Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر کے خلاف ہائی کورٹ کے ریمارکس زبردست طمانچہ

کے سی آر کے خلاف ہائی کورٹ کے ریمارکس زبردست طمانچہ

اہم پالیسی معاملات میں حکومت کا غیر واضح موقف: پی لکشمیا

اہم پالیسی معاملات میں حکومت کا غیر واضح موقف: پی لکشمیا
حیدرآباد /23 ستمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا نے کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے وعدہ کی خلاف ورزی کا چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بحیثیت صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ نے کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کی وجہ سے عوام بالخصوص کسانوں نے ٹی آر ایس کو اقتدار سونپا، لیکن چیف منسٹر بننے کے بعد کے چندر شیکھر راؤ گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اپنے اقتدار کے 110 دن مکمل کرچکی ہے، تاہم انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کرسکی۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار پھر کسانوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، پہلے ہر کسان کا ایک لاکھ روپئے کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب اس سے منحرف ہوکر ہر گھر کا ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے، جو مضحکہ خیز ہے اور کانگریس پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ مسٹر پنالہ لکشمیا نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوچکی ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو تمام کمپنیاں دوسری ریاستوں کو منتقل ہو جائیں گی۔ انھوں نے ٹی آر ایس دور حکومت میں تلنگانہ ریاست میں مالی بحران پیدا ہونے کا ادعا کیا اور تقسیم ریاست بل کے مطابق فیس باز ادائیگی اسکیم پر عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ پی لکشمیا نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر اہم پالیسیوں کے معاملے میں واضح موقف اختیار نہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ طلبہ کو مالی مدد (فاسٹ) کے تعلق سے ہائی کورٹ کے ریمارکس چیف منسٹر کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے۔ انھوں نے کے سی آر پر بنا سمت حکومت چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اہم معاملات میں اہل افراد سے مشاورت کا مشورہ دیا۔ پنالہ لکشمیا نے بتایا کہ 25 ستمبر کو اندرا پارک پر ’’آدرش ریتو دھرنا‘‘ کو تلنگانہ کانگریس کی تائید حاصل رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT