Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں مسلم شخص کی موت کی تحقیقات

گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں مسلم شخص کی موت کی تحقیقات

حکومت راجستھان کی مرکزی وزارت داخلہ کو رپورٹ
نئی دہلی ۔ 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ کو آج حکومت راجستھان کی ایک رپورٹ موصول ہوئی، جس میں کہا گیا ہیکہ ضلع الور میں ایک مسلم شخص کو مبینہ طور پر زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کرنے کے واقعہ میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ حکومت راجستھان نے اس واقعہ کے بارے میں ایک ابتدائی رپورٹ دی ہے جس (واقعہ) میں 55 سالہ مسلم شخص پہلو خاں کو گاؤ رکھشکوں کے ایک گروپ نے یکم ؍ اپریل کو ضلع الور میں بری طرح مارپیٹ کرتے ہوئے ہلاک کردیا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس جلد وہاں پہنچ گئی تھی اور مہلوک پہلو خاں کے چار ساتھیوں کو بچاتے ہوئے زخمی حالت میں داخانہ پہنچ گیا۔ حکومت راجستھان نے کہاکہ تاحال تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور واقعہ کی تحقیقات کے لئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ یہ ٹیم ان حالات کا پتہ چلائے گی جو اس واقعہ کا سبب بنے تھے۔ ذرائع نے رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ پولیس ٹیم ماباقی ملزمین کی گرفتار کی کوشش کرے گی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب 16 افراد چھ پک اپ ویانس کے ذریعہ 36 مویشیوں کو منتقل کررہے تھے۔ پولیس نے کہاکہ الور کے بیہور ٹاؤن میں چند مقامی افراد نے پہلوخاں کو بری طرح مارپیٹ کے ذریعہ ہلاک کردیا تھا اور ان کے چار ساتھیوں کو جن میں ان کے دو بیٹے بھی شامل تھے، اس حملے میں زخمی کردیا تھا۔ اس بہیمانہ واقعہ کے خلاف احتجاج سے گذشتہ روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوان دہل گئے تھے۔ کانگریس نے بی جے پی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس پر اپنی زیرحکمرانی ریاستوں میں گاؤرکھشا کے نام پر دستور کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

 

ذبیحہ گاو اور طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر ملک کی فضا کو مکدر  کرنے کی کوشش :آل انڈیا مسلم کانفرنس
نئی دہلی،7اپریل(سیاست ڈاٹ کام)اس استدلال کے ساتھ کہ مسلمانوں کو تین طلاق کا حق مذہبی طور سے دیا گیا ہے آل انڈیا مسلم کانفرنس نے الزام لگا یا ہے کہ کچھ لوگ ذبیحہ گاو اور تین طلاق کا مسئلہ اٹھاکر ملک کی فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔کانفرنس کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کسی بھی مذہبی معاملے میں مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اسلام میں خواتین کو جو حقوق اور درجات دے ئے گئے ہیں، وہ کسی مذہب میں نہیں پائے جاتے اور جہاں تک تین طلاقوں کا تعلق ہے تو اس کا استعمال بہت ہی کم یاناگہانی صورت میں ہوتا ہے ۔یہ اطلاع کانفرنس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید عبداللہ مدنی نے دی۔

TOPPOPULARRECENT