Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / کے سی آر کا دورہ کرناٹک بی جے پی کی مدد کیلئے تو نہیں؟

کے سی آر کا دورہ کرناٹک بی جے پی کی مدد کیلئے تو نہیں؟

ٹی آر ایس حلقوں میں الجھن، اچانک تیسرے محاذ کی سرگرمیوں پر سوالیہ نشان تلنگانہ میں بی جے پی کو روکنے کی کوشش

حیدرآباد۔ 13 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کا اچانک دورۂ بنگلور سیاسی حلقوں اور خود ٹی آر ایس پارٹی میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ کے سی آر نے ایسے وقت میں یہ دورہ کیا جب کرناٹک میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ تیسرے محاذ کی تشکیل کے سلسلہ میں سابق وزیراعظم اور جنتادل سکیولر کے صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا کی تائید حاصل کرنے کے لیے کے سی آر نے بظاہر یہ دورہ کیا لیکن اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہی بتائے جاتے ہیں۔ کیا واقعی تیسرے محاذ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے کے سی آر کا یہ دورہ تھا؟ اس بارے میں سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلور کے دورہ کو ابتداء میں راز میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔ چیف منسٹر کے دفتر کے علاوہ پارٹی کے سینئر قائدین بھی دورے کے پروگرام سے لاعلم تھے۔ رات میں چیف منسٹر آفس کے ذرائع سے میڈیا کو دورے کا پتہ چلا لیکن چیف منسٹر کے پولیٹیکل سکریٹری نے یہ کہتے ہوئے میڈیا کو پیام دیا کہ دورہ کنفرم ہونے کے بعد دوبارہ اطلاع دیں گے لیکن رات میں چیف منسٹر کے دفتر سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اگرچہ دورے کو راز میں رکھنے کی کوئی خاص وجوہات نہیں تھیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر لمحہ آخر میں اطلاع دیئے جانے کے حق میں تھے تاکہ میڈیا میں دورے کے سلسلہ میں منفی تبصرے شائع نہ ہوں۔ پارٹی قائدین خود بھی اس بات پر حیرت میں ہیں کہ کے سی آر نے اچانک دوبارہ تیسرے محاذ کی سرگرمیوں کا کیوں آغاز کیا جبکہ ممتا بنرجی سے ملاقات کے بعد ان سرگرمیوں کو روک دیا گیا تھا۔ ممتا بنرجی نے کانگریس کے بغیر تیسرے محاذ کی تشکیل کی مخالفت کی تھی۔ اچانک تیسرے محاذ کی سرگرمیوں کا آغاز اور اس کے لیے کرناٹک کا دورہ یقینا پس پردہ سیاسی محرکات پر مبنی دکھائی دے رہا ہے۔ تیسرے محاذ کے لیے نئی دہلی میں اہم قائدین سے ملاقات کے بجائے کرناٹک کی علاقائی جماعت جنتادل سکیولر کی تائید حاصل کرنے کی کوشش ناقابل فہم ہے۔ کسی بھی محاذ کے لیے پہلے طاقتور اور ملک کے کئی علاقوں میں اثرانداز ہونے والی جماعتوں کو ساتھ میں لیا جانا چاہئے۔ برخلاف اس کے کے سی آر نے جنتادل سکیولر کو ترجیح دی جو کرناٹک کے چند ایک علاقوں تک محدود ہوچکی ہے۔

سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا قومی سطح پر اپنا کوئی اثر نہیں رکھتے۔ ان حقائق کے باوجود کے سی آر کا دیوے گوڑا سے ملاقات کے لیے کرناٹک کا دورہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ممتابنرجی سے مایوسی کے بعد کے سی آر تیسرے محاذ کے سلسلہ میں خاموش ہوگئے تھے ویسے بھی کانگریس نے بی جے پی کے خلاف محاذ کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے اور آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو بھی مخالف بی جے پی قائدین سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں کے سی آر کے تھرڈ فرنٹ کی کوششوں کو دھکہ لگا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو روک دیا۔ پھر اچانک تیسرے محاذ کی تشکیل کا خیال کیوں آیا؟ کے سی آر جو کانگریس اور بی جے پی کے خلاف محاذ کی تیاری کا دعوی کررہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ان کے بعض فیصلے بی جے پی کے حق میں دیکھے گئے۔ پارلیمنٹ سیشن سے قبل کے سی آر نے عام جلسوں میں وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے مرکز کے خلاف اپنے موقف کو سخت کرتے ہوئے پریس کانفرنس بھی کی۔ پارلیمنٹ میں تحفظات کے مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے ٹی آر ایس ارکان نے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔ تلنگانہ سے ناانصافیوں کا مرکز پر الزام عائد کرنے والے کے سی آر اچانک اس وقت نرم دکھائی دیئے جب کیرلا کے چیف منسٹر نے ریاستوں کو زائد اختیارات کے مسئلہ پر وزرائے فینانس کا اجلاس طلب کیا تھا۔ لمحہ آخر میں کے سی آر نے وزیر فینانس ای راجندر کو اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس طرح بی جے پی کے بارے میں کے سی آر کا نرم موقف پارٹی کیلئے الجھن کا باعث بن گیا۔ کرناٹک انتخابات سے عین قبل دیوے گوڑا سے ملاقات کہیں نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش تو نہیں۔ الیکشن کے دوران ہی کرناٹک کے دورے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ دیوے گوڑا سے دہلی میں ملاقات کی جاسکتی تھی۔ یا پھر دیگر پارٹیوں سے ملاقات کے بعد دیوے گوڑا کی تائید حاصل کی جاسکتی تھی لیکن کے سی آر نے اچانک ایسے وقت کرناٹک کا دورہ کیا جبکہ بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT