Saturday , December 15 2018

کے سی آر کو مسلم تحفظات کی لڑائی میں کامیابی کا یقین

مسلمانوں کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش، ملک میں تھرڈ فرنٹ کی وکالت، مختلف اضلاع میں ٹی آر ایس کی انتخابی مہم

حیدرآباد۔26 نومبر (سیاست نیوز) کارگزار چیف منسٹر اور ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر رائو نے دعوی کیا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے لیے تحفظات کے وعدے کو وہ بہرصورت پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں انہوں نے آج تک کسی بھی کام میں ناکامی کا منہ نہیں دیکھا۔ جو لڑائی بھی انہوں نے شروع کی اس میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح ایس ٹی اور مسلمانوں کے تحفظات کی لڑائی بھی وہ جیت جائیں گے۔ پارٹی نے انتخابی مہم کے سلسلہ میں کے سی آر نے آج نظام آباد رورل، بودھن، بالکنڈا، جگتیال، کریم نگر، اسٹیشن گھن پور، پرکال اور ورنگل میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ تحفظات کے مسئلہ پر مسلمانوں میں ناراضگی کو دیکھتے ہوئے کے سی آر نے پھر ایک بار مسلم تحفظات کے سلسلہ میں اپنے وعدے کو دہرانا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز کی موجودہ بی جے پی حکومت مخالف اقلیت حکومت ہے اور وہ تحفظات کو منظوری دینے سے انکار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد مرکز میں جو بھی حکومت آئے گی اس سے تحفظات کی منظوری حاصل کریں گے۔ کے سی آر نے کہا کہ انہوں نے کابینہ اور پھر اسمبلی میں تحفظات کو منظوری دیتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فیڈرل فرنٹ کا قیام ضروری ہے۔ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی حکومت مرکز میں قائم ہونی چاہئے۔ آئندہ عام انتخابات میں ٹی آر ایس کو 16 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی اور جدوجہد کے ذریعہ تحفظات حاصل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس ملک کی ترقی میں ناکام ہوچکی ہیں۔ لہٰذا قومی سطح پر تیسرے محاذ کی حکومت تشکیل دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ مسلم تحفظات کے خلاف اظہار خیال کررہے ہیں۔ اس طرح کی باتیں تلنگانہ میں نہیں چلیں گیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے حق میں زبردست لہر ہے اور ہر جلسہ میں 70 ہزار سے زائد افراد شرکت کررہے ہیں۔ ( سلسلہ صفحہ 6 پر )

TOPPOPULARRECENT