Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں شہید محمد ایوب میواتی کے خاندان کو 9.95 لاکھ کی امداد

گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں شہید محمد ایوب میواتی کے خاندان کو 9.95 لاکھ کی امداد

ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی اپیل پر قارئین سیاست کا مثالی اقدام ، بیوہ کی ایوب مرحوم کے بھائی سے شادی
حیدرآباد ۔ یکم ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ہمارے جنت نشاں ہندوستان میں گذشتہ تین ساڑھے تین برسوں سے فرقہ پرستوں نے مختلف بہانوں سے قانون کی جس طرح دھجیاں اڑائیں ہیں اپنی ملک دشمن سرگرمیوں و حرکتوں اور ظلم و جبر سے جس طرح انسانیت کو شرمسار کیا ہے اور ان کی حرکتوں پر مرکزی حکومت نے جس انداز میں مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے ۔اس سے ہر محب وطن ہندوستانی کا سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ خاص طور پر تحفظ گائے کے نام پر ہر روز فرقہ پرست درندے ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں بے قصور مسلمانوں کا قتل کررہے ہیں ۔ دادری میں محمد اخلاق کا بہیمانہ قتل ، راجستھان کے الوار میں بہلو خان کی زندگی کا خاتمہ ، ہریانہ میں کمسن حافظ جنید خاں کی شہادت ، جھارکھنڈ کے لاتیہار میں 15 سالہ لڑکے امتیاز خاں اور 32 سالہ مظلوم انصاری کو درختوں پر پھانسی پر لٹکانے اور گجرات کے احمد آباد میں محمد ایوب میواتی کی ہجوم کے ہاتھوں شہادت کا واقعہ گاؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی اور قانون شکنی کی چند مثالیں ہیں ویسے بھی 2010 تا 2017 تحفظ گاؤ کے نام پر حملوں کے 63 واقعات پیش آچکے ہیں جن میں 28 افراد مارے گئے اور ان 28 میں سے 24 مسلمان اور مابقی دلت ہیں ۔ 124 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ۔ مرکزی حکومت اور بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کی حکومتوں کے لیے شرم کی بات یہ ہے کہ مودی کے اقتدار پر فائز ہونے کے بعد مذکورہ واقعات میں سے 97 فیصد واقعات پیش آئے جس پر مرکزی و ریاستی حکومتوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ۔ سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارا ملک شائد دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں بے قصور انسانوں پر حملہ کر کے ان کو موت کی نیند سلانے والے غنڈہ عناصر کو یعنی قاتلوں کو حکومت معاوضہ ادا کرتی ہے نہ صرف معاوضہ ادا کرتی ہے بلکہ ان کے افراد خاندان میں سے کسی ایک کو سرکاری ملازمت دینے کا وعدہ بھی کرتی ہے ۔ مثال کے طور پر محمد اخلاق کے قتل کیس کا ایک ملزم گردے فیل ہوجانے کے باعث فوت ہوجاتا ہے اور یو پی حکومت فوری اس کے ارکان خاندان کے لیے 10 لاکھ روپئے اور پھر 20 لاکھ روپئے معاوضہ دینے اور ارکان خاندان میں سے ایک کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کرتی ہے ۔ دوسری طرف غنڈوں کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے محمد اخلاق اور ان کے خاندان کو گائے اسمگلرس کا نام دیا جاتا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی مظلوم مسلمانوں کے تئیں سرد مہری اور قاتلوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں ۔ پولیس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے فرائض انجام دیتی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ 13 ستمبر 2016 کو گجرات کے احمد آباد میں محمد ایوب میواتی کو گاؤ رکھشکوں نے سلاخوں سے مار مار کر شہید کردیا تھا ۔ ایوب نے جس وقت اپنی زندگی کی آخری سانس لی ۔ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کا منہ سالگرہ کے کیک سے بھرا ہوا تھا وہ اپنی سالگرہ منا رہے تھے اور دوسری طرف ایوب کی نوجوان بیوہ ، بچے اور بوڑھے والدین کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں ۔ حکومت گجرات نے ظلم کا شکار محمد ایوب کے خاندان سے کوئی ہمدردی کا اظہار نہیں کیا ۔ انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا ۔ حکومت گجرات نے آخر ایسا کیوں کیا ؟ کیوں کہ محمد ایوب ایک مسلمان تھا … یہی حکومت گجرات تھی جس نے پٹی دار تحریک کے دوران مارے گئے پٹواریوں کو لاکھوں روپئے بطور معاوضہ پیش کرنے میں تاخیر نہیں کی ۔ کیا یہ ایک ریاست کا امتیازی سلوک نہیں ہے ؟ جسے تمام سے مساویانہ سلوک روا رکھنا ہے ۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے محمد ایوب کی بیوہ ، بچوں اور والدین سے معاندانہ رویہ اختیار کیا ۔ لیکن اللہ عزوجل نے سارے ہندوستان میں روزنامہ سیاست اور اس کے ایڈیٹر جناب زاہد علی خاں کو مظلوم مسلمانوں کی مدد کا ایک ذریعہ بننے کا اعزاز عطا کیا ہے ۔ جہاں کہیں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے ایڈیٹر سیاست کی ایک اپیل پر عرب ملکوں ، یوروپ و امریکہ میں مقیم ہندوستانی بالخصوص حیدرآبادی باشندے فورا مجبور و بے بس مسلمانوں کی مالی امداد کے لیے آگے آتے ہیں ۔ انہیں عطیات روانہ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایڈیٹر سیاست کی اپیل پر شہریان حیدرآباد اور دنیا بھر میں مقیم اس کے قارئین نے محمد ایوب کی بیوہ ، بچوں اور والدین کو کافی رقمی امداد روانہ کی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ 28 جنوری 2018 کو محمد ایوب کی بیوہ کی شادی ایوب مرحوم کے بھائی عارف سے ہوگئی ۔ ابتداء میں سائرہ بانو نے شادی سے انکار کردیا تھا لیکن خاندان کے بزرگوں کی ترغیب پر وہ راضی ہوگئی ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی اپیل پر اس جوڑے اور ان کے بچوں کے لیے قارئین سیاست نے 9,95000 روپئے کی امداد فراہم کی جب کہ جمعیت العلماء ہند نے 25000 ، کونسلر توفیق خاں نے ایک لاکھ ، کچ مسلم کمیونٹی نے 80,000 اور صابر کابلی والا نے دو پرانے آٹو رکشاؤں کا عطیہ دیا ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے ایک مصیبت زدہ خاندان کی مدد کرنے پر قارئین سیاست کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔ ایوب مرحوم کی والدہ اور بچوں نے بھی ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور ان کے ارکان خاندان کے حق میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا میں کامیابی عطا کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT