Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / !کے سی آر کا تھرڈ فرنٹ ٹائیں ٹائیں فش

!کے سی آر کا تھرڈ فرنٹ ٹائیں ٹائیں فش

ممتا بنرجی اور شرد پوار نے مایوس کردیا، ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کوبھی محاذ کا یقین نہیں

حیدرآباد۔/7 اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ملک میں تھرڈ فرنٹ کے قیام کا اعلان کیا عملی شکل اختیار کرپائے گا؟ اس بارے میں خود پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر قائدین اندیشوں کا شکار ہیں۔ کے سی آر نے قومی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی سے یکساں دوری اختیار کرنے اور تیسرے محاذ کے قیام کا اعلان تو کیا لیکن انہیں محاذ کی تشکیل کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں سے درکار تائید حاصل نہیں ہوپائی ہے جس کے نتیجہ میں تھرڈ فرنٹ کی مساعی آگے نہیں بڑھ سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ تیسرے محاذ کا اعلان ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ کے سی آر نے کانگریس اور بی جے پی کے خلاف محاذ کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے سب سے پہلے مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی سے ربط قائم کیا اور انہوں نے اگرچہ کانگریس کے بغیر محاذ کی تشکیل کے امکانات کو مسترد کردیا لیکن ٹی آر ایس کے حلقوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ممتا بنرجی تیسرے محاذ کیلئے کے سی آر کے ساتھ ہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق اسمبلی اجلاس کے دوران جب کے سی آر خصوصی طیارہ سے کولکتہ پہنچے تو ممتا بنرجی نے بات چیت میں کانگریس کے بغیر محاذ کی تشکیل کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی سے مقابلہ کیلئے کانگریس کی قیادت میں محاذ تشکیل دیا جاسکتا ہے کیونکہ کانگریس قومی جماعت ہے۔ ملاقات کے دوران ممتا بنرجی کے واضح موقف سے کے سی آر کو مایوسی ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق ممتا بنرجی ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کیلئے تیار نہیں تھیں لیکن کسی طرح انہیں بات چیت کیلئے راضی کیا گیا جس میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ محاذ کی تشکیل ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے۔ ممتا بنرجی سے تائید حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کے سی آر کے حوصلے پست ہوگئے اور انہوں نے اس معاملہ میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔ کے سی آر نے نئی دہلی کا اپنا دورہ بھی منسوخ کردیا کیونکہ شرد پوار نے کانگریس کی قیادت میں مخالف بی جے پی محاذ کی تشکیل کی تائید کی۔ اس طرح کے سی آر کے تیسرے محاذ میں شمولیت کیلئے کوئی بڑی جماعت تیار نہیں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسی جماعتیں جن کا وجود کوئی خاص معنی نہیں رکھتا وہ کے سی آر کے ساتھ آنے کیلئے تیار ہوئیں لیکن ان سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔ کے سی آر اس صورتحال سے مایوس ہوکر آرام کیلئے فارم ہاوز چلے گئے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے اس سلسلہ میں کوئی مشاورت نہیں کی جس کے نتیجہ میں ارکان پارلیمنٹ نجی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اب کوئی محاذ تشکیل نہیں پائے گا۔ چندرا بابو نائیڈو نے جب علحدہ محاذ کی کوشش شروع کی تو کے سی آر نے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن بتایا جاتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو اپنے محاذ میں ٹی آر ایس کی شمولیت کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان حالات میں کے سی آر کو کسی بھی گوشہ سے حوصلہ افزاء ردعمل نہیں ملا۔ پارلیمنٹ میں تلگودیشم کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ٹی آر ایس نے تائید نہیں کی جس سے یہ واضح ہوگیا کہ کے سی آر اندرونی طور پر مودی حکومت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی تائید کی صورت میں مرکز سے انتقامی کارروائی کے خوف نے کے سی آر کو مخالف مرکز جانے سے روک دیا۔ اب جبکہ کانگریس نے مخالف این ڈی اے محاذ کی قیادت تقریباً سنبھال لی ہے ایسے میں کے سی آر کیلئے کوئی گنجائش نہیں کہ وہ تھرڈ فرنٹ تشکیل دیں۔

TOPPOPULARRECENT