Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / ک2000 کی نوٹوں کی 2019 انتخابات سے قبل تنسیخ ممکن

ک2000 کی نوٹوں کی 2019 انتخابات سے قبل تنسیخ ممکن

نوٹ بندی کی حمایت ‘ بڑے نوٹوں کی تنسیخ کے پس پردہ محرک کارکن انیل بوکیل کا بیان
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) 2000کے کرنسی نوٹ 2019انتخابات سے قبل منسوخ کردیئے جائیں گے۔ کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے پس پردہ ذہن سمجھے جانے والے سماجی کارکن مسٹر انیل بوکیل نے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اور ریزرو بینک نے کرنسی کی قلت کو دور کرنے 500 اور 1000 کے نوٹوں کی تنسیخ کے فوری بعد 2000 کی نوٹ بازارمیں لائی جو کہ بتدریج بازار سے واپس لی جائے گی۔ مسٹر انیل بوکیل نے بتایا کہ 2000کے نوٹوں کی تنسیخ سے عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ بڑی کرنسی کی تنسیخ عام شہریوں کیلئے مسئلہ نہیں ہو گی اور نہ اسکے معیشت پر کوئی اثرات ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکز اس سلسلہ میں آئندہ عام انتخابات سے قبل کوئی قطعی فیصلہ کریگا ۔انیل بوکیل نے بتایا کہ نقدی سے پاک لین دین کیلئے موجودہ انفرا سٹرکچر کافی ہے کیونکہ عام شہری کے اخراجات کیلئے 50اور 100کے نوٹ موجود ہیں ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے چندہ کی جانچ کی حمایت کی اور کہا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے وصول کی جانے والی رقومات کا مکمل حساب رکھا جانا چاہئے۔ انیل بوکیل نے کہا کہ انتخابی اخراجات پر گہری نظر رکھی جانی چاہئے اور غیر محسوب رقومات سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اخراجات کا پتہ چلایا جانا چاہئے ۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور ملک میں موجود غیر محسوب رقومات کو حساب کے دائرے میں لانا ناگزیر ہو جائیگا۔ نقد سے پاک تجارت کے فروغ کے متعلق انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے اس کیلئے شہریوں کو تیار کرنا پڑیگا اور شہری تیزی سے اس کو قبول کریں گے۔ انیل بوکیل نے کہا کہ حکومت کو موجودہ تمام محصولات کو برخواست کرکے 1 یا 2 فیصد بینک معاملت پر ٹیکس عائد کرنا چاہئے اور ان معاملتوں کو بھی کچھ حد تک مستثنی قرار دیا جانا چاہئے تاکہ غریب عوام پر اس کے مضر اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں آج بھی بڑی تعداد کی حد اخراجات کافی کم ہے اسی لئے صرف 50اور100 کے کرنسی نوٹ سے نقدی کا کاروبار ممکن ہے ۔ انہوں نے نقد معاملتوں کی حد کو 2000تک محدود کرنے کی وکالت کی اور کہا کہ ایسا کرنے سے ملک میں موجود تمام تر کرنسی بینک کاری نظام کا حصہ بننے لگے گی اور غیر محسوب رقومات جمع کرنے کا سلسلہ بند ہونے کے ساتھ ملک کی معیشت مستحکم ہوگی۔ انیل بوکیل نے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہونے کی توقع باقی ہے اور حکومت کی جانب سے 2000کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے بعد ایسا ممکن ہو پائے گا۔

TOPPOPULARRECENT