Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / کے ٹی آر پر کمپنیوں کے بدعنوان سنڈیکیٹ میں ملوث ہونے کا الزام

کے ٹی آر پر کمپنیوں کے بدعنوان سنڈیکیٹ میں ملوث ہونے کا الزام

وزیر آئی ٹی تلنگانہ کی ڈگ وجئے سنگھ پر تنقید ،اتم کمار ریڈی صدر پی سی سی کا شدید ردعمل

وزیر آئی ٹی تلنگانہ کی ڈگ وجئے سنگھ پر تنقید ،اتم کمار ریڈی صدر پی سی سی کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 4 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ریاستی وزیر پنچایت راج مسٹر کے ٹی آر کی ڈگ وجئے سنگھ اور کانگریس پر تنقید کی سخت مذمت کی۔ چند کمپنیوں کے ساتھ سنڈیکٹ بناتے ہوئے بڑے پیمانے کی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا کے ٹی آر پر الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر ورکنگ پریسیڈنٹ مسٹر ملو بٹی وکرامارک قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جاناریڈی قائد اپوزیشن کونسل مسٹر محمد علی شبیر کانگریس کے ارکان قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین مسٹر ایم ایس پربھاکر سابق وزیر مسٹر ڈی سریدھر بابو کے علاوہ دوسرے موجود تھے۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے ریاستی وزیر پنچایت راج مسٹر کے ٹی آر کو مشورہ دیا کہ وہ زبان کھولنے اور کانگریس و ڈگ وجئے سنگھ کے خلاف ریمارکس کرنے سے قبل اپنی عمر اور سیاسی تجربہ کا محاسبہ کریں۔ ملک کو آزادی دلانے والی کانگریس نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا۔ 10 سال تک ایک بڑی ریاست کے چیف منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے مسٹر ڈگ وجئے سنگھ سیاسی تجربہ کے لحاظ سے آپ کے والد چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے بھی سینئر ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اپنے تجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ بغیر تفصیلی رپورٹ کے واٹر گرڈ پراجکٹ پر 40 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے جو مستقبل میں تلنگانہ کا سب سے بڑا اسکام ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن کو اپنے خدشات اور شکوک پیش کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ قائد اپوزیشن کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس رپورٹ تیار ہے تو اس کو خفیہ کیوں رکھا گیا ہے۔ 40 ہزار کروڑ کا عوامی فنڈز ہے۔ اس کو بیجا استعمال ہونے سے روکنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کمیشن حاصل کرنے واٹر گرڈ پراجکٹ کو اہمیت دینے کا جو دعویٰ کیا ہے وہ حق بجانب ہے کیونکہ پراجکٹ کے تعلق سے کانگریس کو کئی شکوک ہیں۔ کریم نگر کے جلسہ عام میں اس پراجکٹ پر 25 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کرنے والے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کے بعد اس پراجکٹ کی لاگت کو بڑھا کر 40 ہزار کروڑ روپئے کردیا۔ پہلے 14 پیاکیجس میں پراجکٹ کو تقسیم کیا پھر اس کو گھٹا کر 5 پیاکیجس پر مشتمل کردیا گیا اور ٹنڈرس داخل کرنے والی کمپنیوں نے اپنے ٹنڈرس میں صرف ایک فیصد کی مارجن رکھی ہے۔ ایسا لگتا ہے تمام کمپنیوں نے ایک ہی آفس میں بیٹھ کر ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی آر سے سازباز کرتے ہوئے ٹنڈرس داخل کیا ہے۔ کانگریس پارٹی اس کے خلاف ماہرین قانون سے مشاورت کررہی ہے اور میڈیا سے بھی اپیل کررہی ہیکہ وہ بھی اپنے انداز میں تحقیقات کرتے ہوئے واٹر گرڈ پراجکٹ کے اسکام کو منظرعام پر لائے۔ قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جاناریڈی نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ نے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ اگر بدعنوانیاں نہیں ہیں تو حکومت وضاحت کرے۔ ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی آر کا کانگریس اور ڈگ وجئے سنگھ پر شخصی ریمارکس کرنا درست نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT