Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / گائے تحفظ کے نام پر حملوں کے خلاف دلت برہم

گائے تحفظ کے نام پر حملوں کے خلاف دلت برہم

وقار حسن
گاؤ تحفظ کے نام پر مسلمانوں پر حملے کئے گئے ، اب دلتوں کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے ، خاص کر بی جے پی برسر اقتدار ریاستوں میں اس طرح کے واقعات زیادہ پیش آرہے ہیں۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے گجرات کے علاقہ اونا میں پیش آئے شرمناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے راجیہ سبھا میںان خیالات کا اظہار کیا۔ 11جولائی کو گاؤ رکھشا گروپ جس میں مقامی شیوسینا قائد شامل تھے نے مردہ گائے کا چمڑا اتارنے والے دلتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعہ کے بعد متاثرہ دلتوں نے ان کے ساتھ کئے گئے غیر انسانی اور بے رحمانہ سلوک سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کی کوشش کی۔ اس واقعہ نے سارے ملک کے ضمیر خاص کر دلت طبقہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس کے ردعمل کے طور پر گجرات کے کئی اضلاع میں دلتوں نے پرتشدد احتجاجی مظاہرے کئے۔ دلتوں نے مردہ گایوں کی کھال اتارنے سے انکار کردیا۔ سرکاری دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے ، ملک میں ذات کے نام پر امتیازی سلوک کے خلاف دلتوں کا یہ ایک بڑا مظاہرہ تھا۔ دلتوں نے پہلی بار اعلیٰ ذات کے خلاف اس قدر بڑا احتجاج درج کروایا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دلت کیوں اس قدر برہم اور غم و غصہ میں تھے؟۔
ایسا لگتا تھا جیسے پریشر کوکر پھٹ چکا ہے۔ دلتوں کے خلاف امتیازی سلوک، ظلم و زیادتی ملک میں دو ہزار برسوں سے ہوتی آرہی ہے۔ منو سمرتی کے وقت سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ دلتوں کے خلاف امتیازی سلوک ہر دور میں جاری رہا۔ آج کے حالات بتاتے ہیں کہ ملک میں جیسے دلت انقلاب کی آمد آمد ہے۔ احمد آباد میں مقیم دلت حق رکھشک منچ کے راجو سولنکی نے یہ بات بتائی۔
آیا کون اس دلت انقلاب کی مدد کررہا ہے؟ کون اس مدافعت کی قیادت کررہا ہے؟ ان سوالات کے جواب حل طلب ہیں۔ سولنکی کی نظر میں یہ دلت مدافعت غیر مرکوزیت پر مبنی ہے۔ جبکہ خود دلت عوام اس کی قیادت کررہے ہیں۔ صدیوں سے اعلیٰ ذات طبقہ کے ظلم و ستم امتیازی سلوک کے شکار دلت رہے ہیں۔ اس مسئلہ پر سیاست کرنے پر انہوں نے راہول گاندھی اور اروند کجریوال کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سولنکی کہتے ہیں دلتوں کے معاملہ میں مذکورہ بالا قائدین اور نریندر مودی کے درمیان کوئی زیادہ فرق نہیں ہے کوئی سیاست قائد سماج کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے نظریہ سے نہیں دیکھتا۔
گائے کے نام پر دہشت گردی سے متاثر ہونے والے زیادہ مسلم ہیں۔ میڈیا کی جانب سے پچھلے دو سال کے دوران گاؤ رکھشا کے نام پر ہراسانی، اموات، زدوکوبی کے کئی واقعات سامنے لائے گئے۔ ان میں سے چند واقعات نے قومی اور بین الاقوامی طور پر توجہ اپنی جانب مرکوز کی ۔ دادری میں محمد اخلاق کو زدوکوب کرکے ہلاک کردینے کا واقعہ اور جھار کھنڈ میں مویشی تاجرین کو درخت سے لٹکاکر مارڈالنے کا واقعہ جو صرف تحفظ گاؤ کے نام پر پیش آئے جو انتہائی شرمناک اور دردناک مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایک واقعات میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں جس میں گاؤ تحفظ کے نام پر ہراسانی سے ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔ حکومت یا عدالت اس طرح کے واقعات کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس طرح کے واقعات کی کوئی مذمت نہیں کی اور نہ ہی پرتشدد گروپوں سے اس طرح کے غیر قانونی اور غیر انسانی حرکات سے باز آجانے کی کوئی خواہش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی گائے کے نام پر پیش آئے واقعات پر اپنے لبوں کو مہر بند رکھا ہے ۔ دوسری جانب ان کابینی وزراء اور پارٹی ارکان نے گائے تحفظ کے نام پر ہلاکتوں پر متنازعہ بیان دیا جس کو اپوزیشن جماعتوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
بی جے پی نے گائے تحفظ اور بیف کے نام پر سیاست کا کھیل کھیلا ۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی حکومت نے بیف پر پابندی عائد کی۔ گاؤ تحفظ کے نام پر دلتوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد آر ایس ایس نے خود انپے ہی طبقہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم آر ایس ایس نے گائے کے نام پر ملک میں مسلمانوں کے خلاف ہورہے ظلم و زیادتی پر تنقید نہیں کی ہے۔ دلت طبقہ نے ان پر ہورہے ظالمانہ حملوں اور ظلم و ستم کے خلاف شدید احتجاج درج کیا جبکہ مسلم طبقہ اس سے قاصر رہا تاہم گجرات کے مسلمانوں نے دلت احتجاج میں ان کا ساتھ دیا۔
حکومت کو چاہیئے کہ وہ گائے کے نام پر مخصوص طبقات کے خلاف حملوں، ظلم و زیادتی کو روکنے کیلئے سخت کارروائی کریں۔ اس طرح کے واقعات ملک میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ خاطیوں کو سزا دے۔ اس معاملہ میں ہم ہمارے دلت بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ صدر جماعت اسلامی ہند گجرات شکیل احمد راجپوت جو کہ ایک مسلم وفد کے ہمراہ اونا دلت واقعہ کے سلسلہ میں احمد آباد ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کے بعد ان خیالات کا اظہار کیا۔ گائے کے تحفظ کے نام پر پیش آئے تمام واقعات میں مماثلت پائی جاتی ہے جبکہ اس دوران ظلم و زیادتی اور بربریت انتہائی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اس دوران زیادہ اوسط اور کمزور طبقات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کہانی کا دردناک پہلو یہ ہے کہ غیر انسانی جرائم کو انجام دینے والے خاطی بے خوف و خطر گھوم رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT