Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / کے سی آر کا ( پرانا شہر )چارمینار منتظر

کے سی آر کا ( پرانا شہر )چارمینار منتظر

ایم پی، ایم ایل اے اور کارپوریٹرس غائب ، کام ٹھپ ، سڑکیں برباد، کوئی پُرسان حال نہیں
گولکنڈہ جانے والی تمام سڑکیں درست

حیدرآباد۔10 اگسٹ (سیاست نیوز ) ’’چیف منسٹر صاحب گولکنڈہ میں یوم آزادی تقریب نے گولکنڈہ تک پہنچنے والی کئی سڑکوں کو بہتر بنا دیا ‘‘ایک نظر چارمینار اور پرانے شہر کے دیگر علاقوں پر بھی ڈالیئے تاکہ شہر کے اس خطہ کا بھی بھلا ہو جائے۔ گذشتہ ہفتہ چیف منسٹر کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات کے اچانک دورے کے اعلان نے پرانے شہر کے شہریوں کے دلوں میں امید کی کرن پیدا کردی ہے اور وہ اس بات سے پر امید ہیں کہ ریاست کے حرکیاتی چیف منسٹر جناب کے چندر شیکھر راؤ شہر کے مسلسل نظرانداز کئے جانے والے اس خطہ کی جانب متوجہ ہوں گے کیونکہ اس علاقہ کے عوام کو راست چیف منسٹر سے اپنی بپتا سنانے کا موقع کم ہی میسر آتا ہے اور کئی چیف منسٹرس نے تو اس علاقہ کیلئے کئی ہزار کروڑ کے اعلانات کئے اور بعض نے اس علاقہ میں ترقیاتی پراجکٹس کے سنگ بنیاد رکھنے پر اکتفاء کیا لیکن پرانے شہر کی ترقی کو پتہ نہیں کس کی نظر بد لگی ہوئی ہے کہ اس علاقہ میں شروع کئے جانے والے پراجکٹس برسہا برس میں مکمل نہیں ہوتے۔ ریاست کے چیف منسٹرس کے اعلانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ شہر کے اس خطہ کی ترقی کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن عملی اقدامات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان علاقوں کے منتخبہ نمائندے اکثر ان علاقوں کی ترقی کے متعلق غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں

جس کے نتیجہ میں کئی پراجکٹس جوں کے توں رہے یا پھر اعلانات کی حد تک محدود رہے۔ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے پرانے شہر کا اچانک دورہ کرنے والے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مکہ مسجد کے عقب میں واقع مہاجرین کیمپ کی جگہ ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر کے منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے معیاری رہائش گاہوں کی فراہمی کا منصوبہ پیش کیا تھا لیکن ان کا یہ منصوبہ آج تک قابل عمل نہیں ہو سکا۔ اسی طرح ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اپنے دور حکومت میں پرانے شہر کا دورہ کرتے ہوئے جے این این یو آر یام کے علاوہ دیگر کئی اسکیمات کے ذریعہ صرف پرانے شہر میں 2000کروڑ کے خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا تھا لیکن ان 2000کروڑ کے ترقیاتی کاموں کے متعلق نہ حکومت سے کوئی استفسار کرتا ہے اور نہ ہی منتخبہ نمائندے ان کاموں کی تفصیلات پیش کرنے کے موقف میں نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے بعد ڈاکٹر کے روشیا نے کچھ وقت کے لئے اقتدار سنبھالا لیکن انہیں اتنی فرصت نہیں مل پائی کہ وہ شہر کے اس خطہ کا دورہ کر پاتے لیکن جب مسٹر کرن کمار ریڈی نے ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے اقتدار حاصل کیا تو انہوں نے شہر کے اس خطہ میں کئی ترقیاتی پراجکٹس کا سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے راست نمائندگیاں بھی وصول کی لیکن ان پراجکٹس اور نمائندگیوں کا کیا ہوا یہ کوئی بھی جواب دینے سے قاصر ہیں۔ جناب کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر کی حیثیت سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد چند ماہ میں ہی پرانے شہر کے بعض علاقوں کا دورہ کیا

اور کئی اعلانات کے ساتھ پرانے شہرمیں واقع قدیم محلہ دارالشفاء میں اوور ہیڈ واٹر ٹینک کی تعمیر کا اعلان کیا تھا ۔ جنوری 2015 میں ہوئے چیف منسٹر کے اس دورۂ پرانے شہر کے بعد پرانے شہر کی عوام کی توقعات میں اضافہ ہوا تھا اور عوام یہ سمجھنے لگے تھے کہ اردو بولنے اور سمجھنے والے چیف منسٹر صاحب اب پرانے شہر آتے جاتے رہیں گے اور ان کے علاقوں تک بھی ترقی کی رسائی ہوگی لیکن اس دورے کے مثبت نتائج کیلئے آج تک بھی پرانے شہر کے عوام منتظر ہیں لیکن حالیہ دنوں میں چیف منسٹر نے اچانک دوروں کا اعلان کیا تو پھر ایک مرتبہ عوام کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عوام خود اس بات کے منتظر ہیں کہ چیف منسٹر ان کی شکایات کی راست سماعت کریں اور ان کے مسائل کے حل میں شخصی دلچسپی لیں تاکہ انہیں اپنے مسائل کے حل کیلئے در بہ در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں کئی ایک مسائل ہیں جن میں سب سے اہم مسئلہ سرکاری دواخانوں اور اسکولوں کا ہے اسی طرح پرانے شہر کے بیشتر مقامات پر بلدی  مسائل کے ساتھ ساتھ برقی و آبرسانی کے مسائل پائے جاتے ہیں جنہیں حل کیا جانا ضروری ہے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ پرانے شہر کے عوام سے راست نمائندگیاں وصول کرتے ہیں اور ان سے بات چیت کرتے ہیں تو انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ پرانے شہر کے عوام کن حالات میں زندگی گذار رہے ہیںلیکن عوام کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ برسراقتدار طبقہ کی ان تک رسائی میں کون حائل ہیں اور کیوں وہ برسر اقتدار طبقہ کو عوام کے درمیان پہنچنے سے روکتے ہیں۔ موجودہ چیف منسٹر کی اردو زبان سے واقفیت ان کے پرانے شہر کے عوام کے درمیان پہنچنے میں کارآمد ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کے سیاسی فوائد بھی انہیں حاصل ہوں گے اس بات کو دیکھتے ہوئے نہ صرف چیف منسٹر بلکہ دیگر ریاستی وزراء کی سرگرمیوں کو بھی پرانے شہر سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا راست نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT