Monday , January 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / کے سی آر کے دورہ کریم نگر پر 50 کروڑ روپئے برباد

کے سی آر کے دورہ کریم نگر پر 50 کروڑ روپئے برباد

کریم نگر ۔ 8 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کا دو روزہ دورہ کریم نگر کے دوران ایک اندازہ کے مطابق 50 کروڑ روپئے کے مصارف پیش آئے۔ ماحولیات کی حفاظت کے لئے ہریتا ہرم کو دنیا کا تیسرا بڑا پروگرام کے سی آر نے اعلان کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ ہریتا ہرم کے نام پر اس قدر کثیر رقم کے خرچ کا کوئی حساب کتاب بھی ہے یا نہیں اور

کریم نگر ۔ 8 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کا دو روزہ دورہ کریم نگر کے دوران ایک اندازہ کے مطابق 50 کروڑ روپئے کے مصارف پیش آئے۔ ماحولیات کی حفاظت کے لئے ہریتا ہرم کو دنیا کا تیسرا بڑا پروگرام کے سی آر نے اعلان کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ ہریتا ہرم کے نام پر اس قدر کثیر رقم کے خرچ کا کوئی حساب کتاب بھی ہے یا نہیں اور آیا اس پروگرام سے کچھ فائدہ حاصل ہورہا ہے یا نہیں۔ کریم نگر ضلع کانگریس پارٹی صدر کے مرتنجیم نے یہاں اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہریتاہرم پروگرام کی کامیابی کیلئے چیف منسٹر نے کوئی کل جماعتی اجلاس طلب نہیں کیا اور اپوزیشن سے کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیا کے سی آر نے ہریتاہرم پروگرام کے سلسلہ میں محکمہ جنگلات، ہارٹیکلچر، سینٹری ضلع انتظامیہ، عہدیداروں کے ساتھ بات چیت بھی کی ہے یا نہیں! انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے قبل جن امور کی تکمیل کا وعدہ کے سی آر نے کیا تھا آیا ان کی تکمیل ہوئی ہے یا نہیں اور اگر تکمیل نہیں ہوئی ہے تب ان کی کیا وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے کریم نگر کا دورہ کرتے ہوئے یہاں شب بسری کی لیکن مستقر کریم نگر پر کوئی بات نہیں کی جبکہ کریم نگر کو نیویارک، لندن کی طرز پر ترقی دینے کا وعدہ کے سی آر کرکے ایک سال کا طرح ہوچکا ہے تاہم یہاں سڑکیں انتہائی خستہ ہوچکی ہیں۔ ڈرینج سسٹم پوری طرح خراب ہوچکا ہے۔

اس تعلق سے کوئی بات نہیں کی گئی، حسن آباد سے لیکر پدپلی تک پودے لگانے، شجرکاری کرنے کیلئے پودے کریم لنکا سے منگوائے گئے جہاں ایک بہت بڑی نرسری ہے۔ آخر اس نرسری سے ہی کیوں پودے منگوائے گئے۔ اس بات کا آیا چیف منسٹر کو علم ہے؟۔ مقامی نرسری سے کیوں نہیں منگوائے گئے۔ صدر ڈی سی سی کے مرتنجیم نے کہا کہ کریم نگر میں 30 ہزار گڈھے کھودے گئے۔ اس طرح ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے آیا 30 ہزار پودے لگائے گئے ہیں یا لگائے جائیں گے پودے کہاں ہیں؟ ایسا لگتا ہے یہ سب گمراہ کن بیانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پتھر کی بڑی بڑی چٹانوں کی منتقلی سے سڑکیں برباد ہورہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ غیرمجاز مائننگ میں استعمال کئے جانے والے جلیٹن اسٹاکس کہاں سے لائے جارہے ہیں؟ اس پر انتظامیہ چپ کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کے سی آر ماحولیات کی بحالی و برقراری کے لئے سنجیدہ ہیں تو پہلے غیرمجاز گرائیناٹ کے متعلق ضروری کارروائی کریں گے۔ کے سی آر نے چناؤ سے قبل جو وعدے کئے تھے اس کو پورا کریں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا عمل چھوڑ دیں۔ عوامی فنڈس کو برباد نہ کریں۔ کے مرتنجم نے ضلع کلکٹر کو بھی انتباہ دیا کہ شجرکاری اور کتنے پودے لگائے گئے ہیں اس تعلق سے تفصیلات عوام کے سامنے لائے جائیں اور اس تعلق سے مکمل صحیح حسابات پیش کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دورہ کریم نگر کے متعلق انہوں (مرتنجم) نے کے سی آر کو ایک تحریری نوٹ روانہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT