Wednesday , November 21 2018
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا، پارٹی کے اقلیتی قائدین ناراض

کے سی آر نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا، پارٹی کے اقلیتی قائدین ناراض

4 ماہ میں تحفظات کا وعدہ 4 سال میں نامکمل، مسلمان الیکشن میں شعور کا مظاہرہ کریں
حیدرآباد ۔ 7 ۔ نومبر (سیاست نیوز) مسلمانوں کے ساتھ ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کے کان خوش کرنے کے رویہ سے ناراض ہوکر پارٹی کے اقلیتی قائدین نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مزید دھوکہ کا شکار نہ ہوں اور اسمبلی انتخابات میں سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ پارٹی کے سینئر اقلیتی قائد ایم اے حق قمر نے دیگر قائدین محمد حمید الزماں ، محمد احمد ، محمد عبدالرؤف ، عبدالحمید خاں ، شیخ آدم کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی اور الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے عام مسلمانوں اور پارٹی دونوں میں دھوکہ دیا ہے ۔ مسلمانوں سے کئے گئے کے سی آر کے وعدے محض کان خوش کرنے کی کوشش ثابت ہوئے۔ دوسری پارٹیوں پر مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرنے والے کے سی آر نے خود مسلمانوں کا سیاسی استحصال کیا۔ 12 فیصد تحفظات اقتدار کے چار ماہ کے اندر فراہم کرنے کا اعلان چار سال میں بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ انتخابات میں مسلمانوں کو آبادی کے اعتبار سے 14 تا 15 ٹکٹ فراہم کرنے اور کابینہ میں 4 تا 5 وزراء کو شامل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ لیکن 2014 اور پھر 2018 ء دونوں الیکشن میں کے سی آر اپنے وعدہ کو بھول گئے ۔ پارٹی نے ابھی تک 107 امیدواروں کے نام کا اعلان کیا ہے ، جن میں صرف دو کا تعلق مسلم اقلیت طبقہ سے ہے۔ ان میں بھی پرانے شہر کے امیدوار کی کامیابی ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ ایسی شخصیت کو دیا گیا جنہیں مسلمانوں کے مفادات سے زیادہ اپنے شخصی مفادات کی فکر ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے کبھی بھی مسلمانوں کے مسائل اور پارٹی قائدین کے سلسلہ میں کے سی آر سے نمائندگی نہیں کی ۔ وہ اقلیتی قائدین کی کے سی آر سے ملاقات کا وقت مقرر کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ۔ ایم اے حق قمر نے کہا کہ ایسے ڈپٹی چیف منسٹر سے کیا فائدہ جو قوم کیلئے فائدہ مند نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کو روکنے میں کے سی آر حکومت ناکام ہوچکی ہے جبکہ کے سی آر نے اوقافی جائیدادیں مسلمانوں کو واپس کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ عبدالحق قمر نے کہا کہ وہ آخری دم تک ٹی آر ایس سے وابستہ رہیں گے اور مسلمانوں کو کے سی آر کے اصلی چہرہ سے واقف کرانے کیلئے انہوں نے پریس کانفرنس منعقدکی ہے۔ وہ ایک اقلیتی قائد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ٹی آر ایس اور کے سی آر سے باخبر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر خود چیف منسٹر سے ملاقات نہیں کرسکتے ، وہ دوسروں کی ملاقات کس طرح طئے کرسکتے ہیں ؟

TOPPOPULARRECENT