Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / کے ٹی آر ’ پھیکو راؤ ‘ تھوڑی سی بارش سے حیدرآباد کی قلعی کھول گئی

کے ٹی آر ’ پھیکو راؤ ‘ تھوڑی سی بارش سے حیدرآباد کی قلعی کھول گئی

ٹی آر ایس کے 100 یومی ایکشن پلان پر کھلے مباحث کا وزیر بلدی نظم و نسق کو محمد علی شبیر کا چیلنج
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کو ’’پھیکو راؤ ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ تھوڑی سی بارش سے حیدرآباد کی قلعی کھل گئی ۔ سڑکوں پر کھڈے پڑ گئے ۔ ٹریفک جام ہوگئی ۔ ٹی آر ایس کے 100 یومی ایکشن پلان پر کھلے مباحث کا کے ٹی آر کو چیلنج کیا ۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر ڈپٹی فلور لیڈر ٹی جیون ریڈی سابق گورنمنٹ چیف وہپ جی وینکٹ رمنا ریڈی بھی موجود تھے ۔ محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا کہ گذشتہ سال جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل وہ پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔ کے ٹی ار نے جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کو ٹریفک مسائل سے ، پانی کے گڑھے کھڈوں سے محفوظ شہر بنانے کا بلند بانگ دعوے کئے تھے ۔ لیکن حالیہ دنوں کو موسلادھار بارش سے حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ۔ شہر میں ہر طرف پانی جمع ہے ۔ کئی علاقے جھیل میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ جس سے عوام کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ دونوں شہروں میں ہر طرف ٹریفک جام ہے ۔ محمد علی شبیر نے شہر حیدراباد کے علاوہ تلنگانہ کے دوسرے ٹاونس کی وحشت ناک صورتحال پر کے ٹی آر سے عوامی مباحثہ کرنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ سارے تلنگانہ میں جنوبی مانسون کا سلسلہ جاری ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کے ٹی آر سے استفسار کیا کہ جی ایچ ایم سی کا 100 یومی ایکشن پلان کہاں گیا ۔ سیاسی فائدے کی خاطر جی ایچ ایم سی کے عوام کو ہتھیلی میں جنت دیکھائی گئی ۔ کامیابی کے بعد عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا گیا ۔ ٹی آر ایس پر بھروسہ کرتے ہوئے عوام دھوکہ کھائے ہیں جب بھی وقت آئے گا ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے عوام ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے ٹی آر کو کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کے بارے میں بات کرنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ۔ راہول گاندھی ملک کے لیے قربانیاں دینے والے خاندان کے چشم چراغ ہیں جب کہ کے ٹی آر سیاست میں نووارد ہیں ۔ تلنگانہ تحریک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بحیثیت وزیر بلدی نظم و نسق ان کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ کانگریس کے قائد نے کہا کہ ٹی ٹی امتحان میں شرکت کے لیے پہونچنے والے طلبہ کو جگہ جگہ سڑکوں پر پانی جمع ہوجانے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیوں کہ ہر طرف ٹریفک جام تھی ۔ 2016 کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس نے جن 21 اہم وعدے کیے تھے ان میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ اگر صورتال سے نمٹنے میں ٹی آر ایس ناکام ہے تو وہ اقتدار سے دستبردار ہوجائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT