کے سی آر جھوٹ بول رہے ہیں

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات ہرگز نہیں دیئے جائیں گے ‘‘
امیت شاہ کی زہرافشانی پر سربراہ ٹی آر ایس عوامی کٹہرے میں ‘ چیف منسٹر کی دھوکہ بازی بھی آشکار

نرمل؍ورنگل 25 ؍ نومبر ( سیاست ڈسرکٹ نیوز)قومی صدر بھارتیہ جنتا پارٹی امیت شاہ نے نرمل بی جے پی کے امیدوار اے سورنا ریڈی کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ چندر شیکھرراؤ کو ریاست تلنگانہ کی بیٹیوں اور بیٹوں کی فکر کم اور اپنے بیٹے بیٹی کی فکر زیادہ ہے ‘ وہ عوام کی نہیں خاندان کی ترقی چاہتے ہیں ۔ بیٹی کو چیف منسٹر بنانے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ میں آپ تمام سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ریاست میں تلگودیشم ‘ کانگریس ‘ ٹی آر ایس کو آپ نے حکمرانی کا موقع دیا ہے ‘ایک بار بھارتیہ جنتاپارٹی کو موقع دیں ہم اس ریاست کو ملک کی ماڈل ریاست میں تبدل کردیں گے ۔ مسٹر شاہ نے بتایا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکز سے سولہ ہزار کروڑ روپئے کی امداد دی جاتی تھی لیکن مودی حکومت نے ایک لاکھ پندرہ ہزار کروڑ کا بجٹ اس ریاست کو دیا ساتھ ہی ریاست کی ترقی کے لئے مزید ایک لاکھ کروڑ سے زائد بجٹ ریاست کو دیا میں پوچھنا چاہتا ہوں وزیر اعلیٰ سے کیا ایک لاکھ سے زائد ملازمتیں بیروزگاروں کو دی گئیں یا تین ایکڑ اراضی دلتوں کو دی گئی ۔ کہاں گیا دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ ‘ کہاں ہے گوداوری سے ہر گھر کو پانی دینے کا وعدہ ‘ سب وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے ۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ تحفظات کبھی بھی مذہب کے بنیاد پر جب تک بھارتیہ جنتاپارٹی مرکز میں ہے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میں مہا کوٹمی کی تشکیل پر تمام جماعتوں تلگودیشم ‘ سی پی آئی کانگریس کا مضحکہ اڑایا اور راہول گاندھی کانام لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ۔ شہ نشین پر حلقہ اسمبلی نرمل کی بی جے پی امیدوار اے سورنا ریڈی کے علاوہ حلقہ اسمبلی مدہول کی بی جے پی امیدوار ڈاکٹر رمادیوی کے علاوہ دیگر قائدین بھی موجود تھے ۔ دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی صدر امیت شاہ نے متحدہ ضلع ورنگل کے پرکال حلقہ اسمبلی میں بی جے پی کے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 فیصد تحفظات کسی بھی صورت نہیں دیا جائیگا ۔ انہوں نے کے سی آر پر الزام عائد کیا کہ وہ 12 فیصد تحفظات دینے کے جو بات کر رہے ہیں وہ جھوٹ ہے کسی بھی صورت میں مسلمانوں کو تحفظات نہیں دیئے جاسکتے ہیں اگر تحفظات دینا پڑا تو او بی سی‘ ایس ٹی ‘ ایس سی تحفظات میں کم کرکے مسلمانوں کو دینا پڑے گا ۔ بی جے پی حکومت مذہب کے نام پر مسلمانوں کو تحفظات دینے کی شدید مخالفت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر کو یوم انضمام حیدرآباد تقریب کو بھارتیہ جنتاپارٹی اقتدار میں آنے پر ضرور بڑے پیمانہ پر منعقد کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دونیا سے کمیونسٹ پارٹیوں کا اور ملک سے کانگریس پارٹی کا خاتمہ ہو رہا ہے ۔ اب تلنگانہ میں یہ دونوں پارٹیاں متحدہ انتخابات لڑ رہی ہیں ۔ اس موقع پر بی جے پی قائدین لکشمن ‘ مرلی دھرراؤ اور متحدہ ضلع ورنگل کے پارٹی امیدوار اور عوام کی کثیر تعداد شریک تھی ۔

TOPPOPULARRECENT