Tuesday , December 11 2018

کے سی آر کی بھوک ہڑتال کے سبب تلنگانہ کا حصول

ٹی آر ایس کو اقتدار نہ ملنے پر سیاست سے سبکدوشی، رکن کونسل محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔29 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے آج کے سی آر کے دیکشا دیوس کے موقع پر تلنگانہ کے حصول کے سلسلہ میں ان کی بھوک ہڑتال کی یاد تازہ کی۔ 29 نومبر 2009ء کو کے سی آر نے تلنگانہ ریاست کے حصول کے لیے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا جس کے بعد مرکزی حکومت نے تشکیل تلنگانہ کا اعلان کیا۔ وزیرآبپاشی ہریش رائو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے 29 نومبر کو تلنگانہ کی تاریخ میں انقلابی دن قرار دیا جس دن کے سی آر نے تلنگانہ کے لیے اپنی جان کو دائو پر لگادیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 29 نومبر کو دیکشا دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں شہیدان تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اسی دوران ارکان قانون ساز کونسل محمد سلیم اور ایم ایس پربھاکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کے مرن برت کے باعث تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی۔ تحریک کے دوران بیشتر افراد کا یہ خیال تھا کہ تلنگانہ ریاست کا حصول ممکن نہیں ہے لیکن کے سی آر نے ناممکن کو ممکن بنادیا۔ ارکان کونسل نے کہا کہ بعض اپوزیشن قائدین تشکیل تلنگانہ کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام ہمیشہ کے سی آر کے احسان مند رہیں گے کیوں کہ انہوں نے مرن برت کے ذریعہ ریاست حاصل کی۔ تلنگانہ کو کیا چاہئے کے سی آر یہاں کے فرزند کی حیثیت سے اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی تھی۔ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کو روکنے کے لیے لمحہ آخر تک کوشش کی گئی۔ انہوں نے کے سی آر کو حقیقی معنوں میں عوامی قائد قرار دیا اور کہا کہ ملک کی تاریخ میں ایسا چیف منسٹر نہیں آیا جو ہمیشہ عوام کی بھلائی کی فکر کرتا ہے۔ وہ روزانہ 18 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ہمیشہ عوام کی بھلائی اور ریاست کی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔ ارکان کونسل نے اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی کو یقینی قرار دیا اور کہا کہ پرجا کوٹمی کو عوامی تائید حاصل نہیں ہے۔ کے سی آر کی قیادت میں دوبارہ ٹی آر ایس حکومت قائم ہوگی۔ محمد سلیم نے کہا کہ اگر کے سی آر حکومت تشکیل نہیں پائے گی تو وہ سیاسی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔ انہوں نے 11 ڈسمبر کو پارٹی کی کامیابی کے سلسلہ میں کے سی آر کو پیشگی مبارکباد پیش کی۔ محمد سلیم نے کہا کہ کے سی آر حقیقی معنوں میں سکیولر قائد ہیں اور انہوں نے تمام طبقات کی یکساں ترقی کے لیے اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے تلنگانہ میں شروع کی گئی اسکیمات ملک کی کسی بھی ریاست میں موجود نہیں ہیں۔ اقلیتوں کی مکمل تائید ٹی آر ایس کے ساتھ ہے اور ٹی آر ایس 100 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT