Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر کو چیف منسٹر بنانے کیلئے اتفاق رائے کی کوششیں تیز

کے سی آر کو چیف منسٹر بنانے کیلئے اتفاق رائے کی کوششیں تیز

دلت کو اعلیٰ عہدہ دینے کے موقف سے انحراف ، تمام طبقات کے ساتھ انصاف ہوگا : کے ایشور

دلت کو اعلیٰ عہدہ دینے کے موقف سے انحراف ، تمام طبقات کے ساتھ انصاف ہوگا : کے ایشور

حیدرآباد۔/6مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے انتخابی نتائج کیلئے ابھی دس دن باقی ہیں لیکن نئی ریاست میں تشکیل حکومت کے بارے میں پُرامید تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے چندر شیکھر راؤ کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ پارٹی قائدین اور اسمبلی و لوک سبھا کے امیدواروں کی جانب سے چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے چندر شیکھر راؤ کے نام کی کھل کر تائید کی جارہی ہے۔ پارٹی کے قومی سکریٹری جنرل ڈاکٹر کیشو راؤ اور دیگر سینئر قائدین نے بھی چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے کے سی آر کو موزوں شخصیت قرار دیا اور کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی کیلئے کے سی آر کی قیادت ناگزیر ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے نئی ریاست کے پہلے چیف منسٹر کی حیثیت سے دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن انتخابی مہم کے دوران پارٹی نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ اس کے بعد سے ہی چندر شیکھر راؤ کو چیف منسٹر بنائے جانے کی مہم کا آغاز ہوگیا۔ خود کے سی آر نے بھی انتخابی جلسوں کے دوران کہیں بھی دلت چیف منسٹر کا وعدہ نہیں کیا برخلاف اس کے انہوں نے چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے ان کے نام کی پیشکشی کو درست قرار دیا۔ اب جبکہ انتخابی نتائج قریب ہیں اور ٹی آر ایس کو یقین ہے کہ وہ نئی ریاست میں پہلی حکومت قائم کرنے کے موقف میں ہوگی، لہذا ابھی سے عوام کو ذہنی طور پر تیار کرنے کیلئے پارٹی قائدین نے بیان بازی شروع کردی۔ پارٹی کے دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کو کے سی آر کی تائید میں میدان میں اُتارا گیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دلت طبقہ کے قائدین بھی کے سی آر کو چیف منسٹر دیکھنے کے حق میں ہیں۔ گزشتہ دو دنوں سے پارٹی کے دلت قائدین پریس کانفرنس کرتے ہوئے کے سی آر کے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کئے جانے کی تائید کررہے ہیں۔ رنگاریڈی سے تعلق رکھنے والے دلت قائد کے ایس رتنم اور تلنگانہ تحریک میں انقلابی گیتوں کے ذریعہ نئی روح پھونکنے والے فنکار رسمے بالکشن نے تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر کی حیثیت سے کے سی آر کی تائید کی اور کہا کہ ان کے چیف منسٹر بننے کے بعد ہی تلنگانہ عوام کی خواہشات کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ پارٹی کے سابق رکن اسمبلی اور اسمبلی کے امیدوار کے ایشور نے آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر کی قیادت کو تلنگانہ کیلئے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں ہی تلنگانہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے اور گذشتہ ساٹھ برسوں کے دوران علاقہ کے ساتھ جو ناانصافیاں کی گئیں ان کا ازالہ ممکن ہے۔کے ایشور نے کہا کہ مرکز میں جو بھی حکومت برسراقتدار آئے گی وہ اپنے سیاسی مفادات کے تحت تلنگانہ کیلئے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ان حالات میں صرف چندر شیکھر راؤ ہی مرکز سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے تلنگانہ کیلئے فنڈز کے حصول اور پراجکٹس کی منظوری کیلئے کے سی آر کی قیادت ضروری ہے ۔ گذشتہ 14برسوں کے دوران تلنگانہ تحریک کی قیادت کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور وہ نئی ریاست کی ترقی کیلئے جامع منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر انتخابی منشور پر عمل آوری کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اور تمام طبقات کے ساتھ مساوی انصاف کے سلسلہ میں پارٹی نے جو وعدے کئے ہیں ان پر بہرصورت عمل کیا جائے گا۔ کے ایشور نے کہا کہ تلنگانہ کی تعمیر نو صرف ٹی آر ایس سے ہی ممکن ہے۔ تلنگانہ میں سماجی انصاف کے سی آر کی قیادت میں ہی ممکن ہوپائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کی بھی یہی خواہش ہے کہ نئی حکومت کی قیادت چندر شیکھر راؤ کریں۔ ایشور نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ کی پہلی حکومت ٹی آر ایس کی ہوگی اور کسی جماعت کی تائید کے بغیر ٹی آر ایس حکومت قائم کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT