Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر کا تشکیل حکومت کا دعویٰ مضحکہ خیز، کانگریس کی حکومت یقینی:جناب محمد علی شبیر

کے سی آر کا تشکیل حکومت کا دعویٰ مضحکہ خیز، کانگریس کی حکومت یقینی:جناب محمد علی شبیر

حیدرآباد۔/10مئی، ( سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے قیام کو یقینی قرار دیا اور اس سلسلہ میں ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ کے دعوؤں کو محض خوش فہمی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے لہذا عوام نے اسی کو برسراقتدار لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تلنگانہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ کے سی آر کی جانب سے اقتدار کے دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ دراصل کے سی آر عوام اور ٹی آر ایس قائدین کے ذہنوں سے کھیل رہے ہیں، انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی ان کے رویہ سے نالاں ہوکر کانگریس میں شامل ہوجائیں گے۔ قائدین کو پارٹی چھوڑنے سے روکنے کیلئے وہ اکثریت کے حصول کا دعویٰ کررہے ہیں۔محمد علی شبیر نے کہا کہ رائے دہی کے بعد سے آج تک چندر شیکھر راؤ نے نشستوں کے حصول کے سلسلہ میں کئی دعوے کئے۔ ابتداء میں 100سے زائد نشستوں کے حصول کا دعویٰ کیا، بعد میں یہ تعداد گھٹ کر 60تک پہنچ گئی۔ اس طرح خود کے سی آر بھی پارٹی کی کامیابی کے بارے میں پُرامید نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی معلق اسمبلی کی صورت میں حلیف جماعتوں کی تائید سے حکومت تشکیل دے گی اور تلنگانہ کی پہلی حکومت کانگریس کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حلیف جماعتوں کے علاوہ خود ٹی آر ایس کے کئی قائدین کانگریس کی تائید کیلئے آمادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اپنے دس سالہ دور میں تلنگانہ کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کئے۔ اس کے برخلاف چندر شیکھر راؤ صرف تلنگانہ کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔ کے سی آر نے بحیثیت مرکزی وزیر تلنگانہ تو کجا اپنے حلقہ انتخاب کی ترقی پر توجہ نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر الیکشن میں اپنا حلقہ انتخاب تبدیل کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کے موقع پر چندر شیکھر راؤ لوک سبھا میں موجود نہیں تھے۔ لہذا انہیں تلنگانہ کے حصول کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
کانگریس صدر سونیا گاندھی نے عوام سے کئے گئے وعدہ کی تکمیل کیلئے کئی مخالفتوں کے باوجود دیگر جماعتوں سے سرگرم مشاورت کی اور اتفاق رائے کے ذریعہ دونوں ایوانوں میں بل کی منظوری کو یقینی بنایا۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ ٹی آر ایس تلنگانہ کے صرف چار اضلاع میں اپنا وجود رکھتی ہے جن میں کریم نگر، ورنگل، عادل آباد اور میدک شامل ہیں جبکہ مابقی چھ اضلاع میں ٹی آر ایس امیدواروں کی کامیابی کے امکانات موہوم ہیں۔ کھمم، حیدرآباد اور رنگاریڈی میں تو ٹی آر ایس کا وجود نہیں۔ نظام آباد، نلگنڈہ اور محبوب نگر میں کانگریس دوسری جماعتوں سے آگے ہے۔ اس اعتبار سے تلنگانہ میں تشکیل حکومت کیلئے درکار نشستیں حاصل کرنے چندر شیکھر راؤ کا دعویٰ محض خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

TOPPOPULARRECENT