تشکیل کا ارادہ ترک کردیا ہے ؟ چیف منسٹر کے دورہ دہلی سے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں گشت کرنے لگی ہیں کہ کے سی آر نے جس طرح تیسرے محاذ کی تشکیل کیلئے بڑے پیمانہ پر سرگرمی دکھائی تھی، اب وہ شاید تیسرے محاذ کے بجائے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کے ساتھ ملکر انتخابات میں حصہ لیں گے ۔ نیتی آیوگ کے اجلاس میں شرکت کیلئے کے سی آر نے دہلی میں قیام کے دوران وزیراعظم سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد سے کے سی آر کے موقف میں واضح طور پر تبدیلی دیکھی گئی۔ وزیراعظم سے ملاقات کے دوسرے ہی دن نیتی آیوگ کا اجلاس تھا جس میں کے سی آر اور چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کی سرگرمیاں 2019 ء میں ان کے سیاسی فیصلے کا اشارہ دے رہی تھی ۔ چندرا بابو نائیڈو کو مخالف بی جے پی چیف منسٹرس کے ساتھ دیکھا گیا جبکہ کے سی آر نے اپنا زیادہ تر وقت این ڈی اے کے چیف منسٹرس کے ساتھ گزارا ۔ تیسرے محاذ کی تشکیل کے سلسلہ میں اپوزیشن قائدین سے ملاقات کا دہلی میں بہترین موقع تھا ، اس کے باوجود کے سی آر نے کسی سے ملاقات نہیں کی۔ حد تو یہ ہے کہ کرناٹک میں انتخابات سے قبل اور پھر نتائج کے بعد بنگلور پہنچ کر ایچ ڈی دیوے گوڑا اور ایچ ڈی کمارا سوامی سے ملاقات کی گئی تھی لیکن نیتی آیوگ کے اجلاس میں کے سی آر نے کمارا سوامی سے ملاقات کرنا گوارا نہیں کیا۔ تیسرے محاذ کیلئے کولکتہ پہنچ کر ممتابنرجی سے ملاقات کرنے والے کے سی آر دہلی کے اجلاس میں ممتا سے بھی انجان ہوگئے۔ اس طرح یہ صاف طور پر دکھائی دے رہا تھا کہ کے سی آر 2019ء میں کس کے ساتھ جاسکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وزیراعظم سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے دوران نریندر مودی نے انہیں بی جے پی کی مخالفت نہ کرنے کے لئے آمادہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نے تلنگانہ کے زیر التواء مسائل کی یکسوئی اور درکار فنڈس کی اجرائی کا تیقن دیا جس کے بعد کے سی آر نے تیسرے محاذ کی سرگرمیاں روک دی۔ حالانکہ دہلی میں وہ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی چیف منسٹرس کے ساتھ بآسانی اجلاس منعقد کرسکتے تھے۔ مبصرین کے مطابق چیف منسٹر ریاست کے مفادات کی تکمیل کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو اقتدار سے روکنا ہے۔ حالیہ عرصہ میں کانگریس پارٹی نے مخالف حکومت مہم کے ذریعہ اپنا موقف مستحکم کیا ہے ، لہذا کے سی آر تلنگانہ میں بی جے پی کو خطرہ نہیں مانتے۔ بی جے پی سے دوستی کے ذریعہ وہ کانگریس کو شکست دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نیتی آیوگ کے اجلاس میں جب وزیراعظم پہنچے تو انہوں نے چیف منسٹرس سے خیرسگالی ملاقات کی ۔ اس وقت کے سی آر ، بی جے پی کے چیف منسٹرس رمن سنگھ ، شیوراج سنگھ چوہان اور بی جے پی کے حلیف نتیش کمار کے ساتھ کھڑے تھے جبکہ چندرا بابو نائیڈو کے ہمراہ مغربی بنگال کے چیف منسٹر ممتا بنرجی چیف منسٹر کرناٹک ایچ ڈی کمارا سوامی اور کیرالا کے چیف منسٹر پی وجین موجود تھے۔ کے سی آر نے چار دن تک دہلی میں قیام کیا لیکن انہوں نے تھرڈ فرنٹ کے سلسلہ میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی ۔ انہوں نے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال سے ملاقات کی زحمت گوارا نہیں کی جو مرکز کے رویہ کے خلاف لیفٹننٹ گورنر کے قیامگاہ پر دھرنا دے رہے تھے۔ ریاستوں سے ناانصافی کے مسئلہ پر اروند کجریوال نے تیسرے محاذ کی تائید کی تھی لیکن کے سی آر نے ان سے اظہار یگانگت نہیں کیا۔ برخلاف اس کے چندرا بابو نائیڈو ، ممتا بنرجی اور کمارا سوامی نے کجریوال کے مسئلہ پر وزیراعظم کی توجہ مبذول کرائی۔ چیف منسٹر کی دہلی میں سرگرمیوں کے بعد ٹی آر ایس حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا لوک سبھا اور اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔ اگر مرکز لوک سبھا کے وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ کرتا ہے تو دیگر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ تلنگانہ اور ٹاملناڈو بھی اسمبلی انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT