Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / گائے کے تحفظ میں توسیع یا مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف بالواسطہ جنگ

گائے کے تحفظ میں توسیع یا مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف بالواسطہ جنگ

مویشی بازاروں میں گائے اور بھینس کی ذبیحہ کیلئے فروخت پر امتناع
ایک لاکھ کروڑ روپئے کاروبار کرنے والی گوشت کی صنعت بری طرح متاثر اور غریب کسانوں کو پریشانی
نئی دہلی ۔ 26 مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے ملک بھر میں مویشیوں کے بازاروں میں گائے اور بھینسوں کو ذبیحہ کیلئے فروخت پر امتناع کردیا ہے۔ اس اقدام سے کروڑوں غریب کسان مالی مصائب کا شکار ہوں گے اور ملک میں گوشت کی صنعت کو پہنچنے والی رسدات بری طرح متاثر ہوں گی۔ تاہم نئے قوانین کا مطلب مویشیوں کی تجارت یا ذبیحہ پر مکمل امتناع نہیں ہے مرکزی وزیر ماحولیات ہریش وردھن نے یہ اعلامیہ جاری کیاہے جس میں جانوروں سے بے رحمی کے انسداد سے متعلق قانون کی دفعات (مویشیوں کے بازاروں میں ضابطگی) کو مزید سخت بنادیا گیا ہے اور جانوروں سے بے رحمی کے انسداد کو یقینی بنانے کیلئے سخت احکام جاری کئے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ یہ دفعات صرف مویشیوں کے بازاروں میں رکھے جانے والے جانووں اور اس ضمن  میں ضبط شدہ جانوروں کے سلسلہ میں لاگو ہوں گے اور دیگر جانوروں پر ان کا اطلاق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مویشیوں کے سینگوں کو رنگ کرنے پربھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ پولٹری کے سواء دیگر جانوروں بالخصوص مویشیوں کو وزن کیلئے زمین کی سطح سے اٹھانے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہیکہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مویشیوں کے بازار میں جانوروں کو نہیں لاسکتے جب تک وہ مویشیوں کے مالک کی تصاویر، شناختی ثبوت اور تحریری اقرار نامہ پیش نہیں کرتا۔ کم عمر مویشیوں بچھڑوں کو مویشیوں کے بازار میں لانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جانوروں کی شناخت کیلئے ان کے جسم پر داغ دینے یا کان کترنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ مویشیوں کی نسل کی افزائش کا لائسنس بدستور برقرار رہے گا جس کے باوجود ملک میں ایک لاکھ کروڑ روپئے کا کاروبار کرنے والی گوشت کی صنعت اور اس کی معاون صنعتوں کو پہنچنے والی رسدات میں نمایاں کمی ہوگی جہاں کی 90 فیصد ضروریات کی تکمیل مویشیوں کے ان بازاروں میں ہی ہوا کرتی ہے جہاں اب گایوں اور بھینسوں کو ذبیحہ کے لئے فروخت کرنے پر امتناع عائد کردیا گیا ہے۔

نئے قانون سے بدترین  متاثرہ افراد میں اکثر مسلمان ہی ہوں گے جو گوشت اور چمڑے کے کاروبار سے منسلک ہیں اور آئے دن انہیں گاؤرکھشا کے نام پر دائیںبازو کے جنونیوں کی دہشت گردی کا سامنا ہے جو ان مسلم تاجرین کو بسااوقات جان لیوا حملوں کا نشانہ بھی بنارہے ہیں۔ علاوہ ازیں  وہ تمام کسان بھی دودھ نہ دینے والی (سوکھی) اور بوڑھی گائے بھینسوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم ہوں گے۔ ہندوؤں کی طرف سے مقدس سمجھی جانے والی گائے اب ایک حساس سیاسی مسئلہ بن گئی ہے اور بالخصوص 2014ء میں وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بی جے پی زیرقیادت کئی ریاستیں گاؤکشی پر سخت سزائیں دینے سے متعلق قوانین نافذ کی ہیں لیکن اکثر سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ گائے اور چند دیگر مویشیوں کے تحفظ میں توسیع دراصل دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف ایک بالواسطہ جنگ کے مترادف ہے، جس کی مثال حالیہ عرصہ کے دوران کئی مقامات پر گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں مسلمانوں اور دلتوں کو زدوکوب سے ملتی ہے۔ راجستھان میں اپریل کے دوران دودھ کے ایک تاجر (ڈیری فارم) پہلو خاں کو پرتشدد گاؤ رکھشکوں نے مار مار کر ہلاک کردیا تھا۔ گجرات کے اونا علاقہ میں گذشتہ سال نام نہاد گاؤرکھشکوں نے دلتوں کو کوڑے لگائے تھے۔ کیرالا اور چند شمالی مشرقی ریاستوں کے سواء دیگر تمام ریاستوں میں دودھ دینے والی گایوں کے ذبیحہ پر امتناع ہے۔ حکومت کیرالا نے گایوں کی فروخت پر امتناع سے متعلق مرکز کے قانون کو فاشست اقدام قرار دیا ہے۔ اس مرکزی اعلامیہ کے تحت بین الاقوامی سرحد سے 50 کیلو میٹر کے فاصلہ پر اور ریاستی سرحد سے 25 کیلو میٹر کے فاصلہ پر مویشیوں کے بازار کے قیام پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

 

مویشیوںکی خرید و فروخت پر مرکز کے امتناع کی اپوزیشن مخالف
تروواننتاپورم ۔/26 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سی پی ایم زیرقیادت ایل ڈی ایف حکومت نے کیرالا میں اور کانگریس زیرقیادت یو ڈی ایف حکومت نے مرکز پر مویشیوں کے ذبیحہ کے مقصد سے خرید و فروخت پر امتناع عائد کرنے کی سخت مخالفت کی ۔ چیف منسٹر پی وجین نے کہا کہ مرکز کا فیصلہ حیرت انگیز اور ایک جمہوری ملک کیلئے نامناسب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا حق نہیں کہ وہ عوام کے غذائی انتخاب پر امتناع عائد کرے ۔ اس فیصلہ کے ساتھ مرکز ہزاروں افراد کو بے گھر کررہی ہے ۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا مویشیوں کے بعد مچھلی کی خرید و فروخت پر بھی امتناع عائد کیا جائے گا ۔ صدر پردیش کانگریس ایم ایم ہاسن نے بھی مرکز کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستور کی خلاف ورزی اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر غاصبانہ قبضہ ہے ۔ تاہم مرکز کے فیصلہ کی صدر ریاستی بی جے پی کے راج شیکھرن نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اعلامیہ کو مسخ کرکے پیش کررہے ہیں ۔ صرف ذبیحہ کیلئے مویشیوں کی فروخت پر امتناع عائد کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT