Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / ’’گاؤرکھشک‘‘ مودی کیلئے سخت ترین آزمائش

’’گاؤرکھشک‘‘ مودی کیلئے سخت ترین آزمائش

غضنفر علی خان
نام نہاد گاؤرکھشک جن کی پرورش اور ہمت افزائی وزیراعظم نریندر مودی نے لاڈ دلار کی تھی آج مسٹر مودی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ تین دن کے اندر گاؤ رکھشکوں کے بارے میں کہے ہوئے اپنے الفاظ واپس لیں، اظہار مذرت کریں، معافی مانگیں۔ وزیراعظم کیلئے مشکل یہ ہیکہ ان مٹھی بھر رکھشکوں سے معافی چاہنے یا الفاظ واپس لینے کا مطلب یہ ہیکہ وہ ملک کی بھاری اکثریت کو ناراض کریں۔ گائے کے تحفظ کے نام پر ان عناصر نے جو قانون شکنی کی ہے جس طرح سے دلتوں اور مسلمانوں کی دلآزاری کی ان کی جان لی وہ ناقابل معافی جرم ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم مودی نے ہمارے شہر حیدرآباد میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’یہ مٹھی بھر عناصر غیرسماجی ہیں، یہ ملک کو گروپوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ دنیا کی کوئی ذمہ دار حکومت ایسے عناصر کو چھوٹ نہیں دے سکتی ارور اگر دیتی ہے تو پھر ایسی حکومت انتشار اور قومی نفاق کی صورت میں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ قابل غور یہ بات بھی ہیکہ آخر کیوں متواتر رکھشکوں کے ہاتھوں ظلم و زیادتی کے متعدد واقعات ہونے کے بعد وزیراعظم کو اچانک احساس ہوا کہ گاؤرکھشک غنڈہ گردی کررہے ہیں۔ یہ رات میں ایک لٹیرے اور منافع خور کا لبادہ پہن لیتے ہیں اور دن میں گاو ماتا کی حفاظت کرتے ہیں پھر یہ بھی وزیراعظم کو واضح کرناچاہئے کہ اگر یہ ہنگامہ آرائی کرنے والے غنڈہ عناصر ہیں یا بہروپئے ہیں تو اصلی رکھشک کون ہیں۔ انہیں حکومت نے کہاں چھپا رکھا ہے۔ آج بھی وہ کیوں پردہ میں ہیں۔ اگر اصلی رکھشک کوئی اور ہیں تو پھر وہ کیوں ان جاہل اور کم فہم رکھشکوں کے آگے سینہ سپہر نہیں ہوتے جو قتل و غارتگیری پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر اصلی لوگ ان غنڈہ عناصر یا مودی کے الفاظ میں نقلی Fake ہیں مختلف ہیں گائے کے بارے میں احتجاج پرامن طور پر کرنے کا انہیں خیال ہے تو آج جبکہ ملک کوگاؤکشی کے مسئلہ پر سب سے بڑا درپیش ہے تو کیوں ان کی وطن پرستی ظاہر نہیں ہوتی۔ جس طرح سے شریف دہشت پسندوں کی اصلاح غلط ہے، اسی طرح سے ’’اصلی گاؤرکھشک‘‘ کی اصلاح بھی غلط ہے۔ گاؤ رکھشک کے نام پر جو غنڈہ گردی ہورہی ہے یہ سب بی جے پی حکومت اور خاص طور پر مسٹر مودی کی دیدہ دانستہ غفلت کا ہی نتیجہ ہے۔ مودی نے کبھی نہ سوچا ہوگا کہ جن کو اپنے گود لیکر نازوں سے پالا جس کی ہر غلطی کی پردہ پوشی کی، جنکی ہر غلط کام پر پیٹھ ٹھونکی وہی آج وزیراعظم کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ کہیں یہ دھمکی دی جارہی ہیکہ 2019ء کے عام انتخابات میں بی جے پی اور مسٹر مودی کو شکست کا مزا چکھایا جائے گا۔ کوئی کہہ رہا ہیکہ اب ہم دیکھیں کہ مودی آئندہ چناؤ میں کس طرح ’’پردھان منتری‘‘ بنتے ہیں۔ بعض تو احسان جتا رہے ہیں کہ یہ ہمارا طفیل تھا کہ ہم نے اپنی محنت سے مودی کو اقتدار دلوایا تھا جو ہاتھ سر پر تاج رکھ سکتے ہیںوہ کسی بھی وقت تاج چھین بھی سکتے ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہورہی ہیں۔ وزیراعظم سمجھ رہے ہیں کہ ان کا نقلی گاؤ رکھشکوں پر غصہ اور ناپسندیدگی کا اظہار حالات پر قابو پانے کیلئے کافی ہے تو پھر جو دھمکیاں انہیں دی جارہی ہیں ان کی عملی صورتگری ہوسکتی ہے۔ اس لئے وزیراعظم کو محض بیان بازی یا تقریر بازی سے زیادہ عملی اقدامات کرنے پڑیں گے۔ وزیراعظم نے مسلسل دو روز تک گاؤ رکھشکوں کے بارے میں سخت بیان دیا لیکن جواب میں وشوا ہندو پریشد، ہندو مہاسبھا اور اس طرح کی دیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں نے اس مسئلہ پر سخت تیور دکھائے ہیں۔ خوفزدہ ہونے کے بجائے الٹا وزیراعظم سے گویا یہ کہا کہ ’’مودی جی اپنی زبان پر قابو رکھو اور نہ اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوگا‘‘۔ ملک کے منتخب وزیراعظم کے بارے میں چند غیرسماجی عناصر ایسی جوابی دھمکیاں دے سکتے ہیں تو اس سے زیادہ اور کیا افسوسناک بات ہوسکتی ہے۔ اگر وزیراعظم مودی نے شہر حیدرآباد میں دی گئی دوسری دھمکی کے ساتھ وشوا ہندو پریشد، ہندو مہا سبھا یا گاؤ رکھشا سے تعلق رکھنے والے کسی ایک لیڈر کو گرفتار کیا ہوتا تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا کیوں یہ لوگ اتنے بے خوف ہوگئے ہیں کہ جو چاہے کہنے لگے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہیکہ ایسا کہنے اور کرنے والے ایک شخص کو بھی سزاء نہیں دی گئی۔ ان بقول وزیراعظم غنڈہ عناصر نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ’’سیاہ بھٹی کوتوال ہمیں ڈر کاہے کا‘‘ وہ ہمیشہ مودی جی کے چرنوں میں پناہ لیتے تھے، فارسی زبان میں یہ محاورہ ’’گربہ کشتن روزاول‘‘ اگر ابتداء ہی میں ہر دل آزار واقعہ کا نوٹ لیا جاتا۔ اگر گائے کا گوشت کھانے والوں کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دینے والوں کو جیل بھجوایا گیا
ہوتا یا کم از کم قانون تعزیرات ہند کے تحت دو فرقوں میں منافرت پیدا کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو آج کسی میں جرأت ہوسکتی کہ وزیراعظم کے بیان کا اس جارحانہ انداز میں جواب دیتا۔ بظاہر تو ایسا محسوس ہوتا ہیکہ گاو رکھشکوں کی حرکات سے بی جے پی کے ووٹ بینک کے بے حد متاثر ہونے کے ڈرنے وزیراعظم کو بیان بازی پر مجبور کردیا۔ گجرات میں پانچ دلت نوجوانوں پر سربازار کوڑے برسائے گئے۔ اس واقعہ نے بی جے پی کو یہ احساس دلوادیا کہ اترپردیش اور پنجاب اور آئندہ سال گجرات میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی دلتوں کے ووٹ سے محروم ہوجانے کی اترپردیش میں خاص طور پر بی جے پی کی شکست دن بدن واضح ہوتی جارہی ہے۔ دلت ووٹ بینک کسی بھی ریاست اور خاص طور پر اترپردیش اور بہار میں غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گجرات میں دلتوں کے ساتھ کئے گئے ہٹلرانہ سلوک کی وجہ سے بی جے پی خطرہ میں ہے۔ بہوجن سماج کی لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ اترپردیش مایاوتی نے یہ بات بالکل درست کہی ہیکہ آج دلتوں کی ہمدردی میں جوآنسو وزیراعظم بہارہے ہیں وہ دراصل مگرمچھ کے آنسو ہیں۔ ’’آنسو وہ گہرے زخم ہو نہیں سکتے وہ گھاو بھر نہیں سکتے جو دلتوں کو ہندوتوا کے حامیوں نے دیئے ہیں۔ وزیراعظم مودی کیلئے یہ بات یقینا تشویش کا باعث ہیکہ اگر گروہی و نسلی نفاق کی ان ناپاک کوششوں کو آج ہی اور اب ہی نہیں ختم کیا گیا تو آگے چل کر ملک کی یکجتہی اور قومی اتحاد کا خدا نہ کرے شیرازہ بکھر جائے گا اور اس سانحہ کے ہندوستانی باشندے کبھی بی جے پی کو صاف نہیں کریں گے۔ یہ ہماری قومیت کا سوال ہے۔ ہم ایک ہندوستانی قوم پہلے ہیں اور بعد میں دلت، مسلمان، سکھ، عیسائی اور برہمن ہیں۔ ذات پات کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والوں کو بے دریغ گرفتار کرکے انہیں سخت سزائی دی جانی چاہئے۔ یہ موجودہ بی جے پی حکومت اور مسٹر مودی کی ایک قومی اور تاریخی ذمہ داری ہے اسکو پورا کرنے میں ذرا سے بھی کوتاہی نتائج تاریخ کے اوراق پر ایک ایسا بدنما داغ ہوگا کہ آنے والی نسلیں ہم پر لعنت ملامت کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT