Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / کے سی آر کے جانشین کے مسئلہ پر ٹی آر ایس قائدین منقسم

کے سی آر کے جانشین کے مسئلہ پر ٹی آر ایس قائدین منقسم

کے ٹی آر کے حق میں نرسمہا ریڈی کے بیان سے تنازعہ، ہریش راؤ کے حامی سرگرم ہوگئے
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس میں چیف منسٹر کے سی آر کے جانشین کے مسئلہ پر بحث جاری تھی کہ اچانک وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے آئندہ چیف منسٹر کی حیثیت سے کے ٹی راما راؤ کا نام پیش کرتے ہوئے پارٹی میں نیا تنازعہ چھیڑ دیا ہے۔ ٹی آر ایس میں اگرچہ چیف منسٹر کے علاوہ تین اقتدار کے مراکز ہیں اور ہر ایک کے حامیوں کی تعداد خاطر خواہ ہے۔ چیف منسٹر کے فرزند کے ٹی آر اور بھانجے ہریش راؤ کو پارٹی کیڈر جانشین کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ کویتا کے حامی انہیں حقیقی جانشین کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے حامی پارٹی میں سرگرم ہیں، این نرسمہا ریڈی نے کے ٹی آر کا نام لے کر تنازعہ کو مزید ہوا دیدی۔ پارٹی قائدین میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ این نرسمہا ریڈی کو اچانک کے ٹی آر کا نام پیش کرنے کی ضرورت کیوں پڑی۔ این نرسمہا ریڈی نے کے ٹی آر کا نام اپنے طور پر پیش کیا یا پھر کسی اور نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ کے ٹی آر کے انتخابی حلقہ سرسلہ کے جلسہ عام میں نرسمہا ریڈی نے کہا کہ اگر کے ٹی آر کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا جائے تو ریاست ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہوگی۔ نرسمہا ریڈی کا یہ بیان پارٹی قائدین کیلئے حیرت کا باعث بنا۔ نرسمہا ریڈی کا شمار چیف منسٹر کے بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے اور انہوں نے کے ٹی آر کا نام لے کر اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ کے سی آر بھی یہی چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف مواقع پر آئندہ چیف منسٹر کی حیثیت سے کے سی آر کے نام کا اعلان کرنے والے کے ٹی آر نے نرسمہا ریڈی کے بیان پر خاموشی اختیار کرلی ۔ انہوں نے اس بیان کی وضاحت یا تردید نہیں کی جس سے کیڈر کو اس بات کا اشارہ مل رہا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے جانشین کے انتخاب کا فیصلہ مکمل کرلیا ہے ۔ 2019 ء کے عام انتخابات میں چیف منسٹر اپنے جانشین کو عوام سے متعارف کرائیں گے یا نہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ذرائع کے مطابق اگر کے سی آر قومی سیاست میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ریاست کی قیادت اپنے فرزند کو سونپ سکتے ہیں۔ کے ٹی آر کے حق میں نرسمہا ریڈی پہلے قائد نہیں جنہوں نے چیف منسٹر بنانے کا مطالبہ کیا ۔ ان سے قبل کے سی آر کے ایک اور وفادار وزیر سرینواس یادو نے بھی چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے کے ٹی آر کے نام کی تائید کی تھی ۔ پارٹی میں جس انداز سے کے ٹی آر کو ابھارنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے ہریش راؤ کے حامیوں میں ناراضگی صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ پارٹی ارکان مقننہ اور سینئر قائدین آئندہ چیف منسٹر کے مسئلہ پر منقسم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نرسمہا ریڈی کے بیان کے بعد ہریش راؤ کے حامی سرگرم ہوچکے ہیں اور وہ اپنی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہوچکے ہیں۔ عوامی مقبولیت اور کارکردگی کے اعتبار سے ہریش راؤ کو کے ٹی آر پر سبقت حاصل ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر اپنے وفادار وزراء کے ذریعہ ابھی سے اپنے فرزند کے نام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان حالات میں آئندہ عام انتخابات تک چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے رسہ کشی شدت اختیار کرسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT