کے سی آر نے پارٹی کے اختیارات فرزند کے ٹی آر کو منتقل کردیئے

قومی سیاست میں حصہ لینے کی تیاری، پارٹی حلقوں میں خوشی کی لہر

حیدرآباد۔/14ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی اور حکومت کی تشکیل کے فوری بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے فرزند کے ٹی راما راؤ کو اختیارات کی منتقلی کا آغاز کردیا ہے۔ مستقبل کے چیف منسٹر کی حیثیت سے پارٹی حلقوں میں شناخت بنانے والے کی ٹی آر کو تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا ورکنگ پریسیڈنٹ مقرر کیا گیا۔ کے سی آر نے اس سلسلہ میں آج صبح پارٹی صدر کی حیثیت سے احکامات جاری کئے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کے سی آر نے قومی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا لہذا پارٹی کی ذمہ داری کے ٹی آر کو سونپتے ہوئے وہ قومی سیاست پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ کے ٹی راما راؤ ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ کا 17 ڈسمبر کو جائزہ حاصل کریں گے۔ اسمبلی انتخابات میں کے ٹی آر نے حلقہ اسمبلی سرسلہ سے 88 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ کابینہ کی تشکیل ابھی باقی ہے اور اس سے قبل ہی کے سی آر نے اپنے فرزند کو پارٹی اُمور کی ذمہ داری تفویض کردی۔ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف منسٹر نے قومی سطح پر معیاری تبدیلی کیلئے توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں چیف منسٹر نے اس بات کی ضرورت کو محسوس کیا کہ ریاستی سطح پر پارٹی کے معاملات ایک قابل اور بااعتماد شخص کو تفویض کریں۔ اور چیف منسٹر اپنا وقت انتظامی اُمور اور آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل اور دیگر اُمور پر صرف کرسکیں جس کا انہوں نے انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کو سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنے کی غرض سے کے سی آر نے ٹی آر ایس کا قیام عمل میں لایا اور 14 برس کی جدوجہد کے بعد ریاست حاصل کی گئی۔2014 میں تشکیل حکومت کے ذریعہ ٹی آر ایس نے سنہرے تلنگانہ کے قیام کو یقینی بنانے کی ایک مضبوط بنیاد رکھی۔ عوام نے اس یقین کے ساتھ کہ ٹی آر ایس پارٹی تلنگانہ کے ساتھ انصاف کرپائے گی اسمبلی الیکشن میں عظیم الشان کامیابی سے ہمکنار کیا۔ چیف منسٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ تلنگانہ عوام ٹی آر ایس پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں اور ریاست کے روشن مستقبل کیلئے عوام چاہتی ہے کہ ٹی آر ایس پارٹی ریاست میں اور بھی زیادہ طاقتور و مستحکم ہو۔ کے سی آر کے قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کے فیصلہ اورریاست میں ترقیاتی اور فلاحی پروگراموں کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری کے تناظر میں ان پر کام کا بوجھ بڑھنے کے قوی امکانات ہیں جس کے پیش نظر انہوں نے پارٹی کو اپنے منصوبوں کے مطابق آگے لیجانے کی ذمہ داری سب سے بااعتماد شخص کے ٹی آر کو تفویض کی ہے اور ان سے امید وابستہ کی ہے کہ وہ تفویض کردہ ذمہ داریوں کو پورا کریں گے جن میں پارٹی کی رکنیت سازی میں اضافہ، اضلاع میں پارٹی دفاتر کی تعمیر اور پارٹی کو ایک طاقتور جماعت کے طور پر فروغ دینا شامل ہے۔ چیف منسٹر نے امید ظاہر کی کہ ٹی آر ایس ملک میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی۔ ایسے میں کے ٹی آر جوکہ پارٹی اور حکومت کی دوہری ذمہ داریوں کو بخوبی اور مؤثر طورپر انجام دیتے آرہے ہیں انہیں پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کی ذمہ داری دی گئی۔ چیف منسٹر نے اپنے بیان میں کے ٹی آر کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ یہ صلاحیتیں پارٹی کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اسی دوران ورکنگ پریسیڈنٹ کی حیثیت سے تقرر کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی قائدین، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی کی جانب سے کے ٹی آر کو مبارکباد کی پیشکشی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

کے ٹی آر کو ڈی ناگیندر کی مبارکباد
حیدرآباد /14 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) رکن اسمبلی خیریت آباد مسٹر ڈی ناگیندر نے سابق ریاستی وزیر و رکن اسمبلی کے ٹی آر کو پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کی حیثیت سے تقرر ہونے پر مبارکباد پیش کی اور اس اقدام کو تلنگانہ کی ترقی کیلئے ایک مشتبہ اور مثالی اقدام قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد اور گریٹر حیدرآباد میں ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی میں کے ٹی آر نے اہم رول ادا کیا اور اپنی سخت محنت و جدوجہد سے انہوں نے پارٹی کے امیدواروں کو کامیابی دلائی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی عوام سے کے ٹی آر کی اٹوٹ وابستگی ہے اور عوام کو کے ٹی آر پر بھروسہ ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے چندرا شیکھر راؤ کی دور اندیشی کی ستائش کی اور کہا کہ اب کے ٹی آر کی خدمات سے ریاست تلنگانہ ملک کی ریاستوں میں سرفہرست ترقی پسند ریاست بن گئی ہے ۔ مسٹر ڈی ناگیندر نے کہا کہ مخالفینبھی کے ٹی آر کی صلاحیتوں کو مانتے ہیں ۔ ترقی اور خوشحالی کیلئے ٹی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ اقدامات تلنگانہ ریاست کیلئے ایک اعزاز سے کم نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT