کے ٹی آر کو سیاسی جانشین بنانے کی مہم ،کے سی آرفیملی میں اختلافات!

ارکان اسمبلی میں ناراضگی ، ہریش راؤ کی صلاحیتوں کا اعتراف، چندر شیکھر راؤ الجھن کا شکار

حیدرآباد ۔ 18۔ستمبر (سیاست نیوز) آئندہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی پر کے ٹی آر کو سیاسی جانشین کے طور پر چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرنے کے سی آر کی کوششوں نے نہ صرف پارٹی بلکہ کے سی آر فیملی میں عملاً پھوٹ پیدا کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے اپنے وفادار ارکان اسمبلی کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ آئندہ چیف منسٹر کے طور پر کے ٹی آر کے نام کو آگے بڑھائیں اور اس سلسلہ میں باقاعدہ پارٹی میں رائے ہموار کی جائے ۔ چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق وفاداروں کے ایک گروپ نے میڈیا کے بعض گوشوں کی مدد حاصل کرکے آئندہ چیف منسٹر کے طور پر کے ٹی آر کے نام کو عوام سے متعارف کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جیسے ہی کے ٹی آر کا نام آئندہ چیف منسٹر کے طور پر پارٹی حلقوں میں گشت کرنے لگا ، کئی ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین نے دبے الفاظ میں مخالفت شروع کردی۔ دیگر جماعتوں کی طرح ٹی آر ایس میں موروثی سیاست کی مخالفت شروع ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی سینئر قائدین اور ارکان اسمبلی نے اس مسئلہ پر حکمت عملی طئے کرنے خفیہ اجلاس منعقد کئے اور طئے کیا کہ انتخابی نتائج کے بعد اگر کے ٹی آر کا نام چیف منسٹر کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کی مخالفت کرتے ہوئے کے سی آر کو عہدہ پر برقرار رہنے کا مشورہ دیا جائے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت پر اثرانداز ہونے والے کے سی آر خاندان میں بھی ناراضگیاں پیدا ہوچکی ہیں ۔ تلنگانہ تحریک میں سرگرم حصہ لینے والے وزیر آبپاشی ہریش راؤ کو جس انداز سے نظرانداز کیا جارہا ہے ، اس سے نہ صرف پارٹی قائدین بلکہ کے سی آر کے افراد خاندان ناراض ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ سیاسی جانشینی کے مسئلہ پر رکن پارلیمنٹ کویتا نے بھی اپنی دعویداری پیش کردی تھی۔ تاہم انہیں یہ کہتے ہوئے خاموش چھوڑ دیا گیا کہ بھائی بہن میں اختلاف کا فائدہ دوسروں کو ہوسکتا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے حالیہ جلسہ عام میں واضح طور پر اس بات کا اشارہ دیا کہ ان کے جانشین کے ٹی آر ہوں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہریش راؤ نے اگرچہ اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کرلی ہے لیکن کئی قریبی رشتہ دار اور ارکان اسمبلی ان سے یگانگت کا اظہار کر رہے ہیں۔ 2001 ء میں پارٹی کے قیام سے وابستہ قائدین کا کہنا ہے کہ تنظیمی صلاحیتوں اور تلنگانہ تحریک کے لئے قربانیوں کے سبب ہریش راؤ تلنگانہ کے مقبول ترین چیف منسٹر بن سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کے ٹی آر کے حق میں کویتا کے علاوہ رکن پارلیمنٹ سنتوش کمار کو کھڑا کیا گیا جبکہ ہریش راؤ کے ساتھ پارٹی ارکان اسمبلی کی خاصی تعداد ہے لیکن وہ کھل کر اظہار خیال سے خوفزدہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر کی بہنوں کے گھرانوں سے بھی سیاسی قائدین تیار کرنے اور اسمبلی اور کونسل میں نمائندگی دینے کا دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ سیاسی جانشینی کی اس کشمکش نے کے سی آر کو الجھن میں مبتلا کردیا ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت فارم ہاؤز پر گزارتے ہوئے تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ پارٹی قائدین کا ماننا ہے کہ اگر کے ٹی آر کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا جائے تو پارٹی میں پھوٹ یقینی ہوجائے گی ۔ اس تنازعہ سے خود کو دور رکھنے کیلئے ہریش راؤ نے گزشتہ دنوں بعض میڈیا میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ کے ٹی آر کی کابینہ میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہریش راؤ کے اس بیان کو کے سی آر کے حامی کے ٹی آر کے حق میں اہم کامیابی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ ہریش راؤ کے حامی اپنی سیاسی حکمت عملی اور منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ جب کبھی بھی سیاسی جانشین کے انتخابات کا مرحلہ آئے گا ٹی آر ایس میں طوفان کا برپا ہونا طئے ہے۔

TOPPOPULARRECENT