Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / کے سی آر نے عیدالفطرکے تحفہ کے بجائے مسلمانوں کو مایوس کردیا

کے سی آر نے عیدالفطرکے تحفہ کے بجائے مسلمانوں کو مایوس کردیا

وزیر اعظم سے ملاقات میں مسلم تحفظات کا کوئی ذکر نہیں، نریندر مودی سے کے سی آر خائف کیوں ؟

کہیں بی جے پی کے ساتھ مل کر انتخابات کی تیاری تو نہیں

حیدرآباد۔/15 جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے مسلمانوں کو عیدالفطر کا تحفہ دینے کے بجائے انہیں مایوس کردیا ہے۔ عید سے ایک دن قبل کے سی آر کی نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے ضمن میں تلنگانہ کے مسلمان خوش تھے کہ چیف منسٹر مسلم تحفظات کا مسئلہ وزیر اعظم سے گفتگو میں ضرور اُٹھائیں گے۔ چیف منسٹر کی دہلی روانگی کے بعد اُن کے دفتر سے یہ تاثر دیا گیا کہ ریاست کے دیگر مسائل کے علاوہ مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کی منظوری کا مسئلہ بھی پیش کیا جائیگا۔ چیف منسٹر نے آج دوپہر میں وزیر اعظم سے ملاقات کی جو تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی۔ کے سی آر نے وزیر اعظم کو 10 مختلف مسائل پر علحدہ علحدہ یادداشت حوالے کی لیکن اس میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات کا مسئلہ شامل نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ نوٹ کے مطابق چیف منسٹر نے جن 10 اُمور پر یادداشت پیش کی ان میں ریاست کیلئے علحدہ ہائی کورٹ، کالیشورم پراجکٹ کیلئے مرکزی امداد ، ریاست کے ریلوے پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل، سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے ڈیفنس لینڈ کی منظوری، پسماندہ اضلاع کی ترقی کیلئے مرکزی فنڈز ، تلنگانہ کیلئے آئی آئی ایم کی منظوری، آئی ٹی آئی آر کیلئے فنڈز کی اجرائی، کریم نگر میں آئی آئی ٹی کی منظوری، تلنگانہ کے نئے اضلاع میں جواہر نووودیہ مراکز کی منظوری اور تلنگانہ کے نئے زونل سسٹم کی منظوری کیلئے صدارتی حکمنامہ میں ترمیم شامل ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر نے مسلم اور ایس ٹی تحفظات پر گفتگو کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ کے سی آر کو تحفظات کے مسئلہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مسلمانوں کو عیدالفطر کے تحفہ کے طور پر تحفظات کو مرکز کی منظوری کی خوشخبری سناسکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ عیدالفطر سے عین قبل مسلمانوں کی ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے چیف منسٹر کے سی آر نے تحفظات مسئلہ پر لب کشائی سے گریز کرتے ہوئے اپنی عدم سنجیدگی کو پھر ایک بار ثابت کردیا ہے۔4 ماہ میں تحفظات پر عمل آوری کا وعدہ 4 سال کی تکمیل کے بعد بھی پورا نہیں ہوسکا۔ چیف منسٹر نے تحفظات بل کی منظوری کے وقت اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ اگر مرکز بل کو منظوری نہ دے تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی اور دہلی میں جنتر منتر پر دھرنا منظم کیا جائیگا۔ مرکز نے 3 ماہ قبل تحفظات بل کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے واپس کردیا ہے لیکن چیف منسٹر نے نہ ہی سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی پہل کی اور نہ دہلی میں کوئی دھرنا منظم کیا گیا۔ اب جبکہ چیف منسٹر نئی دہلی میں ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم سے تحفظات کے بارے میں بات چیت تک نہیں کی تو انہیں کم سے کم اس مسئلہ پر مرکز اور اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ مسلمانوں کو تحفظات پر عمل آوری کی جھوٹی تسلی آخر کب تک دی جاتی رہے گی۔ ایک طرف وزیر اعظم کے سامنے چیف منسٹر کے سی آر تحفظات کے مسئلہ پر لب کشائی سے بچتے رہے تو دوسری طرف تلنگانہ میں دعوت افطار کے موقع پر وزراء اور ٹی آر ایس کے عوامی نمائندے مسلمانوں کو یہ بھروسہ دلاتے رہے کہ حکومت تحفظات کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کررہی ہے۔ اگر حکومت کے کوئی اقدامات ہوں تو وہ نظر بھی آنے چاہیئے صرف زبانی تیقنات اور وعدوں کے ذریعہ آئندہ عام انتخابات میں مسلمانوں کی دوبارہ تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تحفظات کی منظوری مرکز کے ہاتھ میں ہے اور مرکزی حکومت کے سربراہ سے ملاقات کے وقت اس مسئلہ پر چیف منسٹر کی خاموشی سے مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کے کے سی آر حکومت مسلم تحفظات کو محض انتخابی حربہ کے طور پر استعمال کررہی ہے ۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے موقع پر مسلم تحفظات کے بارے میں تذکرہ نہ کرنے کی بات کسی اور نے نہیں بلکہ خود چیف منسٹر کے دفتر نے قبول کی ہے۔ سی ایم او کی جانب سے تلگو اور انگریزی میں دو تفصیلی نوٹ میڈیا کیلئے جاری کئے گئے جن میں ان امور کا تذکرہ ہے جو گفتگو کا موضوع رہے۔ جن 10 مسائل پر کے سی آر نے وزیر اعظم کو مکتوب حالے کیا ان میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات کا کوئی تذکرہ نہیں۔ کیا چیف منسٹر وزیر اعظم کے روبرو مسلم تحفظات کا ذکر کرنے سے خائف ہیں یا پھر وہ آئندہ عام انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ ملکر کانگریس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT