Saturday , November 17 2018
Home / شہر کی خبریں / کے ٹی آر پجاریو ںاور برہمن سماج سے رجوع

کے ٹی آر پجاریو ںاور برہمن سماج سے رجوع

مندروں کی ترقی کیلئے ہزاروں کروڑ اور پجاریوں کو تنخواہوں کا حوالہ، سیاسی اغراض کیلئے مذہب کا استعمال
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں شکست کے خوف نے چیف منسٹر کے سی آر کے فرزند کے ٹی آر کو مندروں کے پجاریوں اور برہمن طبقہ سے رجوع ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ حکومت کے مشیر برائے ثقافتی امور کے وی رمنا چاری نے پجاریوں اور برہمن سماج کے ذمہ داروں کے ساتھ آج اجلاس منعقد کیا جس میں کے ٹی راما راؤ کو مدعو کیا گیا تھا ۔ کے ٹی آر نے اس موقع پر تلنگانہ میں مندروں کی ترقی کیلئے کے سی آر کی جانب سے ہزاروں کروڑ روپئے کی منظوری اور پجاریوں کو سرکاری ملازمین کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی جیسے اقدامات کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی تاریخ میں کے سی آر وہ واحد چیف منسٹر ہیں جو پجاریوں اور برہمن سماج کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ یادادری ، بھدرادری ، ویملواڑہ اور دیگر بڑی مندروں کی ترقی کیلئے گزشتہ چار برسوں میں ہزاروں کرؤڑ پر مشتمل ترقیاتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ نومبر 2017 ء سے پجاریوں کو سرکاری ملازمین کے مماثل تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ کے ٹی آر نے گوداوری پشکرم کے تلنگانہ میں انعقاد اور عالمی امن کیلئے چنڈی یگنا کے اہتمام کا حوالہ دیا اورکہا کہ کے سی آر ملک کے واحد چیف منسٹر ہیں جنہوں نے چنڈی یگنا کا اہتمام کیا ۔ کے سی آر کا شمار ان قائدین میں ہوتا ہے جو اپنے عقائد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اور کھل کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ کے ٹی آر نے برہمن سماج اور پجاریوں سے اپیل کی کہ وہ کی ٹی آر ایس کی دوبارہ کامیابی کیلئے آشیرواد دیں۔ انہوں نے برسر اقتدار آنے کی صورت میں برہمن سماج اور پجاریوں کیلئے مزید رعایتوں کا اعلان کیا۔ کے ٹی آر نے جس انداز میں ٹی آر ایس تائید حاصل کرنے کی کوشش کی اس سے واضح ہورہا تھا کہ مذہبی شخصیتوں کے جذبات کا استحصال کر رہے ہیں۔ انتخابی فائدہ کیلئے مذہبی جذبات کا استحصال انتخابی ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر اور ان کے افراد خاندان دیگر طبقات کی اہم شخصیتوں کے پاس پہنچ کر ملاقات کر رہے ہیں جبکہ مسلم اقلیت کے قائدین سے ملاقات کی ذمہ داری اقلیتی قائدین کو دی جارہی ہے۔ اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے کے سی آر اور کے ٹی آر کو فرصت نہیں کہ مسلمانوں کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کریں۔ کیا مسلمانوں کے ووٹ کی اہمیت پجاریوں اور برہمن سماج سے زیادہ ہے ؟ اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT