کے ٹی آر اقتدار کے نشہ میں مبتلا ‘ بدزبانی سے گریز کا مشورہ

ٹی آر ایس کو ’ بروکر ‘ جماعت قرار دیا جائے تو کیا محسوس ہوگا : قائد اپوزیشن جانا ریڈی کا رد عمل
حیدرآباد /9 فروری ( سیاست نیوز ) قائد اپوزیشن کے جاناریڈی نے اقتدار کے نشے میں غرور ، تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجانے کا ریاستی وزیر کے ٹی آر پر الزام عائد کرتے ہوئے راہول گاندھی اور کانگریس کے خلاف ریمارکس کی مذمت کی اور ان سے استفسار کیا کہ کانگریس کی جانب سے ٹی آر ایس کو بروکر جماعت قرار دینے پر انہیں کیا محسوس ہوگا ۔ اسمبلی میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاناریڈی نے کہا کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے ‘ اُصول تہذیب و تمدن اور اخلاقیات ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں ۔ سیاست میں وہ چیف منسٹر کے سی آر سے سینئیر ہیں اور کافی تجربہ رکھتے ہیں ۔ لیکن انہیں دی گئی تعلیم و تربیت کے ٹی آر کے لب و لہجہ میں بات کرنے کی اجازت نہیں دیتی ورنہ وہ بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں ۔ ان کے اطراف گھومنے والے چیف منسٹر اور وزرابنے ہیں کسی بھی شخص کو لب کشائی سے قبل وہ جب عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں اس کا احترام کرنا چاہئے ۔ وہ ابتداء سے حکمران ٹی آر ایس قائدین کو الزامات و جوابی الزامات یا تنقیدوں پر صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ لیکن ٹی آر ایس قائدین سستی شہرت حاصل کرنے غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرکے جنگ جیت جانے جیسی خوشی محسوس کر رہے ہیں ۔ وزراء کا اس طرح رویہ تہذیب و تمدن کا خوف کرنے کے مترادف ہے ۔ کانگریس کو لوفر قرار دیا گیا ٹی آر ایس کو بروکر قرار دینے پر آپ کیا کر لیں گے ۔ علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے والی کانگریس کی توہین کرنا کے ٹی آر جیسے نوجوان قائدین کو زیب نہیں دیتا ۔ کے جاناریڈی نے راہول گاندھی کو ’ پپو‘ قرار دینے کی مذمت کی اور کہا کہ وقت آنے پر نہ صرف وہ اپنی صلاحیتوں کو منواتے ہیں بلکہ مخالفین کو دھول چٹانے کے ہنر سے واقف ہیں ۔ گجرات انتخابات اس کی زندہ مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی ملک کے 130 کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے والی گانگریس کے صدر ہیں ۔ وزیر اعظم بننے کا موقع ہونے کے باوجود انہوں نے عوامی خدمات کو ترجیح دی ہے ۔ گجرات میں انہوں نے وزیر اعظم مودی کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کر رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT