Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / کے ٹی آر کو ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدے پر پارٹی میں اختلاف رائے

کے ٹی آر کو ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدے پر پارٹی میں اختلاف رائے

ہریش رائو کے حامی متحرک، دو ورکنگ پریسیڈنٹ ممکن نہیں، کے سی آر کا موقف
حیدرآباد۔ 12اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں کے سی آر کے بعد اہم ذمہ داری کے سلسلہ میں پارٹی کے پلینری سیشن سے قبل قائدین میں کے ٹی آر اور ہریش رائو کے نام زیر گشت ہیں۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جانشینی کے مسئلہ پر پارٹی منقسم دکھائی دے رہی ہے۔ پلینری سیشن میں کے ٹی آر کو ورکنگ پریسیڈنٹ کی حیثیت سے ذمہ داری دینے کی اطلاعات پر ہریش رائو کے حامی سرگرم ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال بھی پلینری سیشن میں کے ٹی آر کو ورکنگ پریسیڈنٹ کی حیثیت سے مقرر کرنے کی تیاری کی گئی تھی لیکن لمحہ آخر میں یہ تجویز واپس لے لی گئی۔ ورکنگ پریسیڈنٹ کے مسئلہ پر قائدین میں اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب کے سی آر نے کوئی پہل نہیں کی۔ اب جبکہ 27 اپریل کو پارٹی کا پلینری سیشن منعقد ہوگا دوبارہ قائدین میں یہ اطلاعات گشت کرنے لگی ہیں کہ کے ٹی آر کو ورکنگ پریسیڈنٹ کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ عام انتخابات سے قبل یہ پلینری سیشن اہمیت کا حامل ہے جس میں پارٹی انتخابی حکمت عملی طے کرے گی۔ چیف منسٹر کے سی آر جو قومی سیاست میں حصہ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں، وہ اپنے اس منصوبہ کی آڑ میں فرزند کو ورکنگ پریسیڈنٹ کی حیثیت سے مکمل ذمہ داری سونپنے کی فراق میں ہیں تاکہ اقتدار بھی آسانی سے منتقل کیا جاسکے۔ ہریش رائو جو پارٹی میں بنیادی سطح سے مقبولیت رکھتے ہیں اور وہ تلنگانہ تحریک میں کے ٹی آر سے پہلے اور ان سے زیادہ سرگرم رہے۔ لہٰذا ان کے حامی ورکنگ پریسیڈنٹ کے لیے ان کے نام کو آگے بڑھارہے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے کہا کہ ورکنگ پریسیڈنٹ کے لیے کے سی آر دو ناموں کے لیے تیار نہیں ہوسکتے کیوں کہ انہیں ہریش رائو پر کے ٹی آر کو فوقیت دینا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے منصوبہ سے بعض قریبی افراد کو واقف کرایا ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں پلینری سے عین قبل قائدین کی رائے جاننے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ کے سی آر نے فرزند کو جانشین کی حیثیت سے مقرر کرنے کے لیے عملاً انتخابی مہم کی ذمہ داری دے دی ہے اور گزشتہ ایک سال سے پرگتی سبھا کے نام پر کے ٹی آر مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی سرگرمیوں سے عوام کو واقف کرارہے ہیں۔ اپوزیشن سے مقابلہ کے لیے کے ٹی آر کو عوام کے درمیان بھیجا جارہا ہے اور وہ ایک مقبول قائد اور بہترین مقرر کی حیثیت سے ابھررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہریش رائو کو حکومت کے کاموں میں مصروف رکھنے کا منصوبہ ہے اور انہیں آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر کی ذمہ داری دی گئی۔ وہ روزانہ کسی نہ کسی پراجیکٹ کا دورہ کررہے ہیں۔ ہریش رائو نے اپنے حامیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عجلت میں کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے پارٹی کا وقار مجروح ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے بااعتماد رفقاء پر واضح کردیا کہ ہریش رائو کو حکومت میں اہم رول ادا کرنا ہوگا اور پارٹی میں بیک وقت دو پاور سنٹرس نہیں ہوسکتے۔ چیف منسٹر آئندہ عام انتخابات میں لوک سبھا اور اسمبلی کے لیے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ اگر پارٹی تلنگانہ میں دوبارہ حکومت قائم کرتی ہے تو وہ اپنے فرزند کو چیف منسٹر کے عہدے پر فائز کرتے ہوئے خود قومی سیاست میں سرگرم ہوجائیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پلینری سیشن تک ورکنگ پریسیڈنٹ کے مسئلہ پر پارٹی قائدین کا موقف کیا رہے گا؟ اگر کے سی آر ورکنگ پریسیڈنٹ کی حیثیت سے کے ٹی آر کا نام کا اعلان کریں تو پلینری میں ہریش رائو کے حامی کس طرح اس فیصلے کو قبول کر پائیں گے؟

TOPPOPULARRECENT