Saturday , November 25 2017
Home / سیاسیات / گاؤ رکھشا کے نام پر ہلاکتوں کیخلاف ہنگامہ

گاؤ رکھشا کے نام پر ہلاکتوں کیخلاف ہنگامہ

لوک سبھا کی کارروائی تین مرتبہ ملتوی، اپوزیشن کی نعرہ بازی، کانگریس کے چھ ارکان معطل
نئی دہلی ۔24جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) گاؤ رکھشا کے نام پر جنونی ہجوم کے ہاتھوں افراد کو مارپیٹ میں ہلاک کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف لوک سبھا میں آج کانگریس کے زیرقیادت اپوزیشن کے شدید احتجاج اور نعرہ بازی کے درمیان اسپیکر سمترا مہاجن نے کانگریس کے چھ ارکان کو پانچ دن کیلئے ایوان سے معطل کردیا۔ اسپیکر نے برہمی کے ساتھ کہا کہ ان ارکان نے ایوان کے وسط میں پہونچکر ، کاغذات کو پھاڑتے ہوئے کرسی صدارت کی طرف پھینکتے ہوئے سنگین بدنظمی کی ہے ۔ کانگریس ارکان کے شوروغل ، ہنگامہ آرائی اور احتجاج اور اس کے جواب میں بی جے پی ارکان کی جانب سے ’شرم شرم ‘ کے نعروں کے درمیان اسپیکر نے کہاکہ گورو گوگوئی ، کے سریش ، ادھیر رنجن چودھری ، رنجیت رنجن ، سشمیتا دیو اور ایم کے راگھون کا رویہ انتہائی ناشائستہ اور ناپسندیدہ رہا جس سے کراسی صدارت کا وقار پامال ہوتا ہے ۔ ایوان کی کارروائی کا آج جیسے وقفۂ سوالات کے ساتھ آغاز ہوا کانگریس اور چند دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ملک میں گاؤ رکھشا کے نام پر جنونی ہجوم کے تشدد میں افراد کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی شروع کردی ۔ کانگریس کے ارکان کافی دیر تک ایوان کے وسط میں جمع رہے ۔ دوپہر میں وقفہ صفر کے دوران بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی جس کے نتیجہ میں ایوان کی کارروائی 2 بجے دن تک ملتوی کردی گئی ۔ بعد ازاں جیسے ہی دوبارہ کارروائی شروع ہوئی اسپیکر نے اپنے حکم کا اعلان کرنے کے بعد کانگریس ارکان کی ہنگامہ آرئی کے سبب 2:30 بجے تک اجلاس کو دوبارہ ملتوی کردیا ۔ اس موقع پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بھی ایوان میں موجود تھیں۔ دوپہر 2:30 بجے جیسے ہی تیسری مرتبہ کارروائی شروع ہوئی بائیں بازو محاذ کے ارکان بھی چھ ارکان کی معطلی کے خلاف کانگریس ارکان کے احتجاج میں شامل ہوگئے ۔ چنانچہ ڈپٹی اسپیکر تھمبی دروٹی کو آج دن بھر کیلئے اجلاس ملتوی کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا ۔ قبل ازیں اسپیکر سمترا مہاجن نے کہاکہ وہ ان ارکان کو ان کے رویہ پر معطل کیا ہے کیونکہ ان کا رویہ قواعد کے مغائر تھا۔ مہاجن نے اپنے حکم میں کہاکہ ’’گورو گوگوئی نے ٹیبل سے کاغذات چھین لئے اور کرسی صدارت کی طرف لہرا رہے تھے ۔ کے سریش نے ایوان کے میز پر رکھے کاغذات کو چھین لیا اور کرسی صدارت کی سمت پھینک دیا۔ ادھیر رنجنا چودھری ، رنجیت رنجن ، سشمیتا دیو اور ایم کے راگھون نے کاغذات پھاڑکر کرسی صدارت کی طرف پھینکا تھا‘‘ ۔ اسپیکر نے کہا کہ ’’ارکان کا رویہ انتہائی ناپسندیدہ اور ناشائستہ تھا اور ایوان کے قواعد کی بدترین خلاف ورزی پر مبنی تھا جس سے ایوان کا وقار پامال ہورہا تھا ۔ یہ ارکان دانستہ طورپر ایوان کی کارروائی میں خلل اندازی کررہے تھے اور بدترین بدنظمی کی ہے ‘‘۔ انھوں نے کہاکہ لوک سبھا کی کارروائی چلانے کے ضابطہ سے متعلق قاعدہ 374(الف) کے تحت وہ پانچ اجلاسوں کیلئے ازخود معطل ہوتے ہیں۔ مہاجن نے کہاکہ ’’چنانچہ انھیں ایوان سے باہر کیا جاتا ہے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT