Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / گائے کی ہلاکت پر سزا کا دوہرا معیار

گائے کی ہلاکت پر سزا کا دوہرا معیار

اعلیٰ ذات ہندو کی گنگا میں ڈبکی ، مسلمان زدوکوب سے ہلاک
بھوپال۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک اعلیٰ ذات کا 40 سالہ ہندو الہ آباد جاچکا ہے تاکہ گنگا میں مقدس ڈبکی لگاکر خود کو پاک کرسکے، کیونکہ اس نے ایک مسلم ذات کے دیہاتی کی ملکیت گائے کو ہلاک کردیا تھا۔ یہ واقعہ ضلع ٹیکم گڑھ کے دیہات دمبھر میں پیش آیا۔ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے بموجب نچلی ذات کا دیہاتی شنکر اہیر وار اپنی گایوں کو چرنے کیلئے دیہات کے مضافات میں لے گیا تھا، لیکن اس کی گائے موہن تیواری کے والد کی ملکیت کھیتوں میں چلی گئیں۔ اس پر تیواری برہم ہوگیا اور برہمی کے عالم میں اس نے مبینہ طور پر ایک گائے پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا۔ جب برہمن طبقہ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے موہن کو گنگا میں مقدس ڈبکی لگانے اور دیہی عوام کیلئے دعوت کے اہتمام کا حکم دیا۔ ہندو روایات کے مطابق اسے ’’پرائشچت‘‘ کرنا تھا چنانچہ تیواری نے اپنے بیٹے کو دریائے گنگا میں مقدس ڈبکی لگانے کیلئے الہ آباد بھیج دیا۔ ابتداء میں اہیروار نے پولیس میں شکایت درج نہیں کرائی لیکن جب اس واقعہ کی اطلاع بجرنگ دل اور بجرنگ سینا کے کارکنوں کو ملی تو انہوں نے اہیروار کو پولیس میں شکایت درج کروانے پر مجبور کیا چنانچہ تیواری نے قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 429 (مویشیوں کی دیکھ بھال یا شرارتاً ہلاکت) اور مدھیہ پردیش تحفظ گاؤ قانون کی دفعہ 6 کے تحت شکایت درج کروائی۔

 

گایوں کا ہی نہیں کسانوں کا تحفظ بھی ضروری : شیوسینا
نئی دہلی۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام)گاؤ رکھشکوں کی جانب سے زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کردینے کے مبینہ واقعات کے پس منظر میں برسراقتدار بی جے پی کی حلیف شیوسینا نے آج کہا کہ گایوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کسانوں کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔ راجیہ سبھا میں زرعی بحران کے موضوع پر ایک مختصر مباحث میں شرکت کرتے ہوئے شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے یہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ہمارے ملک میں گاؤ رکھشا کا مسئلہ زیربحث ہے۔ ہمیں ایسا ضرور کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہمارا مذہبی عقیدہ اور فرض ہے لیکن ہمارے کسان مر رہے ہیں ، ان کے خاندان مر رہے ہیں۔ وہ خودکشی کررہے ہیں۔ ہمیں ان کی بھی دیکھ بھال کرنی چاہئے۔ اس کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔

 

 

TOPPOPULARRECENT