Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / گاؤرکھشک مسئلہ : وزیراعظم کو آر ایس ایس کے نظریہ ساز ایم جی ودیہ کی تائید

گاؤرکھشک مسئلہ : وزیراعظم کو آر ایس ایس کے نظریہ ساز ایم جی ودیہ کی تائید

ناگپور ۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کو سنتوں اور مہنتوں کی ناراضگی کا سامنا ہے کیونکہ انہوں نے گاؤرکھشکوں کو جعلی قرار دیا تھا۔ آر ایس ایس کے نظریہ ساز اور سابق ترجمان ایم جی ودیہ نے آج ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہیکہ گائے کی حفاظت کے نام پر کون غلط کام کررہا ہے۔ جیسا کہ گجرات کے واقعہ اونا سے ظاہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گائے کا تحفظ کرنے والا کوئی بھی اس واقعہ سے اتفاق نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہرایک کو اپنے نظریات کے اظہار کا حق ہے لیکن بعض لوگ برہم ہوجاتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ 80 فیصد گاؤرکھشک جعلی ہیں۔ اس فیصد کے بارے میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمام گاؤرکھشک گائے کی حفاظت کے نام پر اچھا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے سنتوں اور مہنتوں بشمول بی ایس پی سے کہا کہ 22 اگست کو وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کریں تاکہ لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سنتوں کی برہمی فطری ہے کیونکہ وزیراعظم 70 تا 80 فیصد گاؤرکھشک نقلی ہونے کی بات کہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ گائے کے تحفظ کے نام پر یہ تمام اس اجلاس میں شرکت کریں گے اس کے بعد ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ اجلاس میں کیا فیصلے کئے گئے۔

 

ہریانہ میں گاؤ رکھشکوں کو پابند قانون کی مساعی
پولیس کی جانب سے تصدیق نامہ اور شناختی کارڈ کی اجرائی
چندی گڑھ ۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) تحفظ گاؤ کے نام پر دلتوں کے خلاف حملوں پر تنازعہ کے پیش نظر حکومت ہریانہ نے یہ فیصلہ کیا ہیکہ ریاست میں سرگرم گاؤرکھشا دلتوں کے تمام ارکان کو پولیس کی جانب سے توثیق اور انہیں شناختی کارڈس جاری کئے جائیں۔ حکومت ہریانہ کے گاؤ سیوک ایوگ جوکہ تحفظ گائے کیلئے سرگرم ہے کہا کہ گاؤرکھشا کے نام پر عوام کو ہراساں اور جبراً رقومات وصول کرنے سے غیرسماجی عناصر کو باز رکھنے کیلئے احتیاطی اقدامات کئے جائے۔ ایوگ کے صدرنشین بھانی رام منگلا نے بتایا کہ گاؤرکھشا دل کا یہ کام ہیکہ گائیوں کی اسمگلنگ یا مسلخ منتقل کئے جانے کی اطلاع پر پولیس کے علم میں لائیں اور انہیں قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں اور پولیس کا فریضہ ہیکہ گاؤ اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرے۔ حکومت ہریانہ نے یہ اقدام ایسے وقت کیا ہے جبکہ مرکزی وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو مشورہ دیا کہ یہ تحفظ گائے کے نام پرقانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ قبل ازیں وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نقلی گاؤ رکھشکوں پر تنقید کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا تھا کہ سماج میں انتشار پھیلانے والے شرپسندوں سے چوکس رہیں اور ریاستی حکومتیں، خودساختہ گاؤرکھشکوں کو سزاء دیں۔ واضح رہیکہ ریانہ میں 3.20 لاکھ گاؤشالہ اور 1.17 لاکھ کھلے عام گھومنے والی گائیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT