Monday , September 24 2018
Home / مضامین / کے سی آر کو درپیش چیلنجس

کے سی آر کو درپیش چیلنجس

محمد نعیم وجاہت

محمد نعیم وجاہت
ہندوستان کی 29 ویں ریاست کے طورپر 2 جون کو تلنگانہ ہندوستان کے نقشہ پر نمودار ہوچکا ہے۔ تلنگانہ میں تمام سیاسی جماعتوں نے یکم جون کی نصف شب سے جشن منانا شروع کیا اور 2 جون کو سکندرآباد پریڈ گراؤنڈ پر سرکاری طورپر یوم تاسیس تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں بحیثیت چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شرکت کی اور اس تقریب کو یادگار بنانے کے لئے انھوں نے گیارہ وزراء کے ساتھ حلف لیا۔ علاوہ ازیں ایم ایل سی جناب محمد محمود علی اور ایس سی طبقہ کے قائد ڈاکٹر راجیا کو ڈپٹی چیف منسٹرس بناکر عوام میں مثبت پیغام پہنچانے کی ہرممکن کوشش کی۔ تمام سیاسی جماعتوں یہاں تک کہ تلنگانہ کی مخالف وائی ایس آر کانگریس اور سی پی ایم نے بھی اپنے اپنے دفاتر پر یوم تاسیس تقاریب کا اہتمام کیا۔
14 سال تک تلنگانہ تحریک چلانے والی ٹی آر ایس پر تلنگانہ عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کے لئے اکثریت فراہم کی، تاہم اقتدار کانٹوں کا تاج ہوتا ہے، جس کا اندازہ کے سی آر اور دیگر ٹی آر ایس قائدین کو صرف ایک ہفتہ میں ہوچکا ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے طویل عرصہ تک اسمبلی اور اسمبلی کے باہر احتجاج، بند کا اعلان اور حکومت کے خلاف مظاہرے کا ٹی آر ایس کو اعزاز حاصل ہے۔ کئی دنوں تک اسمبلی کا اجلاس منعقد نہ ہونے دینے، ہر اسکیم پر عمل نہ ہونے اور تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا حکومتوں پر الزامات عائد کرنے والی ٹی آر ایس اب حکمراں جماعت بن گئی ہے اور اب وہ خود اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پر ہے۔

چیف منسٹر عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد پہلے دن کے چندر شیکھر راؤ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدہ داروں کا اجلاس طلب کرکے آئندہ 6 ماہ بعد منعقد ہونے والے بلدی انتخابات کا عملاً آغاز کردیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے دن برقی، اکسائز، لاء اینڈ آرڈر اور بینکرس کا بھی اجلاس طلب کیا، تاہم بینکرس کے اجلاس کے بعد قرضوں کی معافی کے تعلق سے وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کا ردعمل متنازعہ بن گیا۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم بینکرس کے اجلاس کے بعد وزیر فینانس نے جون 2013ء تا مئی 2014ء کے درمیان ایک لاکھ روپئے سے کم لئے گئے قرض کی معافی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ سونے پر حاصل کئے گئے قرض کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے حلقہ اسمبلی گجویل میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کے 12 ہزار کروڑ کے قرضہ جات معاف کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ایک ہفتہ قبل اقتدار سنبھالنے والی ٹی آر ایس کے خلاف احتجاجی مہم شروع کردی۔ کئی اضلاع میں چیف منسٹر کے پتلے نذر آتش کئے گئے اور سیاسی جماعتوں نے عوام کے ساتھ مل کر مظاہرے شروع کردیئے۔ یعنی ٹی آر ایس کا یہ فیصلہ ’’سر مُنڈاتے ہی اولے پڑے‘‘ کے مماثل ہے۔ عوام کا غم و غصہ دیکھ کر چیف منسٹر بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے اور اہم وزراء کو اجلاس طلب کرکے حالات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ اب اس مسئلہ پر حکومت اپوزیشن جماعتوں سے کس طرح نپٹے گی اور عوام کو کس طرح مطمئن کرے گی، اس کا اندازہ 9 تا 13 جون منعقد شدنی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ہوگا۔

ریاست تلنگانہ کی آبادی تقریباً 4 کروڑ ہے، جس کا رقبہ 11,840 کیلو میٹر اور صدر مقام حیدرآباد ہے۔ تلنگانہ میں 119 اسمبلی اور 17 لوک سبھا حلقہ جات ہیں، جب کہ کونسل کی 40 اور راجیہ سبھا کی 7 نشستیں ہیں۔ تلگو یہاں کی سرکاری اور اردو دوسری سرکاری زبانیں ہے۔ تلنگانہ میں 10 اضلاع ہیں، جب کہ ٹی آر ایس اس میں اضافہ کرکے 24 اضلاع بنانے کی تجویز رکھتی ہے۔ تلنگانہ میں 389 منڈل اور 39 بلدیات ہیں۔ اہم شہروں میں حیدرآباد، نظام آباد، ورنگل اور کریم نگر کا شمار ہوتا ہے۔ 12 سیاحتی علاقے، 8 آبپاشی پراجکٹس اور 12 ندیاں ہیں۔ تلنگانہ کی سرحدیں مہاراشٹرا، کرناٹک، چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش سے ملتی ہیں۔ تلنگانہ میں 9 یونیورسٹیاں ہیں، یہاں تمام مذاہب و طبقات کے لوگ رہتے بستے ہیں، جب کہ پسماندہ طبقات کی آبادی سارے ملک میں سب سے زیادہ 80 تا 83 فیصد یہیں پائی جاتی ہے۔ یہاں اقلیتی طبقات کی آبادی بھی قابل لحاظ ہے۔ راما گنڈم اور کتہ گوڑم تھرمل پاور پلانٹس کے علاوہ یہاں جنگلاتی علاقے بھی پائے جاتے ہیں۔
قدرتی وسائل اور مختلف محکمہ جات سے ہونے والی آمدنی کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کو چاہئے کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے۔ سیاحتی علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو آمدنی کا ذریعہ بنائے۔ امن و امان کی برقراری کے لئے خصوصی اقدامات کرے۔ ترقی کے معاملے میں تمام مذاہب و طبقات کو برابری کا حصہ دار بنائے۔ تقسیم کے بعد تلگو عوام کی دو ریاستیں بن گئی ہیں، لہذا دونوں ریاستوں کو چاہئے کہ ترقی کے معاملے میں صحت مند مسابقت پر توجہ مرکوز کریں۔
تلگودیشم، این ڈی اے کی حلیف ہے۔ صدر تلگودیشم اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان خوشگوار سیاسی تعلقات ہیں۔ آندھرا پردیش کے لئے یہ بھی خوش آئند ہے کہ بی جے پی کے سینئر قائد ایم وینکیا نائیڈو کا تعلق اسی علاقہ سے ہے، جو مرکزی وزیر ہونے کے علاوہ وزیر اعظم کے خاص لوگوں میں شمار ہوتے ہیں، اس طرح دونوں نائیڈو (چندرا بابو اور وینکیا) آندھرا پردیش کی ترقی کے لئے اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔

ان حالات میں تلنگانہ کی ترقی کے لئے مرکز سے فنڈس حاصل کرنا ٹی آر ایس حکومت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ تلنگانہ میں 17 کے منجملہ 11 لوک سبھا حلقوں سے ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں، تاہم بی جے پی کو مرکز میں تشکیل حکومت کے لئے مکمل اکثریت حاصل ہے، اس لئے اس کو کسی ریاستی جماعت کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ سربراہ ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ چیف منسٹر بننے کے بعد پہلی بار دہلی کے دورہ پر پہنچے ہیں، جہاں وہ صدر جمہوریہ، وزیر اعظم اور مختلف وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ کی ترقی کے لئے تعاون طلب کریں گے اور آندھرا پردیش کے طرز پر تلنگانہ کو بھی خصوصی پیکیج دینے مرکزی حکومت سے نمائندگی کریں گے۔ مرکزی حکومت ان کے مطالبات کو کتنی اہمیت دیتی ہے؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، کیونکہ پولاورم آرڈیننس کی اجرائی کے موقع پر ٹی آر ایس نے تلنگانہ بند منظم کرکے مرکز کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا تھا، لہذا ایسی صورت میں مرکزی حکومت کا تلنگانہ کی ترقی میں مثبت رول ہوگا یا نہیں؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔

چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے سامنے بہت بڑے بڑے چیلنجس ہیں۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا بڑی بے چینی سے انتظار ہے، کیونکہ 2004ء میں کانگریس نے مسلمانوں سے 5 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے اعتراض پر ایک فیصد کم کرکے اسے 4 فیصد کردیا تھا۔ اس صورت میں 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل کس طرح ممکن ہوگا؟ ایک بار پھر بحث شروع ہوچکی ہے۔ کے چندر شیکھر راؤ نے وعدہ کے مطابق ٹی آر ایس کے مسلم رکن قانون ساز کونسل محمد محمود علی کو ڈپٹی چیف منسٹر کے علاوہ انھیں وزارت مال کی بھی ذمہ داری سونپی ہے۔ فی الحال مسلمانوں کو یہ یقین ہے کہ اُن سے کئے گئے وعدوں کو ٹی آر ایس پورا کرے گی۔ جناب محمد محمود علی سے بھی لوگوں کو کافی توقعات ہیں۔ علاوہ ازیں ایس سی ایس ٹی طبقات کے طرز پر مسلمانوں کے لئے سب پلان تیار کرنے کی ضرورت ہے اور اراضیات کی تقسیم میں بھی آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو نمائندگی ملنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT