Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / کے کویتا پر ریمارکس کا شاخسانہ، ریونت ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ

کے کویتا پر ریمارکس کا شاخسانہ، ریونت ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ

حیدرآباد /12 نومبر (سیاست نیوز) حکمراں ٹی آر ایس نے تلگودیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی جانب سے ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ مسز کویتا پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نے کل اسمبلی میں الزام عائد کیا تھا کہ مسز کویتا نے جامع سروے کے دوران حیدرآباد اور ضلع نظام آباد میں دو جگہ اپنے نام درج کروائ

حیدرآباد /12 نومبر (سیاست نیوز) حکمراں ٹی آر ایس نے تلگودیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی جانب سے ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ مسز کویتا پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نے کل اسمبلی میں الزام عائد کیا تھا کہ مسز کویتا نے جامع سروے کے دوران حیدرآباد اور ضلع نظام آباد میں دو جگہ اپنے نام درج کروائے ہیں۔ آج جیسے ہی ریونت ریڈی بجٹ مباحث میں حصہ لینے کے لئے اٹھے، ٹی آر ایس کی ایک خاتون رکن اسمبلی نے پوائنٹ آف آرڈر کے تحت یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے مسز کویتا پر لگائے گئے الزامات کا ثبوت طلب کیا، ورنہ مسز کویتا سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ جس کے جواب میں ریونت ریڈی نے ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی آر کے خلاف تحریک مراعات نوٹس پیش کرنے کی کوشش کی، جس پر ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے احتجاج کیا اور جواب میں تلگودیشم کے ارکان نے بھی احتجاج کیا، تاہم اسی دوران اسپیکر نے دس منٹ کے لئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔

ریاستی وزیر فینانس نے کہا کہ ایوان میں موجود نہ رہنے والے ارکان اسمبلی و ارکان پارلیمنٹ کا نام نہیں لیا جانا چاہئے اور اگر کسی کا نام لینا ہے تو پہلے اسپیکر کو نوٹس دینا ضروری ہے، یا جب ریاست کے مفادات کا معاملہ آتا ہے تو اس صورت میں نام لیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسز کویتا نے صرف ضلع نظام آباد کے نوی پیٹ منڈل میں سروے کے دوران اپنا نام لکھایا ہے، بنجارہ ہلز میں انھوں نے اپنا نام نہیں درج کرایا۔ سروے کرنے والوں اور تحصیلدار نے تحریری طورپر یہ بات بتائی ہے، لہذا ریونت ریڈی مسز کویتا سے معذرت خواہی کریں۔ دریں اثناء ریاستی وزیر آبپاشی و اسمبلی امور ہریش راؤ نے کہا کہ میڈیا کی رپورٹ کو بنیاد بناکر کسی کے خلاف الزام عائد کرنا درست نہیں ہے، لہذا ریونت ریڈی معذرت خواہی کریں۔ اسی دوران جب اس بات پر ہنگامہ آرائی ہوئی تو اسپیکر اسمبلی نے تمام جماعتوں کے نمائندوں سے تجاویز طلب کی، جس پر مختلف جماعتوں کے نمائندوں نے ہریش راؤ کو جھوٹے الزامات سے دست برداری کا مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT