Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / گاؤ کشی کے نام پر تاجرین کو ہراساں کرنے کے خلاف نمائندگی

گاؤ کشی کے نام پر تاجرین کو ہراساں کرنے کے خلاف نمائندگی

الحاج محمد سلیم کی قیادت میں ریاستی وزراء سے جمعیت القریش حیدرآباد کے وفد کی ملاقات
حیدرآباد۔9 اگسٹ ( سیاست نیوز ) گاؤکشی کے نام پر تاجرین کو عیدالاضحی سے قبل یا بڑے جانور کی منتقلی کے دوران ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ ریاستی وزراء مسٹر ہریش راؤ اور مسٹر ٹی سرینواس یادو وزیر انیمل ہسبنڈری نے آج جمیعت القریش حیدرآباد کے وفد کو اس بات کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ فرضی گاؤ رکھشک کی جانب سے کی جانے والی ہراسانی سے قریش برادری کو نجات دلوائی جائے گی اور بڑے جانور کی تجارت میں رکاوٹیں پیدا کر نے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ جناب الحاج محمد سلیم رکن قانون ساز کونسل و صدر جمیعت القریش حیدرآباد نے آج ریاستی وزراء اور ڈائیریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر انوراگ شرما سے ملاقات کرتے ہوئے بڑے جانور کی منتقلی کے دوران پیش آنے والے واقعات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ شہر کے نواحی علاقوں میں شر پسند عناصر گائے کے نام پر بیل ‘ بچھڑے اور بھینس کو بھی گاؤ شالہ منتقل کر رہے ہیں اور انہیں دوبارہ بازاروں میں فروخت کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تاجرین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جناب الحاج محمد سلیم نے بتایا کہ ریاست میں بڑے جانور کی منتقلی کے دوران پیش آرہے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے جسے روکنا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا کام ہے۔

 

اس موقع پر صدر جمیعت القریش کے ہمراہ جناب محمد عبدالقادر قریشی جنرل سیکریٹری‘ نائب صدور جناب محمد محمود قریشی ‘ جناب محمد بشیر الدین قریشی ‘ جناب محمد معین الدین قریشی  ‘خازن جناب محمد اسمعیل قریشی ایڈوکیٹ جوائنٹ سیکریٹری محمد نذیرالدین قریشی ‘ منا چودھری اور دیگر موجود تھے۔ جناب الحاج محمد سلیم نے بتایا کہ دونوں ریاستی وزراء نے تیقن دیا کہ ریاست کے کسی بھی مقام پر اس طرح کے واقعات نہ پیش آئیں اس کے لئے خصوصی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی جی پی کو یادداشت کی حوالگی کے موقع پر مسٹر شیودھر ریڈی بھی موجود تھے اور جمیعت کی جانب سے انہیں بھی مکمل تفصیلات سے واقف کروایا گیا۔ مسٹر ہریش راؤ نے اس بات کا تیقن دیا کہ ریاست میں بڑے جانور کے تاجرین جو کہ قوانین کے مطابق بیل اور بھینس کے گوشت کا کاروبار کرتے ہیں انہیں کسی قسم کی ہراسانی نہیں ہوگی۔ جمیعت القریش کے وفد نے وزراء کو گاؤرکھشک کے نام پر جاری کاروبار کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ قریش برادری کی جانب سے دیہی علاقوں میں موجود جانور خریدے جاتے ہیں اور ان جانوروں کو فروخت کرنے والے اکثر غیر مسلم ہوتے ہیں او ران غیر مسلم کسانوں سے خریدے گئے جانوروں کو گاؤ رکھشک کی ٹولیاں زبردستی چھین لیتی ہیں اور انہیں گاؤ شالہ منتقل کیا جاتا ہے جہاں سے یہ جانور دوبارہ بازار میں فروخت کیلئے لایا جاتا ہے۔ جناب الحاج محمد سلیم نے کہا کہ ریاست میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی ایک سیکولر حکومت ہے اور انہیں اس بات کی توقع ہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت کام کر رہی حکومت میں جمیعت القریش کے علاوہ عیدالاضحی کے موقع پر کاروبار کرنے والے تاجرین کو کسی قسم کی ہراسانی نہیں ہوگی اور حکومت کے ذمہ دار وزراء کی جانب سے اس خصوص میں با ضابطہ ہدایات جاری کی جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT